Book Name:Akhlaq us Saliheen

اوراپنی بی بی کو اشارہ کیا کہ وہ چراغ بجھادے  ۔ اس نے بجھادیا مہمان کے ساتھ وہ انصاری آپ بیٹھ گئے اور منہ کے ساتھ چپ چپ کرتے رہے جس سے مہمان نے سمجھا کہ آپ بھی کھا رہے ہیں وہ سب کھانا اسی مہمان کو کھلادیا خود بمعہ بی بی اور عیال بھوکے سورہے اس پریہ آیت نازل ہوئی 

وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (پ۲۸، الحشر:۹)

ترجمہ کنزالایمان : اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (تفسیر ابن کثیر، ج۸، ص۱۰۰)

        اسی طرح ایک بکری کی سری ایک صحابی کے پاس صدقہ آئی تو آپ نے فرمایا کہ فلاں صحابی مجھ سے زیادہ غریب ہے اس کو دے دو  ۔ چنانچہ اس کے پاس لے گئے  ۔ اس نے دوسرے کے پاس بھیج دی  ۔ اس دوسرے نے آگے تیسرے کے پاس یہاں تک کہ پھرتے پھرتے پھر پہلے کے پاس آگئی ۔(المستدرک للحاکم، تفسیر سورۃ الحشر، قصۃ ایثار الصحابۃ، الحدیث۳۸۵۲، ج۳، ص۲۹۹)

        صحابہ کرام میں تو یہاں تک ایثار تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی مہاجرین کو اپنی سب جائداد نصف نصف تقسیم کردی ۔ بلکہ جس کے پاس دو بیویاں تھیں انہوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے بھائی مہاجرکے نکاح میں دے دی  ۔ اللہ  اکبر ! یہ اخوت وہمدردی جس کی نظیر آج دنیا میں نظر نہیں آتی ۔

         جنگ یرموک میں ایک زخمی نے پانی مانگا ایک شخص پلانے کو آگے ہوا تو ایک دوسرے زخمی کی آواز آئی کہ ہائے پانی  ۔ زخمی نے کہا کہ اس بھائی کو پہلے پانی پلادو  ۔ وہ شخص آگے لے کر گیا تو ایک اور نے آواز دی کہ پانی ! اس نے بھی کہا کہ اس کو پہلے پانی پلاؤ ۔ پھر آگے گیا تو ایک اور آواز آئی اس نے کہا کہ اس کو پانی پلاؤ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو وہ شہید ہوگیا تھا ۔ پھر دوسرے کے پاس آیا تو وہ بھی شہید ہوگیا تھا ۔

 اسی طرح سب کے سب شہید ہوگئے ۔مگرکسی نے پانی نہ پیا  ۔ اپنی جان کی پروانہ کی سب نے دوسرے بھائی کے لئے ایثار کیا ۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحشر، تحت الآیۃ ۹، ج۸، ص۱۰۰)

        اسی طرح چند درویش جاسوسی کی تہمت میں پکڑے گئے سرکاری حکم ہوا کہ ان کو قتل کیا جائے جب قتل کرنے لگے تو ہر ایک نے یہی تقاضا کیا کہ پہلے مجھے قتل کیا جائے تاکہ ایک دو دم زندگی کے دوسرا بھائی حاصل کرے اور میں اس سے پہلے مارا جاؤں ۔ بادشاہ نے یہ ایثار دیکھا ، سب کو رہا کردیا ۔

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) (پ۲۹، الدھر:۸)

ترجمہ کنزالایمان :اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو۔

 کی تفسیر میں حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   اور صاحبزادگان کا تین دن روزہ رکھنا اور بوقت افطار مسکین کا سوال کرنا ، دوسرے روز کسی یتیم کا سوال کرنا، تیسرے روز کسی قیدی کا اور آپ کا اپنی بھوک اوراپنے عیال کی بھوک کی پروانہ کرنااور سائلین کو دے دینا اعلیٰ درجہ کا ایثار ہے ۔ (تفسیر کبیر، ج۱۰، ص۷۴۶ملخصًا)

 اللہ  تَعَالٰی مسلمانوں کو توفیق دے ۔

ترک ِ نفاق

        سلف صالحین کی عادتِ مبارکہ میں ترک نفاق بھی تھا ان کا ظاہر و باطن عمل خیر میں مساوی ہوا کرتا تھا  ۔ ان میں سے کوئی ایسا عمل نہیں کرتا تھا جس کے سبب آخرت میں فضیحت ہو  ۔ حضرت خضر علیہ السلام عمربن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے ساتھ مدینہ مشرفہ میں جمع ہوئے عمربن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں تو آپ نے فرمایا:’’ایاک یا عمر ان تکون ولیا للّٰہ فی العلا نیۃ و عدوا لہ فی السر‘‘ کہ اے عمر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ        اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تووہ منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔

                          (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساوا تہم السر والعلا نیۃ، ص۳۹)

        مہلب بن ابی صفرہ فرمایا کرتے تھے:’’ انی لاکرہ الرجل یکون للسانہ فضل علی فعلہ‘‘(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساوا تہم السر والعلا نیۃ، ص۴۰)

کہ میں ایسے شخص کو بنظر کراہت دیکھتا ہوں جس کی زبان کو اس کے فعل پر فضیلت ہو  ۔ یعنی اس کے اقوال تو اچھے ہوں لیکن افعال اچھے نہ ہوں ۔

        عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے کہ امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جس مرتبہ کو پہنچے اس لئے پہنچے ہیں کہ جس شے کا آپ نے کسی کو حکم دیا ہے  ۔ سب سے پہلے آپ نے اس پر عمل کیا ہے اور جس شے سے کسی کو منع کیاہے سب سے پہلے خود اس سے دور رہے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ ہم نے کوئی آدمی حسن بصری سے زیادہ اس امرمیں نہیں دیکھا کہ اس کا ظاہر اس کے باطن کے ساتھ مشابہ ہو ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساوا تہم السر والعلا نیۃ، ص۴۰)

      معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے ’’بکاء القلب خیر من بکاء العین‘‘ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۰)

آنکھوں کے رونے سے دل کا رونا بہتر ہے  ۔ مروان بن محمدکہتے ہیں کہ جس آدمی کی لوگوں نے تعریف کی، میں نے اس کو ان کی تعریف سے کم پایا مگر وکیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو کہ ان کو میں نے لوگوں کی تعریف سے زیادہ پایا۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۰)

        عتبہ بن عامر کہتے ہیں جب کسی بندہ کا ظاہر اور باطن یکساں ہوتو اللہ  تَعَالٰی اپنے فرشتوں کو فرماتا ہے:’’ھذا عبدی حقًا‘‘یہ میرابندۂ حقیقی ہے۔   

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۰)