Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کہ وہ خودپسندی میں مبتلا ہو جائے مگر وہ تکبر نہیں کر سکتا کیونکہ فقط کسی شے کو بڑا سمجھنا تکبر کا سبب نہیں ہو سکتا جب تک کہ دوسرا کوئی شخص موجود نہ ہو۔

تنبیہ 6:                      

خودپسندی کا علاج

                عجب یعنی خودپسندی کا علاج بھی نہایت ضروری ہے اور کلیہ یہ ہے کہ مرض کا علاج ہمیشہ اس کی ضد سے ہوتاہے جبکہ خودپسندی کی ضد جہل محض ہے، جیسا کہ اس کی بیان کردہ تعریف سے ظاہر ہے اور اس کی شفایہ ہے کہ ایسی بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ جس کا کوئی انکارنہ کر سکے اور وہ یہ ہے کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے تیرے لئے علم وعمل وغیرہ مقدر کردیئے ہیں اور وہی تجھے توفیق کی نعمتیں عطا فرماتا، اور تجھے نسب ومال اور جاہ وحشمت والا بناتا ہے، لہٰذا جو چیز نہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہو نہ ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہو اس پر انسان کیسے عجب کر سکتا ہے جبکہ اس کا محل ہونا اسے کوئی فائد ہ نہیں دے سکتا کیوں کہ محل کے ایجاد اور تحصیل میں کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ اس کے سبب ہونے پر نظر کرنا تفکر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جب وہ غور و فکر کرے گا کہ اسباب میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ تاثیر تو اسباب پیدا کرنے والے اوران کے ذریعے بندوں پر انعام فرمانے والے مؤثر حقیقی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے، لہٰذا بندے کو چاہئے کہ وہ صرف ایسی خوبی پر خودپسندی میں مبتلا ہو جو اس نے نہ کسی کو پہلے عطا فرمائی اور نہ ہی اس شخص کے علاوہ کسی اور کو عطا فرمائے گا،

                اگر کوئی یہ کہے :  ’’ اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے اندر با طنی صفت محمودہ کو نہ جانتا تو مجھے دوسروں پرہر گز ترجیح نہ دیتا۔ ‘‘  اس کا جواب یہ ہے :  ’’ وہ اوصاف حمیدہ بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پیدا کرنے اور نعمت فرمانے سے ہیں ۔ ‘‘  

                جو اپنے خاتمہ اور عاقبت کو جان لے وہ اس قسم کی کسی بھی شے پر خودپسندی میں کیونکر مبتلا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اس کو جس بھی اچھی صفت کا حامل تسلیم کر لیا جائے وہ شیطان سے زیادہ عبادت گزار، اپنے زمانے میں بلعم بن باعوراء سے بڑا عالم اور ابوطالب سے زیادہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا مقرب نہیں ہو سکتا، نہ ہی وہ جنت اورمکہ مکرمہ سے زیادہ مرتبہ والا بن سکتاہے، جب کہ تم ان لوگوں کے برے خاتمہ کا حال جان چکے ہو اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ جنت میں حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورمکہ مکرمہ میں کفار کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تھا، تو نسب، علم، محل وغیرہ پرخود پسندی میں مبتلا ہونے سے ڈرو، یہ سب باتیں تو اس صورت میں تھیں جب تم حق پر عجب کرتے،لہٰذا باطل پرعجب میں مبتلا ہونے کی برائی کیا ہو گی؟ اوراکثر خود پسندی باطل ہی کی بنا پر ہوتی ہے، چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًاؕ-فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ﳲ  (پ۲۲، فاطر: ۸)

ترجمۂ کنز الایمان : تو کیا وہ جس کی نگا ہ میں اس کابرُا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلاسمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا اس لئے اللہ  گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتاہے جسے چاہے۔

                دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس بات کی پہلے ہی خبر دے چکے ہیں کہ یہ عمل اس اُمت کے آخری لوگوں میں غالب ہو گا کیونکہ تمام بدعتی اور گمراہ لوگ اپنی فاسد آراء پر خودپسندی میں مبتلاہونے کی وجہ سے اصرار کریں گے اسی وجہ سے پچھلی اُمتیں ہلاکت میں مبتلاہو گئیں کیونکہ وہ ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ہر ایک اپنی رائے کوپسند کرنے لگا۔ چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ،

كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ (۳۲)   (پ ۲۱،الروم: ۳۲)

ترجمۂ کنز الایمان : ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے۔

{۲}

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ (۵۴) اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ (۵۵) نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِؕ-بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ (۵۶)   (پ۱۸، المؤمنون: ۵۴۔۵۶)  

ترجمۂ کنز الایمان : تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں ایک وقت تک کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کر رہے ہیں مال اور بیٹوں سے یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں بلکہ انہیں خبر نہیں ۔

یعنی بعض اوقات یہ بدی اور استد راج ہوجاتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ (۱۸۲) وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ (۱۸۳)

            (پ ۹ ،الاعراف: ۱۸۲،۱۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو گی اور میں انہیں ڈھیل دوں گابے شک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔

تواضع اورعاجزی کی فضیلت

                جب آپ پر غرور و تکبر اور خودپسندی کی مذمت، ان کی آفات اور برائیاں ظاہر ہو گئیں تو اب تقاضا اس بات کا ہے کہ تواضع کے فضائل اور اس کے بلند مرتبہ کو بھی بیان کیا جائے کیونکہ اشیاء کی پہچان ان کی ضدوں ہی سے ہوتی ہے۔لہٰذا اس سلسلے میں وارد روایات کچھ اس طرح ہیں :

{82}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ اتنی عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر کرے نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ ونعیمھا، باب صفات التی یصرف بھا، الحدیث:  ۷۲۱۰،ص۱۱۷۵)

{83}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بندے کے عفو ودرگزر کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب البر،باب استحباب العفووالتواضع، الحدیث:  ۶۵۹۲،ص۱۱۳۰)

{84}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تواضع بندے کی رفعت میں اضافہ کرتی ہے، لہٰذا تواضع اختیار کرو، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہیں بلندی عطا فرمائے گا اور درگزرسے کام لینابندے کی عزت میں اضافہ کرتاہے لہٰذا عفو ودرگزرسے کام لیا کرو، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عزت عطا فرمائے گا اور صدقہ مال میں اضافہ کرتاہے لہٰذا صدقہ دیا کرو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے گا۔ ‘‘  (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، با ب التواضع، الحدیث:  ۵۷۱۶،ج۳،ص۴۸)

 



Total Pages: 320

Go To