Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(الدرالمنثورفی التفسیر المأثور،سورۃ الحجرات،آیت۱۲،ج۷،ص۵۶۶)

{27}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تمہیں بد گمانی پیداہو تو اس پریقین نہ کرو، جب تم حسد کرو تو حد سے نہ بڑھا کرو، جب تمہیں کسی کام کے بارے میں بدشگونی پیداہو تو اسے کر گزرو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّپربھروسہ رکھو اور جب کوئی چیز تولو تو زیادہ تول دیا کرو۔ ‘‘      (جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال ،الحدیث: ۱۵۷۷،ج۱،ص۲۳۷)

{28}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں سے منہ پھیر لو کیا تم نہیں جانتے کہ اگرتم لوگوں میں شک کو تلاش کرو گے تو انہیں خراب کر دوگے یافسادمیں ڈال دو گے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۸۵۹،ج۱۹،ص۳۶۵)

{29}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لالچ ایسی پھسلانے والی چٹان ہے جس پرعلما ء بھی ثابت قدم نہیں رہتے۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،باب الطمع، الحدیث: ۷۵۷۹،ج۳،ص۱۹۹)

{30}…نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی تین چیزوں سے پناہ مانگو:   (۱) ایسی خواہش سے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو  (۲) ایسی خواہش سے جو عیب دار کر دے  (۳) ایسے عیب سے جس کی خواہش کی جاتی ہو، ایسی خواہش سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگوجوعیب بن جائے اور ایسے عیب سے جو خواہش بن جائے۔ ‘‘  (المرجع السابق،الحدیث: ۷۵۸۰،۷۵۸۱)

{31}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگو ایسی خواہش سے جو عیب میں ڈال دے اور ایسی خواہش سے جو دوسری خواہش میں ڈال دے اور بے فائدہ چیزکی خواہش سے۔ ‘‘

 (المسندلامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، الحدیث: ۲۲۰۸۲،ج۸،ص۲۳۷،یھوی بدلہ  ’’ یھدی ‘‘ )

{32}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خواہشات سے بچتے رہوکیونکہ یہ بہت بری تنگدستی ہے اور ایسے کاموں سے بچو جن پر عذر پیش کرنا پڑے۔ ‘‘       (المعجم الاوسط،الحدیث: ۷۷۵۳،ج۵،ص۴۰۳)

{33}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں کے مال سے مایوس ہونے کو خود پر لازم کر لو، خواہش سے بچتے رہوکیونکہ یہ بہت بری تنگدستی ہے، اس طرح نماز پڑھو جیسے تم دنیا سے جدا ہو رہے ہو اور ایسے کاموں سے بچتے رہوجن پرعذرپیش کرناپڑے۔ ‘‘      (المستدرک،کتاب الرقاق،باب ایاک والطمعالخ،الحدیث: ۷۹۹۸،ج۵،ص۴۶۵)

خواہشات اور لمبی اُمیدوں کی مذمت

{34}…حضور نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دوچیزوں کی محبت میں بوڑھے کادل بھی جوان ہوتاہے اور وہ لمبی امیداور مال ہیں ۔ ‘‘     (کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: ۷۵۶۷،ج۳،ص۱۹۸)

{35}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کیا تم اُسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینے کے اُدھار پرسودا کرتا ہے، بے شک ا ُسامہ لمبی اُمید والا ہے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوں کہ کہیں میری پَلکیں کھلنے سے پہلے ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میری روح قبض نہ فرما لے اور جب اپنی پلکیں اٹھاتا ہوں تو یہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں انہیں جھکانے سے پہلے ہی موت کاوعدہ نہ آجائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو یہ گمان کرتاہوں کہ موت کااُچھو لگنے (یعنی موت آنے )  سے پہلے اسے نہ نگل سکوں گا، اے لوگو!  اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات ِپاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  بے شک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گا اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ۔ ‘‘                               (المرجع السابق،الحدیث: ۷۵۶۸)

{36}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ مجھے اپنی اُمت پرجن چیزوں کاخوف ہے ان میں سے خوفناک چیز نفسانی خواہش اور لمبی امیدہے۔ ‘‘               (الکامل فی ضعفاء الرجال،علی بن ابی علی، ج۶،ص۳۱۶)

{37}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بوڑھے کادل دوچیزوں یعنی نفسانی خواہش اور لمبی اُمیدمیں جوان ہی رہتاہے۔ ‘‘  (صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃالخ،الحدیث: ۶۴۲۰،ص۵۳۹)

({38}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :  ’’ اگر میرے بندے کا گناہ میں پڑ جانا اس کے اپنی نیکی کوپسندکرنے  (یعنی خود پسندی میں مبتلا ہونے)  سے بہتر نہ ہوتا تو میں اپنے مؤمن بندے کو ہر گز گناہ نہ کرنے دیتا۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،باب العجب، الحدیث: ۷۶۶۹،ج۳،ص۲۰۶)

{39}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ اگرمؤمن اپنے عمل کو پسند نہ کرتا تو اسے گناہوں سے بچا لیا جاتا یہاں تک کہ اسے گناہ کا خیال تک نہ آتا، لیکن مؤمن کا گناہ میں پڑ جانا عُجب میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے۔ ‘‘                           (المرجع السابق،الحدیث: ۷۶۷۰)

{40}…نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اس بات میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں کہ بندہ اپنی زبان سے کوئی فیصلہ کرے اور دل میں اس پر خوش ہو۔ ‘‘                (المرجع السابق،الحدیث: ۷۶۷۱)

{41}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے بدترین لوگ وہ ہیں جواپنی دینداری پر خوش ہوتے ہیں ، اپنے عمل میں دکھاوا کرتے ہیں اور اپنی دلیل کے ذریعے جھگڑا کرتے ہیں حالانکہ دکھاوا شرک ہے۔ ‘‘