Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اس کے 70 درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں ، 70گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے 70 نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۷۴۵،ج۳،ص۵۱)

کھردرا لباس جنت کے لباس سے بدل جائے گا:

{119}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جواللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خاطرزینت ترک کر دے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر تواضع کرے اور اس کی رضا چاہتے ہوئے کھردرا لباس اپنائے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ اسے جنت کے نفیس لباس سے تبدیل فرما دے۔ ‘‘      (المرجع السابق، الحدیث: ۵۷۴۶،ج۳،ص۵۱، ’’ تبدل ‘‘  بدلہ  ’’ یکسوہ ‘‘ )

حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی تواضع:

                حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  شام کی طرف تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں گھٹنوں تک پانی تھا، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنی اونٹنی پرسوارتھے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتا رکراپنے کندھے پررکھ لئے، پھر اونٹنی کی لگام تھام کرپانی میں داخل ہو گئے تو حضرت سیدنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ اے امیرالمؤمنین!  آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  یہ کام کررہے ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ یہاں کے باشندے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو نظر اٹھا کر دیکھیں ۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ افسوس! اے ابوعبیدہ!  اگریہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں اسے اُمت محمدی علی صاحبھاالصلوٰ ۃ والسلام کے لئے عبرت بنا دیتا، ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، جب بھی ہم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ عزت کے علاوہ سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں رسوا کردے گا۔ ‘‘  

{120}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو تنگدستی نہ ہوتے ہوئے تواضع اختیار کرے اورجائز طریقہ سے حاصل کیا ہوا مال راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کرے اور محتاج ومسکین پررحم کرے اور اہل علم وفقہ سے میل جول رکھے۔ ‘‘      (المعجم الکبیر، الحدیث: ۴۶۱۶،ج۵،ص۷۲)

{121}…مروی ہے کہ  ’’ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقام قبا میں ہمارے ساتھ تھے جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزے سے تھے، افطارکے وقت ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں دودھ کا ایک برتن لے کر حاضر ہوئے جس میں ہم نے کچھ شہد بھی ملا دیا تھا، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اٹھا کر چکھا اور اس کی مٹھاس پائی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :  ’’ یہ کیا ہے؟ ‘‘  ہم نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم نے اس میں کچھ شہدملا دیا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ برتن رکھ دیا اور ارشادفرمایا :  ’’ میں اسے حرام قرار نہیں دیتا مگرجو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیارکرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے رفعت عطا فرماتا ہے، جو تکبرکرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے رسوا کر دیتا ہے، جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے غنی فرما دیتا ہے، جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے تنگدست کر دیتا ہے اور جو کثرت سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذکرکرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ ‘‘                                (اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب الذم الکبر،ج۱۰،ص۲۵۳)

{122}…اس حدیث پاک کوبزارنے بھی روایت کیا ہے مگراُس میں نہ تو مقام قبا کا ذکرہے نہ یہ الفا ظ ہیں کہ ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا کثرت سے ذکرکرتاہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ ‘‘

{123}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی حدیثِ مبارکہ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ  ’’ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں دودھ اور شہد تھا۔ ‘‘  اس کے آگے یہ الفاظ ہیں :   ’’ میں اس کو حرام نہیں جانتا۔ ‘‘  مزید آگے الفاظ یہ ہیں :  ’’ جو کثرت سے موت کا ذکر کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ ‘‘                                                      (اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب ذم الکبر،ج۱۰،ص۲۵۳)

{124}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچند صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے ساتھ کسی جگہ کھانا تناول فرمارہے تھے کہ دروازے پر ایک ایسا سائل آیا جو ایک موذی وناپسندیدہ مرض میں مبتلا تھا لیکن پھر بھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے اندرآنے کی اجازت مرحمت فرما دی، جب وہ اندر آیا توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اپنے زانو مبارک کے ساتھ ملا کر بٹھا لیا اور اس سے ارشاد فرمایا :  ’’ کھاؤ۔ ‘‘  تو قریش کے ایک شخص کو یہ بات ناگوار گزری اوراس نے نفرت کا اظہار کیا، پس وہ شخص اس وقت تک نہ مرا جب تک خود اسی موذی مرض میں مبتلا نہ ہو گیا۔ ‘‘  (المرجع السابق، ص۲۵۴)

                شیخ الاسلام زین عراقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی اصل نہیں ملی البتہ بعض ایسی روایات ملتی ہیں جن میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے کوڑھ میں مبتلا شخص کے ساتھ کھانا کھانے کا ذکرہے۔

{125}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کو اسلام کی ہدایت دے، اس کی صورت بھی اچھی بنائے، اسے ایسی جگہ رکھے جو اسے عیب دارنہ کرے اورساتھ ہی اسے تواضع بھی عطا فرمادے تو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا مخلص دوست ہی ہو سکتا ہے۔ ‘‘    (المرجع السابق، ص۲۵۶)

{126}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ چار چیزیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّاپنے محبوب بندہ ہی کو عطا فرماتا ہے:   (۱) خاموشی اور یہی عبادت کی ابتداء ہے  (۲) توکل  (۳) تواضع  (۴) اور دنیا سے بے رغبتی۔ ‘‘                                                                                                          (المرجع السابق۲۵۶)

{127}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جن تک پہنچنا عجیب ہے:   (۱) خاموشی اور یہی عبادت ابتداء ہے  (۲) تواضع (۳) ذکراللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور  (۴) کم چلنا۔

 (المعجم الکبیر،الحدیث: