Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرنے والا ہی سب سے بڑا جاہل ہے کیونکہ وہ اپنی اوقات، اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی شان وعظمت، موت کے وقت کے خطرات اور حالات کے بدل جانے سے بے خبر ہے کیونکہ علم کی شان تو یہ ہے کہ وہ بندے کے خوف اور تواضع میں اضافہ کرے اس لئے کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  اپنے علم حقیقی کی بنا پر اس کے خلاف ایک بہت بڑی حجت ہے، نیز اس وجہ سے بھی کہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ البتہ اس کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا علم یا تو دنیا کی خاطر ہو گا یا اسے حاصل کرنے میں اخلاص کی نیت نہ ہوگی اور اس نے کسی اور نیت سے علم حاصل کیا ہوگا اسی لئے یہ قباحتیں اسے لاحق ہو ں گی۔ اسی طرح جوعلما ء نیک نامی کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں ، ان کی طرف بھی تکبر جلد آ جاتا ہے کیونکہ لوگ اپنے معاملات کے فیصلے کے لئے ان کے پاس آتے ہیں اور ان کی عزت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ارفع واعلیٰ ہیں اور دیگر لوگ ان کے اعمال تک نہ پہنچنے کی وجہ سے ان سے کم تر ہیں ، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ گمان ان سے علم چھن جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ جیسا کہ،

بدکار کی وجہ سے عالم کے اعمال برباد ہوگئے:

                بنی اسرائیل کے ایک بدکار شخص کا واقعہ ہے کہ وہ کسی عابد کے پاس اس سے نفع اٹھانے کے لئے بیٹھ گیا تو اس عابد کو اس کا بیٹھنا ناگوار گزرا اور اس نے اسے دھتکار دیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کے نبی  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کی طرف وحی فرمائی کہ  ’’ اس نے بدکار کوبخش دیااور عابد کے عمل برباد کر دیئے۔ ‘‘  

اطاعت میں کبھی جاہل عالم سے بڑھ جاتا ہے:

                عام اَن پڑھ شخص جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ہیبت اور اس کے خوف سے تواضع اور عاجزی کرتا ہے تو دل سے اس کی اطاعت کرنے لگتا ہے، لہٰذا وہ متکبر عالم اور خود پسندی میں مبتلا عابد سے زیادہ اطاعت گزار ہو جاتا ہے۔

                بعض اوقات کچھ لوگوں کی حماقت اور بیوقوفی اس وقت اِنتہا کو پہنچ جاتی ہے جب انہیں ایذا ء دی جائے تووہ ایذا دینے والے کو دھمکاتے ہوئے کہتے ہیں :  ’’ عنقریب تم اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ‘‘  اب اگر انہیں ایذاء دینے والا اتفا ق سے کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تووہ لوگ اپنی قدرو منزلت کو اعلیٰ سمجھتے ہوئے جہالت کے غلبہ کی وجہ سے اسے اپنی کرامت شمار کرنے لگتے ہیں ،

کیونکہ جہالت خودپسندی، تکبر اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت سے دھوکا کھانے کے مجموعہ کا نام ہے، بلاشبہ بہت سے بدبختوں نے انبیاء کرام علَیھمُ السّلام کو شہیدکیا مگر جب انہیں دنیا میں اس کی سزا نہیں ملی تو پھراس جاہل کی حیثیت کیا ہے؟

تکبر کے اسباب:

                جب آپ پر تکبر کی یہ دونوں قسمیں واضح ہو گئیں جن پر ظاہر میں دین ودنیا کا دارومدار ہے تو جاہ و حشمت والے لوگوں کے تکبر کا حال بھی عیاں ہو جائے گا کہ نسب پر تکبر کرنے والا بعض اوقات کم نسب والے کو اپنا غلام سمجھنے لگتا ہے، اسی طرح خوبصورت لوگ اپنے حسن پر غرور کرتے ہیں اور یہ صورت اکثر عورتوں میں پائی جاتی ہے، مال کی وجہ سے بھی تکبر کیا جاتا ہے جیسا کہ ارباب ِاختیار اور تاجروں وغیرہ میں عام مشاہدہ کیا گیا ہے،نیزپیروی کرنے والوں اور لشکر پر تکبر کرنا اکثر بادشاہوں کا وطیرہ ہے۔  (یہ لوگ خودسے کم تر لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں )

                خود پسندی، کینہ اور حسد و ریاکاری تکبر کی آگ کو بھڑکانے کے اسباب ہیں ، کیونکہ تکبر ایک باطنی خصلت و عادت ہے اور یہ خود کو بڑا گمان کرنے اور دوسرے سے زیادہ قابلِ قدر سمجھنے کا نام ہے، اس کا حقیقی سبب فقط خودپسندی ہی ہے، جیسا کہ آئندہ آنے والی تفصیل سے معلوم ہو گا، جو اپنے علم و عمل اور مذکورہ بالا دیگر خوبیوں پر خوش ہوگا تو اس کا نفس بھی بڑائی چاہے گا، تکبر کرے گا اور ظلم وسرکشی کامرتکب ہو گا، جبکہ خودپسندی کے علاوہ دیگر جو اُمور ہم نے بیان کئے ہیں وہ ظاہری تکبر کے اسباب ہیں ، کیونکہ ایسے تکبر پر حسد اور کینہ ہی اُبھارتے ہیں جبکہ ریاکاری تکبر کی دوسری ظاہری صورت کا سبب ہے۔

