Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اور یہی معاملہ ہر اس شخص کے ساتھ ہو جس سے اس نے مناظرہ کیا ہو تو قرائن اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ تکبر سے بری ہے، اوراگر ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو بلاشبہ یہ شخص خود پسندی وتکبر میں مبتلا ہے اور اس پر گذشتہ  باتوں میں غور کر کے اس کا علاج کرنا لازم ہے تا کہ تکبر کی جڑیں ختم ہو جائیں ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہمعصر لوگوں کو مجالس میں خود پر مقدم کرے، مگر اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ اس کا انداز لوگوں کو اس گمان میں نہ ڈالے کہ تواضع ظاہر کر رہا ہے جیسے ان کی صف چھوڑ کر گندی جگہ پر بیٹھنا وغیرہ کیونکہ یہ تو عین تکبر ہے، اور اس طریقہ سے بھی تکبر کی جڑیں کاٹ سکتا ہے کہ وہ فقیر کی دعوت قبول کرے، اس سے گفتگو کرے، اسے اپنے ساتھ بٹھائے، اپنی ضروریات کے لئے خود بازار جائے، فقر ا ٔ و محتاج لوگوں کی حاجت پوری کرنے کے لئے بھی بذات خود جائے اور اپنی حاجت پر دوسروں کی حاجت کو ترجیح دے تو حدیثِ مبارکہ کے مطابق یہ تمام باتیں تکبر سے نجات کے طریقے ہیں ، یہ باتیں خلوت اور جلوت دونوں ہی میں یکساں ہوں ورنہ وہ یا تو متکبر ہو گا یا پھر ریاکار۔اور یہ دونوں ہی یعنی تکبر اور ریاکاری امراضِ قلوب میں سے ہیں ، اگر ان کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ۔ بعض اوقات لوگوں کو یہ عادت مہلت دیتی ہے اور وہ جسم کو سنوارنے میں مشغول ہو جاتے ہیں حالانکہ آخرت میں دل کی سلامتی ہی سے سلامتی حاصل ہو گی یعنی شرک یا غیراللہ  کے خیال سے پاک دل لے کر آئے گا چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ (۸۹)   (پ۱۹ ، الشعرآء:  ۸۹)  

ترجمۂ کنز الایمان : مگر وہ جو اللہ  کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔

تنبیہ 3:

                عُجب یعنی خودپسندی کی مذمت اور اس کے مہلک ہونے کا ذکر احادیث میں گزرچکا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے بھی اپنے اس فرمان عالیشان سے اس کی مذمت فرمائی:  

وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍۙ-اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْــٴًـا        (پ۱۰، التوبۃ: ۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اورحنین کے دن جب تم اپنی کثرت پراِترا گئے تھے تووہ تمھارے کچھ کا م نہ آئی۔

{۲}

وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (۱۰۴)   (پ ۱۶ ، الکہف: ۱۰۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں ۔

                بعض اوقات بندہ اپنے کسی کام کو پسند کرتا ہے حالانکہ کبھی تو وہ اس میں صحیح ہوتا ہے اورکبھی غلط۔ حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ ہلاکت دو چیزوں میں ہے:   (۱) مایوسی  (۲)  اور خودپسندی میں ۔ ‘‘  یعنی مایوس شخص اعمال کے نفع سے ناامید ہوتا ہے جس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اعمال چھوڑ دیتاہے، اور خودپسندی کا شکار اپنے آپ کو خوش بخت اور مراد پالینے والا سمجھتا ہے لہٰذا عمل کی ضرورت نہیں سمجھتا، اسی لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ (۳۲)   (پ ۲۷ ،النجم ۳۲)

ترجمۂ کنز الایمان : تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پر ہیز گار ہیں ۔

                تزکیۂ نفس سے یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ نیک ہے، حالانکہ خودپسندی کا بھی یہی مطلب ہے، حضرت سیدنا مطرف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اگرمیں رات سو کر گزاروں اور صبح کو اس پر ندامت محسوس کروں تویہ میرے لئے رات بھر عبادت کرنے اور صبح کو اس پر خوش ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا بشر بن منصور رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے طویل نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے ارشاد فرمایا :  ’’ تم نے میرا جو عمل دیکھا ہے اس پر تعجب نہ کرو کیونکہ ابلیس نے ایک طویل مدت تک ملائکہ کے ساتھ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی تھی پھر بھی وہ مردود ہو گیا۔ ‘‘

تنبیہ 4:                                        

