Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ابن رفعۃ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سے اور انہوں نے علامہ حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے نقل کیا اور عنقریب ان کی عبارت کی تفصیل اپنی جگہ آ ئے گی اور ان کا مختار مذہب بھی یہی ہے کہ ہر گناہ میں صغیرہ او رکبیرہ دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔

                کبھی کسی قرینہ کی وجہ سے صغیرہ گناہ کبیرہ ہو جاتاہے اور کبیرہ گناہ کسی قرینہ کی وجہ سے زیادہ فحش ہوجاتا ہے، مگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کفر کرنا تمام کبائر سے زیادہ بُرا ہے اور اس کی انواع میں سے کوئی گناہِ صغیرہ نہیں ۔ اس کی چند مثالیں تفصیل کے ساتھ اپنے مقام پر آئیں گی۔

ساتویں تعریف:

                 ’’ ہر وہ فعل جس کی حرمت پر قرآن پاک میں نص وارد ہو یعنی قرآن پاک میں اس کے بارے میں تحریم  (یعنی حرام کرنے) کا لفظ استعمال کیا گیاہو۔ ‘‘  قرآن کریم میں جن چیزوں کی حرمت الفاظ میں مذکور ہے وہ چار ہیں :  مردار اور خنزیر کا گوشت کھانا، یتیم وغیرہ کا مال کھانا اور میدان جہاد سے بھاگنا۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ یہی چار چیزیں ہیں ۔

آٹھویں تعریف:

                 ’’ کبیرہ گناہ کی کوئی خا ص تعریف نہیں جس کے ذریعے بندہ اس کی معرفت حاصل کر سکے۔ ‘‘  ہمارے شافعی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی میں سے علامہ واحدی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب  ’’ بسیط ‘‘  میں اسی قول پر اعتماد کیا ہے، چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :   ’’ صحیح بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی کوئی ایسی تعریف نہیں جس کے ذریعے بندے اس کی معرفت حاصل کر سکیں ورنہ تو لوگ صغیرہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے بلکہ انہیں جائزو مباح سمجھنے لگتے مگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے کبیرہ گناہوں کو بندوں سے پوشیدہ رکھا تا کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچنے کے لئے ہر ممنوع فعل سے بچنے کی کوشش کریں اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں جیسے اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی، (یعنی بیچ کی نماز)  لَیْلَۃُالْقَدْر اور دعا کی قبولیت کی گھڑی وغیرہ کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ‘‘  

                مگران کی یہ بات درست نہیں ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ اس کی ایک معین تعریف ممکن ہے جیسا کہ گذشتہ سطور میں بیان کیا جاچکاہے۔ پھر میں نے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو علامہ واحدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی یہی بات نقل کرتے ہوئے دیکھا مگر انہوں نے بھی اس بات کو اس طور پر بیان کیا جس سے ان پر ہونے والے اعتراضات کچھ کم ہو گئے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ شافعی مفسر علامہ واحدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ تمام کبیرہ گناہ پہچانے نہیں جاسکتے یعنی انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘  علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ گناہوں کے بارے میں تو بتا دیا گیا کہ یہ کبیرہ ہیں اور کچھ کے بارے میں بتا دیا گیا کہ یہ صغیرہ ہیں لیکن کچھ گناہ ایسے ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ جبکہ اکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ کبیرہ  گناہ تو مشہور ہیں ، البتہ!  اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا انہیں کسی تعریف ، ضابطہ یا تعداد کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ ‘‘

                اب ہم کبیرہ گناہ کے بارے میں اصحاب شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے علاوہ متاخرین اور دیگر بزرگوں رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی عبارات نقل کرتے ہیں ۔چنانچہ

 ٭…ان میں سے ایک قول حضرت سیدنا حسن بصری، حضرت سیدنا ابن جبیر، حضرت سیدنا مجاہد اور حضرت سیدنا ضحاکرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہم  فرماتے ہیں کہ ’’ ہر وہ گناہ، کبیرہ ہے جس کے مرتکب سے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہو۔ ‘‘  

