Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور تواضع:

                امیرالمومنین حضرت سیدنا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ بندہ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی لگام  (ایک مقرر فرشتے کے ذریعے) بلند فرما دیتا ہے،  (پھر وہ فرشتہ)  کہتا ہے :  ’’ عاجزی اختیار کر، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھے بلندی عطا فرمائے گا۔ ‘‘ اور جب بندہ تکبراور سرکشی کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے  (اسی مؤکل فرشتے کے ذریعے )  سختی سے زمین پرپٹخ دیتا ہے اور  (وہ فرشتہ اس بندے سے) کہتا ہے :  ’’ دور ہو جا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھے رسوا کرے۔ ‘‘  حالانکہ وہ اپنے دل میں خود کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے جبکہ لوگوں کی نظروں میں حقیرہوتا ہے یہا ں تک کہ وہ ان کے نزدیک خنزیر سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ ‘‘

اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  اور تواضع:

                اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  ’’ تواضع کرنا افضل عبادت ہے۔ ‘‘

حضرت سیدنافُضَیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاور تواضع:

                حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’  تواضع یہ ہے کہ تم حق کے آگے جھک جاؤاور اس کی پیروی کرو اور اگرتم سب سے بڑے جاہل سے بھی حق بات سنو تواسے بھی قبول کرلو۔ ‘‘

حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  اور تواضع:

                حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  صبح کرتے تو لوگوں کے حالات جاننے کے لئے ان کے چہروں میں غور کرتے، یہاں تک کہ مساکین کے پاس جا کر بیٹھ جاتے اور ارشاد فرماتے :  ’’ مسکین، مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ ‘‘

حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور تواضع:

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:  ’’ تواضع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھرسے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اسے اپنے آپ سے افضل جانو۔ ‘‘

حضرت سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاور تواضع:

                حضرت سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے جودی پہاڑ کوسفینۂ نوح  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  ) کے ساتھ خاص فرمایاکیونکہ یہ دوسروں سے زیادہ عجز کا اظہار کرتا تھا اور حِرا پہاڑکواپنے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے ساتھ اس لئے خاص فرمایا کیونکہ یہ دوسرے پہاڑوں سے زیادہ تواضع کرتا تھا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قلب اَطہرکو اس لئے دیگرمخلوق سے ممتاز فرمایا کیونکہ یہ عجز وانکساری میں ان پر فوقیت رکھتا تھا۔ ‘‘

تواضع اور عبرت:

                ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں نے کوہ ِصفا کے قریب ایک شخص کو خچر پر سوار دیکھا، کچھ غلام اس کے سامنے سے لوگوں کو دور کر رہے تھے، پھرمیں نے اسے بغداد میں اس حالت میں پایا کہ وہ ننگے پاؤں اور حسرت زدہ تھا نیز اس کے بال بھی بہت بڑھے ہوئے تھے، میں نے اس سے پوچھا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘  تو اس نے جواب دیا :  ’’ میں نے ایسی جگہ رفعت چاہی جہاں لوگ عاجزی کرتے ہیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے ایسی جگہ رسوا کر دیا جہاں  لوگ رفعت پاتے ہیں ۔ ‘‘

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر5:            دھوکا دینا

کبیرہ نمبر6:            نفاق

کبیرہ نمبر7:            ظلم کرنا

کبیرہ نمبر8:            تکبرکی بناء پرمخلوق کو حقیرجاننا اور اس سے منہ پھیرنا

کبیرہ نمبر9:            بے فائدہ کاموں میں غوروخوض کرنا

کبیرہ نمبر10:          طمع (لالچ)

کبیرہ نمبر11:          تنگدستی کا خوف

کبیرہ نمبر12:          تقدیر پر ناراض ہونا

کبیرہ نمبر13:          مال داروں پر نظر کرنا اور مال کی وجہ سے ان کی تعظیم کرنا

کبیرہ نمبر14:          تنگد ستی کی بناء پرفقراء کا مذاق اڑانا

کبیرہ نمبر15:          حرص

کبیرہ نمبر16:          دنیاوی کاموں میں مقابلہ بازی کرنا اور اس پر فخر کرنا

کبیرہ نمبر17:          مخلوق کی خاطر حرام ذرائع سے زیب وزینت حاصل کرنا

 



Total Pages: 320

Go To