خودپسندی کی آفات

                عجب کی بہت سی آفتیں ہیں اس سے کِبْر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں لہٰذا کِبْر کی آفات عجب کی بھی آفات ہوئیں کیونکہ وہ اصل ہے، یہ صورت بندوں کے مقابلے میں ہے جبکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ عجب سے مراد یہ ہے کہ بندہ یہ گمان کر کے اپنے گناہ بھول جائے کہ اس پر ان کامؤاخذہ نہ ہو گا اور نہ ہی اسے ان کی سزا ملے گی، یہ عمل بندے کو اپنی عبادات کوعظیم سمجھنے پرابھارتا ہے، وہ انہیں ادا کر کے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر گویا احسان جتلاتا ہے اور اس کی آفات کو نہ جانتے ہوئے اندھا ہو جاتا ہے اس طرح وہ اپنی تمام یا اکثر عبادات ضائع کر بیٹھتا ہے، کیونکہ عمل جب تک ان برائیوں سے پاک نہ ہو گا نفع نہ دے گا اور عمل کو ان برائیوں سے پاکیزہ رکھنے پر خوف ہی ابھار سکتا ہے، جبکہ خودپسند شخص کو اس کا نفس اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے دھوکے میں ڈال دیتا ہے تو وہ اس کی خفیہ تدبیر اور اس کے عقاب سے بے خوف ہو جاتا ہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ عمل کرنے کی وجہ سے اس کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی حق ہے، اس طرح وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھنے لگتاہے، اپنی رائے، عقل اور علم پر فخر کرنے لگتاہے یہاں تک کہ اس کا یہ خیال پختہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نفس علم وعمل میں غیر کی طرف رجوع کرنے سے مطمئن نہیں ہوتا اس لئے وہ نصیحت کی بات پر کان نہیں دھرتا بلکہ غیر کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کی وجہ سے نصیحت حاصل ہی نہیں کر پاتا۔

                لہٰذا معلوم ہوا کہ خودپسندی ایسے وصف پر ہوتی ہے جو بندے کی ذات میں کمال کا درجہ رکھتا ہے، مگر بندہ جب تک اس وصف کے چھن جانے سے خوفزدہ رہتا ہے خودپسندی میں مبتلا نہیں ہوتا، اسی طرح اگر وہ اس بات پر خوش ہوکہ یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے اور اسی نے اسے عطا فرمائی ہے تب بھی وہ خودپسندی سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اگر وہ اس پراس لئے خوش ہو کہ اس کی صفت کمال ہے اور اس کی نسبت کے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف ہونے سے آنکھیں بند کرلے تو یہی خودپسندی میں مبتلا ہونا، اس نعمت کو بڑا سمجھنا اور اس کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف نسبت کو بھول جانا ہے۔ اب اگر اس کے اس اعتقاد کی بنا پر کہ اس کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کچھ حق ہے، اس کی توقعات کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا جائے تو اب وہ بندہ نازوادا اور نخرے کے مقام پر کھڑا ہو گا جو کہ عجب سے بھی خاص ہے۔

تنبیہ 5:

                عجب اور کِبْر کے گذشتہ فرق سے معلوم ہوا کہ کِبْر کبھی با طنی ہوتاہے جو کہ نفس میں پیدا ہونے والی کیفیت کا نام ہے اس کیفیت کوکِبْرکا نام دینا زیادہ مناسب ہے، اور کبھی ظاہری ہوتا ہے جوکہ اعضا سے صادر ہونے والے اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال نفس میں پیدا شدہ اسی کیفیت کے نتائج ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور کے وقت اس کیفیت کو تکبر کہا جاتاہے اور ان نتائج کی عدم موجودگی کی صورت میں اسے کِبْر کہا جاتاہے، لہٰذا اصل وہی نفس میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے جو خود کو کسی سے برترسمجھنے سے تسکین پاتی ہے اور یہ کیفیت دو چیزوں کا تقاضا کرتی ہے  (۱) جس پر تکبرکیا جائے  (۲)  جس کی وجہ سے تکبر کیا جائے۔ اسی سے تکبر اور خودپسندی میں فرق واضح ہو جاتا ہے کیونکہ عجب میں یہ دونوں چیزیں ضرورت کی نہیں ہوتیں یہاں تک کہ اگر کسی انسان کے بارے میں فرض کر لیا جائے کہ وہ ساری زندگی تنہا رہا ہو تو یہ تو ممکن ہے



Total Pages: 320

Go To