Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{102}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اعتدال پسندی، میانہ روی اور اچھی نیت نبوت کے 24 اجزاء میں سے ایک جُز ہے۔ ‘‘     (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی التأنی، الحدیث: ۲۰۱۰،ص۱۸۵۳)

{103}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  عملِ آخرت کے علاوہ ہر چیز میں اعتدال پسندی اچھی چیز ہے۔ ‘‘               (المستدرک ،کتاب الایمان، باب التؤدۃ فی کل شیء ، الحدیث:  ۲۲۱،ج۱،ص۲۳۹)

{104}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حلم وتدبر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ‘‘  (مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب ماجاء فی الرفق،الحدیث: ۱۲۶۵۲،ج۸،ص۴۳)

{105}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے عائشہ!  عاجزی اپنا ؤکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّعاجزی کرنے والوں سے محبت ،اور تکبرکرنے والوں کو ناپسند فرماتاہے۔ ‘‘               (کنزالعمال،کتاب الخلافہ، قسم الافعال، باب الھدیہ، الحدیث:  ۱۴۴۷۸،ج۵،ص۳۲۷)

{106}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلند کرتا ہے اور جو تکبرکرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے رُسواکردیتا ہے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب، کتاب التوبۃ، باب الترغیب فی الزھدالخ،الحدیث: ۵۰۳۲،ج۴،ص۷۷)

{107}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے، جو خرچ میں میانہ روی اختیار کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے غنی کردیتا ہے اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذکرکرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے۔ ‘‘                       (المرجع السابق)

{108}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرمائے گا، پس وہ خود کو کمزور سمجھے گا مگر لوگوں کی نظروں میں عظیم ہو گا اور جو تکبرکرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کر دے گا، پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہو گامگرخودکو بڑا سمجھتاہو گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور خنزیر سے بھی بدتر ہو جاتاہے۔ ‘‘     (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۷۳۴،ج۳،ص۵۰)

{109}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے ہوئے تواضع اختیار کی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندفرما دے گا اور جو خود کو بڑا سمجھتے ہوئے غرور کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے رسوا کر دے گا، لوگ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کے سائے میں اپنے اعمال بجالاتے ہیں جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کو ذلیل ورسوا کرنا چاہتا ہے تواسے اپنی رحمت کے سائے سے نکال دیتا ہے، لہٰذا اس بندے کے گناہ ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال،باب التواضع،الحدیث: ۵۷۳۵،ج۳،ص۵۰)

{110}…حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تواضع بندے کی رفعت میں اضافہ کرتی ہے لہٰذاتواضع اختیارکرو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہیں رفعت عطا فرمائے گا۔ ‘‘   (المرجع السابق، الحدیث: ۵۷۱۶،ج۳،ص۴۸)

{111}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ جو میری مخلوق سے نرمی کرے اور میرے لئے تواضع اختیار کرے اور میری زمین پر تکبرنہ کرے تو میں اسے بلندی عطا کروں گا یہا ں تک کہ عِلَّیَّیْن تک پہنچا دوں گا۔ ‘‘

{112}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہرآدمی کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جس پرایک فرشتہ مقررہوتا ہے، اگر وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے رفعت وبلندی عطا فرماتا ہے اور اگر بلندی چاہتاہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کر دیتا ہے اور کبریائی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی چادر ہے، تو جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے (اس میں ) جھگڑے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کر دے گا۔ ‘‘       (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،باب التواضع،الحدیث: ۵۷۳۹،ج۳،ص۵۰)

{113}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہرآدمی کے سرمیں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ا س لگام کے ذریعے اسے بلند فرما دیتا ہے اور فرشتہ کہتاہے :  ’’ بلند ہو جا!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھے بلند فرمائے۔ ‘‘  اور جب وہ  (اکڑ کر) اپنا سر اُوپر اٹھاتا ہے تواللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اِسے زمین کی طرف پھینک دیتا ہے اور فرشتہ کہتا ہے :  ’’ پست ہو جا!  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے پست کرے۔ ‘‘    (المرجع السابق،الحدیث: ۵۷۴۰،ج۳،ص۵۰)

{114}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر انسان کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جب بندہ تواضع کرتا ہے تواس لگام کے ذریعے اُسے بلندی عطاکی جاتی ہے اور فرشتہ کہتاہے :  ’’ بلند ہوجا! اللہ  عَزَّ وَجَلَّتجھے بلند فرمائے۔ ‘‘ اور اگر وہ اپنے آپ کو (تکبرسے)  خودہی بلند کرتا ہے تووہ اُسے زمین کی جانب پست کر کے کہتا ہے :  ’’ پست ہو جا!  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے پست کرے۔ ‘‘