تنبیہ 2:

                ہر انسان تکبر اور اس کے بُرے نتائج سے چھٹکارا چاہتا ہے کیونکہ یہ مہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی بیماریوں میں سے ہے، حالانکہ اس سے کوئی انسان پاک نہیں ، اور اس کا ازالہ فرضِ عین ہے، جو صرف تمنا اور خواہش سے نہ ہو گا بلکہ مفید ادویہ کے استعمال سے اسے جڑ سے ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ جو کماحقہ اپنے نفس کو پہچا ن لے یعنی وہ اپنی ابتدا میں غور کر لے کہ وہ کس طرح سب سے حقیر اور ذلیل شے یعنی مٹی تھا پھر منی بنا اور ان دونوں کی درمیانی حالت میں اس طرح غور کرے کہ وہ کس کس طرح علوم ومعارف سیکھنے کا اہل ہوا اور ایک درجے سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتا رہا اور اپنی انتہا میں اس طرح غورکرے کہ وہ کس طرح فنا ہو گا اور پھر اپنی ابتدا یعنی مٹی کی طرف لوٹ جائے گا پھر اسے حشر کے میدان میں لوٹایا جائے گا پھر یا تو جہنم اس کا ٹھکانا ہو گا یاپھر جنت، اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے بارے میں جو سب سے واضح اشارہ دیا ہے وہ اس فرمان میں ہے :

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ (۱۷) مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ (۱۸) مِنْ نُّطْفَةٍؕ-خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ (۱۹) ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ (۲۰) ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ (۲۱) ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ (۲۲) كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ (۲۳) فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ (۲۴)   (پ۳۰، عبس: ۱۷ تا۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: آدمی ماراجائیوکیاناشکرہے اسے کاہے سے بنایا پانی کی بوندسے اسے پیدا فرمایاپھراسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھاپھراسے راستہ آسان کیاپھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا پھر جب چاہا اسے باہر نکالا کوئی نہیں اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا توآدمی کو چاہئے اپنے کھانوں کو دیکھے ۔

                لہٰذا جو شخص اس میں اور اس جیسی ان دیگر مثالوں میں غور کرے جن کی طرف یہ آیات اشارہ کرتی ہیں تو وہ جان لے گا کہ وہ ہر ذلیل وحقیر چیز سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے، اور عاجزی وانکساری اسی کے لائق ہے، نیز اسے چاہئے کہ وہ اپنے ربعَزَّ وَجَلَّ  کی معرفت حاصل کرے تا کہ وہ یہ جان سکے کہ عظمت اور کبریائی فقط اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کو زیبا ہے، جبکہ میرے نفس کو ایک لمحے کے لئے بھی خوش ہونا مناسب نہیں ، آدمی کا اپنی تخلیق کے ابتدائی اور وسطی مراحل کی حقیقت جان لینے کے بعد یہ غرور وتکبر کیسا؟ اور اگراس کا انجام بھی اس پر ظاہر ہو جائے تو وہ یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش!  وہ کوئی جانور ہوتا اگرچہ اسے کتا ہی بنا دیا جاتا خصوصاً جبکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے علم میں وہ جہنمی ہو، اور اگر دنیا والے جہنمیوں میں سے کسی کی صورت دیکھ لیں تو اس کی بد صورتی دیکھ کر چکرا کر گر پڑیں بلکہ اس کی بدبو سے مر ہی جائیں ، تو جس کا انجام ایسا ہو۔وہ کیسے تکبراوربڑائی میں مبتلاہوسکتا ہے؟ اور کون سا بندہ ایسا ہے جس نے کوئی ایسا گناہ ہی نہ کیا ہو کہ جس کی وجہ سے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عقاب کا سزوار ہو سکے، ہاں اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے معاف فرما دے گا۔

                جو ہماری ان باتوں میں حقیقی غور وفکر کرے تو اس کی نظر میں اس کے علم وعمل، جاہ و منصب اور مال کی اہمیت ختم ہو جائے گی نیز وہ ہر چیز سے بھاگ کر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں آکر اس کے آگے گڑگڑائے گا اور یہ یقین کر لے گا کہ وہ ہر چیز سے زیادہ ذلیل وحقیر ہے، تو پھر وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بد بخت ہونا کیسے پسند کرے گا؟

                نفس میں ظاہر ہونے والے کا مل تکبر کا علم اس وقت ہوتا ہے جب کسی بندے کو اس کا نفس یہ خیال دلاتا ہے کہ وہ تکبر سے پاک ہے، لہٰذا ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے کسی ہم عصر سے کسی مسئلہ میں مناظرہ کرے، پھر اگر اس کے مخالف کے ہاتھ پر حق ظاہر ہو جائے تو اگر اس کا دل اسے قبول کرنے پر مطمئن ہو اور اس کے شکر اور فضلیت کا اعلان کر دے اور یہ بیان کر دے کہ اس کے ہاتھ پرحق ظاہر ہوگیا ہے



Total Pages: 320

Go To