Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ‘‘               

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث: ۲۶۷،ص۶۹۴)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:

وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ        (پ۱۸، النور: ۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں ۔

کی وضاحت میں تفسیرِ قرطبی میں لکھا ہے کہ ’’ اگر ان عورتوں نے ایسا مردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کی غرض سے کیا تو یہ حرام ہے اور اسی طرح اُن مرد وں کے لئے بھی ایسا کرنا حرام ہے جو خود پسندی کے زعم میں زور زور سے زمین پر جوتے پٹخاتے ہیں کیونکہ خود پسندی کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘

                تکبر یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے مقابلہ میں  ہو گا جو کہ تکبر کی سب سے بُری قسم ہے جیسے فرعون، اور نمرود کا تکبر کہ انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی سے انکار کردیا اورربوبیت کا دعوی کر بیٹھے، چنانچہاللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  

{۱}

اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ (۶۰)   (پ۲۴، المؤمن:  ۶۰)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے  (تکبر کرتے) ہیں عنقر یب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔

{۲}

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ  (پ۶، النساء:  ۱۷۲)

ترجمۂ کنز الایمان : مسیح اللہ  کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا۔

                یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول کے مقابلہ میں ہو گا، اس کی صورت یہ ہے کہ تکبر،جہالت اورعنادکی بنا پر رسول کی پیروی نہ کرنا جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے کفارِ مکہ اور دیگر اُمتوں کے کافروں کی حکایات بیان فرمائی ہیں یا پھر بندوں کے مقابلہ میں ہوگا، وہ اس طرح کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کراور دوسرے کو حقیر جان کر اس کی اطاعت سے انکار کرنا، اُس پربڑائی چاہنا اور  مساوات کو ناپسند کرنا، یہ صورت اگرچہ پہلی دو صورتوں سے کم تر ہے مگر اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ  ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجزاور کمزور بندے کے لائق، لہٰذا بندے کا تکبر کرنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ اس کی ایسی صفت میں جھگڑنا ہے جو اسی مالک عَزَّ وَجَلَّ  کے لائق ہے، متکبر بندہ گویا اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی بادشاہ کا تاج پہنا اور پھر اس کے تخت پر بیٹھ گیا، تو اس کی ناراضگی کے مستحق ہونے اور جلد ہی ذلیل ورسوا ہوجانے کا کیا عالم ہو گا؟ اسی لئے بیان شدہ حدیث مبارکہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا :  ’’ جو میری عظمت اور کبریائی میں میرے ساتھ جھگڑا کرے گا میں اسے ہلا ک کر دوں گا۔ ‘‘ مرا د یہ ہے کہ یہ دونوں صفات اللہ  رب العزت عَزَّ وَجَلَّ  ہی کے ساتھ خاص ہیں لہٰذاان میں جھگڑاکرنے والا صفا ت اِلٰہیہ میں جھگڑا کرنے والا ہے، اسی طرح بندوں پر اپنی بڑائی بیان کر نا بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہی لائق ہے لہٰذا جو بندوں پر تکبر کرے گا اسے مجرم سمجھا جائے گا جس طرح بادشاہ کے خاص غلاموں کو ذلیل سمجھتے ہوئے کسی وجہ سے ان سے جھگڑنا اگرچہ اس کی غلطی بادشاہ کے تخت پر بیٹھنے جیسی نہیں ۔

                تکبر کی ان دونوں قسموں میں حق کے احکام کی مخالفت لازم آتی ہے، ان میں خودپسندی اور نفسانی خواہش کی بنا پر دینی مسائل میں جھگڑنے والے بھی داخل ہیں کیونکہ متکبر کا نفس غیر سے سنی ہوئی بات کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے، اگرچہ اس پر اس کی حقانیت بھی واضح ہو گئی ہو بلکہ اس کا تکبر اسے اس بات کو غلط اور باطل ثابت کرنے میں مبالغہ کی طرف لے جاتا ہے، لہٰذا اس شخص پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے یہ فرامین صادق آتے ہیں :  

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ (۲۶)   (پ۲۴، حٰمٓ السجدۃ: ۲۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور کافر بولے یہ قرآن نہ سنواور اس میں بیہودہ غل  (شور) کروشاید یونہی تم غالب آؤ۔

{۲}

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ (۲۰۶)   (پ۲، البقرۃ: ۲۰۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ  سے ڈروتو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے۔

                حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ بندے کے گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب اس سے کہا جائے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو تو وہ کہے تُوصرف اپنی فکر کر۔ ‘‘

{81}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص سے ارشاد فرمایا :  ’’ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ ‘‘  تواس نے تکبر کی بنا پر کہا :  ’’ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ ‘‘  تو اس کا ہاتھ ہی خشک ہوگیااور اس کے بعد وہ کبھی اپناوہ ہاتھ اٹھا نہ سکا۔

 (صحیح مسلم،کتاب ،الحدیث: ۲۰۲۱،ص۱۱۱۸،مفہوماً )

                ایسی صورت میں بندوں پر تکبر کرنا خالق پر تکبر کی طرف لے جاتاہے کیا تم نہیں جانتے کہ ابلیس نے جب حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اپنے اس قول  (اَنَا خَیْرٌ مِّنْہٗ)  کے ذریعے تکبراورحسد کیا تو اس کی یہ بات اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تکبر کی طرف لے گئی اور وہ اَبدی ہلاکت میں مبتلا ہو گیا، اسی لئے صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حق کو قبول نہ کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کو متکبر کی علامات قرار دیا۔

تکبر کی وجوہات:

                علم وعمل، نسب ومال، حسن وجمال، طاقت وقوت اور مریدین کی کثرت کی وجہ سے غیر سے کامل امتیاز کا اعتقاد رکھنا تکبر پر ابھارنے کا سبب ہے، جن علما کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے توفیق کا نور عطا نہیں کیا گیا وہ دوسروں کے مقابلے میں جلد تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنے مقابلے میں چوپائے کی طرح سمجھتا ہے، اس لئے وہ اس کے ان شرعی حقوق کی ادائیگی میں کمی کرتاہے جن کا مطالبہ شارع عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے کیا ہے جیسے سلام کرنا، عیادت کرنا اور ملاقات کے وقت خوشی کا اظہار وغیرہ کرنا، اور اس سے ان معاملات میں اس پر رفعت کی خواہش کی بنا پر کمی کی امید نہیں رکھتا، اور حقیقتاً ایسا



Total Pages: 320

Go To