Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{85}…نبی کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خوشخبری ہے اس کے لئے جوعیب نہ ہونے کے باوجود تواضع اختیار کرے، سوال کئے بغیر خود کو ذلیل سمجھے، جائز طریقے سے کمایا ہوا مال راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کرے، بے سرو سامان اور مسکین لوگوں پر رحم کرے اور علم وحکمت والے لوگوں سے میل جول رکھے، خوش بختی ہے اس کے لئے جس کی کمائی پاکیزہ ہو، باطن اچھاہو، ظاہر بزرگی والا ہو اور جولوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے، اور سعادت مندی ہے اس کے لئے جو اپنے علم پر عمل کرے، اپنی ضرورت سے زائد مال کو راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کرے اور فضول گوئی سے رُک جائے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۶۱۶،ج۵،ص۷۲)

{86}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بندہ تواضع کرتاہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کادرجہ  ساتویں آسمان تک بلند فرما دیتا ہے۔ ‘‘    (کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال،باب التواضع،الحدیث: ۵۷۱۷،ج۳،ص۴۹)

{87}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ایک درجہ بلندی عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ اسے عِلِّیِّیْن میں پہنچادیتاہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،باب التواضع والکبر والعجب، ذکر الاخبارعن وضع اللہ  ،الحدیث: ۵۶۴۹،ج۷،ص۴۷۵)

{88}… حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’  (تواضع کرنے والے کو) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اَعْلٰی عِلِّیِّیْن میں پہنچا دیتا ہے اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر ایک در جہ ( یعنی تھوڑاسا) بھی تکبر کرے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ایک درجہ پستی میں گرا دیتا ہے یہاں تک کہ اسے اَسْفَلُ السَّافِلِیْنمیں پہنچا دیتاہے۔                              (المرجع السابق)

{89}…اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ،ابواب الزھد، باب البرأۃ من الکبر،الحدیث: ۴۱۷۹،ص۲۷۳۱، ’’ لایبغی ‘‘ بدلہ ’’  لایفخر ‘‘ )

{90}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جواپنے مسلمان بھائی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے اور جو اس پربلندی چاہتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے پستی میں ڈال دیتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۷۷۱۱،ج۵،ص۳۹۰)

{91}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تکبرسے بچتے رہو کیونکہ سفیدپوش آدمی بھی متکبر ہو سکتا ہے۔ ‘‘                                (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۳،ج۱،ص۱۶۶)

{92}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجلس میں کم رتبہ والی جگہ پر راضی ہو جانا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع کرنے میں سے ہے۔ ‘‘                (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۲۰۵،ج۱،ص۱۱۴)

{93}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تواضع اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بڑے مرتبہ والے بندے بن جاؤ گے اور تکبر سے بھی بَری ہو جاؤ گے۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۷۲۲،ج۳،ص۴۹)

{94}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کسی چیزکا مالک خود اس کا بوجھ اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے مگر جب وہ ضعیف ہو اور اسے اٹھانہ سکتا ہو تواس کا مسلمان بھائی بوجھ اٹھانے میں اس کی مدد کرے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۶۵۹۴،ج۵،ص۶۵)

{95}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تواضع کو لازم پکڑ لو کیونکہ تواضع دل میں ہوتی ہے اور کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ایذا ء نہ دے کیونکہ بعض اوقات کمزورنظر آنے والے لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی بات پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھالیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کی قسم ضرور پوری فرماتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۷۶۸،ج۸،ص۱۸۶)

{96}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس کا خادم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے اور بازار میں وہ گدھے پر سوار ی کرے اور بکری کا دودھ دوہنے کے لئے اس کی ٹانگیں رسی سے باندھے وہ متکبر نہیں ہو سکتا۔ ‘‘  (شعب الایمان، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع، الحدیث:  ۸۱۸۸،ج۶،ص۲۸۹)

{97}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر شخص کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے اگر وہ تواضع سے کام لے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے :  ’’ اس کی قدر بلند کر دو۔ ‘‘  اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے :  ’’ اس کی قدر ومنزلت کو پست کر دو۔ ‘‘    (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۹۳۹،ج۱۲،ص۱۶۹)