Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

٭…بندہ اچھے اخلاق سے روزہ دار اور عبادت گزار کا درجہ پا لیتا ہے، نیز آخرت کے درجات اور جنت کے بالاخانوں کو پا لیتا ہے۔

٭…بداخلاقی ایساگناہ ہے جس کی بخشش نہیں ۔

٭…بندہ اس کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں پہنچ جاتاہے۔

٭…اچھا اخلاق خطاؤں کو اس طرح پگھلادیتاہے جس طرح دھوپ برف کو پگھلادیتی ہے۔

٭…خوش خُلقی (باعث) برکت ہے۔

٭…قیامت کے دن لوگوں میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سب سے زیادہ قریب وہی ہو گا جس کااخلاق سب سے اچھاہوگا۔

٭…سب سے اچھا اخلاق شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکااخلاق ہے۔

٭…سب سے افضل مؤمن وہی ہے جس کااخلاق سب سے اچھاہے۔

٭…میزان میں رکھے جانے والے اعمال میں حسن اخلاق سب سے افضل اور وزنی ہوگا۔

{17}…اُم المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں :  ’’  حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکااَخلاق قرآن تھا۔ ‘‘ قرآنِ کریم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (۱۹۹)   (پ۹، الاعراف: ۱۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب معاف کرنااختیارکرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔

{18}…اس آیتِ مبارکہ کے نزول کے بعدحضورنبی ٔکریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اس سے مرادیہ ہے کہ جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو اور جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پرظلم کرے تم اسے معاف کر دو۔ ‘‘

 (الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور،سورۃ الاعراف،آیت ۱۹۹،ج۳،ص۶۳۰)

{19}…نبی مکرم ،شفیع معظم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمان ذیشان ہے :  ’’ ابلیس اپنے چیلوں سے کہتاہے کہ ظلم اور حسد کی طلب میں انسانوں کی مدد کیا کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک شرک کے برابرہیں ۔ ‘‘

 (فردوس الاخبارللدیلمی،باب الف، فصل حکایۃ عن الانبیائ،الحدیث: ۹۲۳،ج۱،ص۱۴۴)

{20}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بغض سے بچتے رہو کیونکہ یہ دین کومونڈنے (یعنی برباد کرنے) والا ہے۔ ‘‘              (جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال الحدیث: ۹۵۱۳،ج۳،ص۴۱۹)

{21}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے وہ لوگو جو زبان سے تو اسلام لے آئے ہو مگرتمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا!  مسلمانوں کو برا مت کہو اور نہ ہی ان کے پوشیدہ معاملات کی تلاش میں رہا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملہ میں تجسس کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا پردہ فاش کر کے اس کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر میں پوشیدہ ہو۔ ‘‘  (المعجم الاوسط،الحدیث: ۲۹۳۶،ج۲،ص۱۷۸،تتبعوا بدلہ ’’  تطلبوا ‘‘ )

{22}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اے وہ لوگو جو زبانوں سے توایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا!  مسلمانوں کوایذاء مت دو، اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جواپنے مسلمان بھائی کاعیب تلاش کرے گااللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کاعیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جس کاعیب ظاہر فرما دے تو اسے رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔ ‘‘   (شعب الایمان ، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث: ۶۷۰۴،ج۵،ص۲۹۶،بتغیر)

{23}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے وہ لوگو جو زبانوں سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا!  مسلمانوں کوایذا ء مت دو، نہ ہی انہیں نقصان پہنچاؤ اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جواپنے مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرے گااللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کاعیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جس کاعیب ظاہر فرما دے تو اسے رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیامؤمن پر پردہ ہوتا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مسلمانوں پر اتنے پردے ہیں جنہیں شمارنہیں کیا جا سکتا، جب مؤمن گناہ کرتا ہے تو وہ ایک ایک کر کے ان پردوں کو چاک کر دیتا ہے یہاں تک کہ اس پر ایک بھی پردہ باقی نہیں رہتا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ملائکہ سے ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میرے بندے کے عیوب لوگوں سے چھپا دو کیونکہ وہ اسے عار تو دلائیں گے مگر بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ‘‘  تو ملائکہ اپنے پروں سے ڈھانپنے کے لئے اسے گھیرلیتے ہیں ، پھر اگر وہ گناہ جاری رکھتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں :  ’’ اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ !  یہ ہم پر غالب آ گیا ہے اور ہمیں نجاست سے آلودہ کر دیا ہے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ملائکہ سے ارشاد فرماتاہے :  ’’ اسے کھلا چھوڑ دو پھر اگر وہ کسی تاریک رات میں تاریک مکان کی اندھیری کوٹھری میں بھی کوئی گناہ کرتا ہے، تو بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کو اور اس کے عمل کو ظاہر کر دیتا ہے۔ ‘‘          (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،باب تتبع العورات، الحدیث: ۷۴۲۴،ج۳،ص۱۸۴)

{24}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں سے تعریف کاخواہاں رہنا انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔ ‘‘                         (فردوس الاخبار،باب الحائ،الحدیث: ۲۵۴۸،ج۱،ص۳۴۷)

{25}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب قیامت کادن آئے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو بلا کر اپنی بارگاہ میں کھڑا کرے گااور اس سے اس کی دنیوی قدرو منزلت کے بارے میں اسی طرح مؤاخذہ فرمائے گاجیسے اس کے مال کے بارے میں مؤاخذہ فرمائے گا۔ ‘‘

 (جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال ،الحدیث: ۱۷۵۲،ج۱،ص۲۶۱)

بدگمانی ،لالچ ،شک وغیرہ کی مذمت

{26}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اپنے بھائی سے بدگمانی کی بے شک اس نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے بدگمانی کی، کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:  

اِجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-  (پ۲۶، الحجرات:

Total Pages: 320

Go To