Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  بے ہودہ بکواس بکنے والوں اورلوگوں سے ٹھٹھا کرنے والوں کو تو ہم نے جان لیا مگر یہ مُتَفَیْہِق  کون ہیں ؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اس سے مراد ہرتکبر کرنے والا شخص ہے۔ ‘‘   (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی معالیالخ،الحدیث: ۲۰۱۸،ص۱۸۵۳)

جہنم کی وادی  ہَبْہَب کا حق دار کون؟

{76}…حضرت سیدنا محمد بن واسع رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا بلال بن ابی بردہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور ان سے کہا :  ’’ اے بلال!  مجھے تیرے والدِ محترم نے اپنے باپ سے مروی یہ حدیث پاک بتائی تھی کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جہنم میں ایک وادی ہے جسے ہَبْہَبْ کہا جاتا ہے، یہ حق ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّہرعناد رکھنے والے جابر انسان کو اس میں ٹھہرائے گا، لہٰذا اے بلال!  تم اس وادی کے رہائشی بننے والوں میں شامل ہونے سے بچتے رہنا۔ ‘‘

 (مسند ابی یعلی الموصلی،مسند ابی موسیٰ الاشعری، الحدیث: ۷۲۱۳،ج۶،ص۲۰۷)

{77}… حضور نبی ٔ کریم،رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ ‘‘              (مجمع الزوائد، کتاب البحث، باب کیف یحشر الناس،الحدیث:  ۱۸۳۲۸،ج۱۰، ص ۴۰۶)

جہنم کے تابوت:

{78}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک جہنم میں کچھ تابوت ہیں جن میں متکبرین کو ڈال کر انہیں بند کر دیا جائے گا۔ ‘‘

{79}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو بندہ روح کے جسم سے جدا ہوتے  وقت تین چیزوں سے بری ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور وہ تین چیزیں ہیں :   (۱) تکبر (۲) قرض اور  (۳)  خیانت۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب البیوع،باب من مات وھو یریالخ،الحدیث: ۲۲۶۴،ج۲،ص۳۲۴)

{80}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جوشخص تکبر،خیانت اور قرض سے بری ہوکر مرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،ابواب السیر،باب ماجاء فی الغلول،الحدیث: ۱۵۷۲،ص۱۸۱۴)

 تکبرکے متعلق بزرگانِ دین عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃکے فرامین

                حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ کسی مسلمان کوہر گز حقیر مت سمجھو کیونکہ حقیر مسلمان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بڑے مرتبہ والا ہوتاہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا وہب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے جنت عدن کو پیدا فرمایا تو اس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا :  ’’ تُو ہر متکبر پرحرام ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا ا حنف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ آدمی پر تعجب ہے کہ وہ تکبر کرتاہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پیشاب گاہ سے نکلا ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ آدمی پر تعجب ہے کہ وہ روزانہ ایک یادو مرتبہ اپنے ہاتھ سے ناپاکی دھوتا ہے پھر بھی زمین وآسمان کے بادشاہ سے مقابلہ کرتاہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا سلیمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ایسے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا جس کی موجودگی میں کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ گناہ تکبر ہے۔ ‘‘

متکبر کوانوکھی نصیحت:

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک امیر کو متکبرا نہ چال چلتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ اے احمق! تکبر سے اِتراتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا ں دیکھ رہا ہے ؟ کیا ان نعمتوں کودیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا یاان نعمتوں کو دیکھ رہا ہے کہ جن کا تذکرہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے احکام میں نہیں ۔ ‘‘  جب اس نے یہ بات سنی تو عذر پیش کرنے حاضر ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ مجھ سے معذرت نہ کربلکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کر کیا تم نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:  

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا (۳۷)   (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۳۷)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور زمین میں اتراتا نہ چل بے شک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔

                خلیفہ بننے سے پہلے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ایک مرتبہ متکبرانہ چال چلے تو حضرت سیدنا طاؤس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ان کے کندھے پر چٹکی کاٹ کر ارشاد فرمایا:   ’’ جس کے پیٹ میں کچھ بھلائی ہو اس کی چال ایسی نہیں ہوتی۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے معذرت خواہا نہ انداز میں عرض کی :  ’’ ۱ے محترم چچا جان!  ایسی چال چلنے کی وجہ سے میرے ہر عضو کو ماریں تا کہ وہ جان لے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا محمد بن واسع رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے بیٹے کو اِترا کر چلتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا :  ’’ کیاتو جانتاہے کہ تو کیا ہے؟ تیری ماں کو تو میں نے دو سو درہم دے کر خریدا تھا اور تیرا باپ ایساہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں میں اس جیسے لوگوں کی کثرت نہ فرمائے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا مطرف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے مُہَلَّبْ  (پورا نام مہلّب بن ابی صفرہ ، حجاج کے لشکر کا ایک رئیس) کو ریشم کا جبہ پہنے اترا کر چلتے دیکھا تواس سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے!  یہ ایسی چال ہے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اورنبی ٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمناپسند فرماتے ہیں ۔ ‘‘  تو مُہَلَّبْ نے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے کہا:   ’’ کیا آپ مجھے نہیں جانتے؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ کیوں نہیں !  میں جانتا ہوں کہ تمہاری ابتدا ایک حقیر نطفہ سے ہوئی اور اِنتہا بدبودار مردار کی صورت میں ہو گی اور ان دونوں کی درمیانی مدت میں گندگی اٹھائے پھر رہے ہو۔ ‘‘  تومُہَلَّبْ نے ایسی چال چلنا چھوڑدی۔

تنبیہات

تنبیہ1:

                مذکورہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کی ایک جماعت بھی اس کی قائل ہے، بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے فخرتکبراور خودپسندی وغیرہ کو انیسواں کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، عنقریب اس کی مکمل وضاحت باب اللباس میں آئے گی، اور انہوں نے اپنے اس قول کی دلیل گزشتہ مروی احادیثِ مبارکہ کوہی بنایا ہے چنانچہ،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ



Total Pages: 320

Go To