٭…سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں :  ’’ ہروہ گناہ جسے آدمی خوف یا ندامت محسوس کئے بغیر حقیر جانتے ہوئے کرے اور وہ اس پر جری بھی ہوتو وہ کبیرہ ہے اور جو گناہ دل کے وسوسوں کی پیداوار ہو اورپھر اس پر ندامت بھی محسو س ہونیز اس سے لذت حاصل کرنا بھی دشوار ہو تو وہ کبیرہ نہیں ۔ ‘‘

                سیدناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالینے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:  ’’ یہ ضروری نہیں کہ کبیرہ گناہوں کی کوئی خاص تعداد جانی جائے کیونکہ ان کی پہچان فقط سماعی  (یعنی سنی سنائی ) ہے اوران کی تعداد کے بارے میں کوئی نص بھی نہیں ۔ ‘‘  

                علامہ علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کی پہلی بات پر یہ اعتراض کیاکہ یہ سیدنا امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کی تفصیل ہے ، مگر یہ بات سخت مشکل میں ڈالنے والی ہے کیونکہ اگر کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ یہی ہو تو اس پر اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگر کوئی شخص زنا جیسا بُرا فعل کرے اوراس پر ندامت محسوس کرے تو کیا یہ کبیرہ گناہ شمار نہ ہوگا؟ اس صورت میں اس تعریف کے مطابق یہ گناہ کبیرہ شمار نہیں ہوتا، نہ ہی یہ معصیت اس کی عدالت کو ختم کرتی ہے، حالانکہ یہ بات بالاتفاق درست نہیں ۔ البتہ اگر اس قاعدہ کو ان کبیرہ گناہوں پر محمول کیا جائے جن کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی تو یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہوگا۔

                علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ شاید علامہ علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ خیال کیا ہے کہ ہر وہ گناہ جس کی تعریف بھی مذکور ہو تووہ منصوص میں داخل ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ، یعنی امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکابیان کردہ قاعدہ منصو ص کے علاوہ دیگر کبائر کے لئے ہے اور یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہے،جبکہ علامہ علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے خود ارشاد فرمایا:  ’’ تمام تعریفات منصوص گناہوں کے علاوہ دوسرے گناہوں کو بھی شامل ہیں ۔ ‘‘  

٭… علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’ مناسب ترین بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے فاعل سے اپنے دین کو اس طرح ہلکاجاننا ظاہرہو جس طرح کہ وہ منصوص علیہ کبیرہ گناہ کو صغیرہ سمجھتا ہو۔ ‘‘  مزید فرماتے ہیں :   ’’ جب آپ صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان فرق جانناچاہیں تو اس گناہ کے فساد کو منصوص علیہ کبیرہ گناہ کے مقابل رکھ کر دیکھیں اگر اس گناہ کا نقصان کبیرہ سے کم ہے تو یہ صغیرہ ہو گا ورنہ کبیرہ۔ ‘‘  

                علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ’’ منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں کا احاطہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ان گناہوں کو نہ جان لیا جائے جو فساد کے اعتبار سے ان سے کم تر ہوں اورجب تک واقع شدہ گناہ کی خرابی کے ساتھ ان کبیرہ گناہوں کا موازنہ نہ کرلیاجائے ،جو کہ دشوار ہے۔ ‘‘  

                علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ،علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ قول لکھنے کے بعد فرماتے ہیں :  ’’ علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ اعتراض تو کر دیا مگر جب اس کے بارے میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کیا جائے تو اس میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی۔ ‘‘  اورحقیقت میں ایسا کرنا واقعی مشکل ہے کیونکہ اگر اس کے بیان میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کرنے کے امکان کو فرض کر بھی لیاجائے اور ہم تمام کبیرہ گناہوں کے فساد کااحاطہ بھی کرلیں تب بھی یہ جاننا اِنتہائی مشکل اَمر ہے کہ ان میں سے کس گناہ کا فساد کم ہے کیونکہ یہ شارع  عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ ‘‘  

                علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کا کھو کھلا پن ظاہر کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکو معاذاللہ  گالی دی یا اس کے کسی رسول کی توہین کی یا خانہ کعبہ یا



Total Pages: 320

Go To