Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

جس کا شوق اور رغبت اس کو ذلیل وخوار کر دے۔ ‘‘  (جامع الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع،باب حدیث اضاعۃ الناس،الحدیث: ۲۴۴۸،ص۱۸۹۸)  

{63}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب  فارس (ایران)  وروم میری اُمت کے ماتحت ہوں گے اوروہ متکبرانہ چال چلے گی تو وہ ایک دوسرے پر ہی قبضہ جمائیں گے ۔ ‘‘

{64}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے آپ کو بڑا جانے یا متکبرانہ چال چلے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  اس پر ناراض ہو گا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ  بن عمربن خطاب،الحدیث: ۶۰۰۲،ج۲،ص۵۴۱)

{65}…نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں :   (۱)  لالچ جس کی اطاعت کی جائے  (۲) خواہش جس کی پیروی کی جائے  (۳) بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی المنہیات والمہلکات،الحدیث: ۳۱۳،ج۱،ص۲۶۹)

{66}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے ، نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:   ’’ جب نوح  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلاکر ارشاد فرمایا :  ’’ میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتاہوں اور دوباتوں سے منع کرتا ہوں جن دو باتوں سے منع کرتا ہوں وہ شرک اور تکبر ہیں ، اورجن دو باتوں کا حکم دیتا ہوں :  (۱) ان میں سے پہلی لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر استقامت ہے، کیونکہ اگر زمین وآسمان اور ان کی ہر چیز ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائے اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تولَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ان سب پر غالب آ جائے گا اور اگر زمین وآسمان ایک حلقہ ہو اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو اس پر رکھ دیا جائے تو یہ اس کوتوڑ دے گا اور (۲)  دوسری چیز جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ  سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھنا ہے کیونکہ یہی ہرچیز کی تسبیح ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ ‘‘

  (المسند للامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ  بن عمروبن عاص،الحدیث: ۷۱۲۳،ج۲،ص۶۹۵)

{67}…حضرت سیدنا عیسٰیعلیٰ نبینا وعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ سعادت ہے اس کے لئے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب سکھائی اورپھر وہ شخص ظالم ہو کرنہ مرا۔ ‘‘   (الزہدللامام احمدبن حنبل،بقیۃ زہد عیسٰٰیعَلَیْہِ السَّلَام،الحدیث: ۴۷۲،ص۱۲۵)

{68}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن سلام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  بازار سے اس حالت میں گزرے کہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے سر پر لکڑیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی، تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو اس سے بے نیاز کر دیا ہے تو پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو گٹھڑی اٹھانے پرکس چیز نے آمادہ کیا؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے اپنے آپ سے تکبر دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے کیونکہ میں نے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :  ’’ جس کے دل میں رائی برابربھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۰۰۰،ج۱۰،ص۷۵)

{69}…اور ایک روایت میں ہے :  ’’ رائی کے ذرے برابربھی تکبر ہو گاوہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث: ۲۶۷،ص۶۹۴)

{70}…حضرت سیدنا کریب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کو لے کر ابو لہب کی بھٹی کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا:   ’’ کیا ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ہیں ؟ ‘‘  تو میں نے عرض کی کہ  ’’ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اب اس مقا م کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’ مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے بتایا:   ’’ میں اس جگہ پر حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھا۔آپ صلّی اللہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے متکبرانہ چال چلتا ہوا آیا، وہ اپنی چادریں دیکھتا ہوا اس پر اِترا رہا تھا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اسے اِس جگہ زمین میں دھنسا دیااب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ ‘‘  

 (مسند ابی یعلی الموصلی، مسند العباس بن عبدالمطلب، الحدیث: ۶۶۶۹،ج۶، ص۵)

{71}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ ہر متکبر، اِترا کر چلنے والا، مال جمع کرنے اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے، جبکہ ہر کمزور ومغلوب شخص جنتی ہے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع، الحدیث: ۸۱۷۰،ج۶،ص۲۸۴)

{72}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے (حضرت سیدناسراقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے سراقہ!  کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ‘‘  (آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ )  میں نے عرض کی:   ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ضرور بتائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۶۵۸۹،ج۷،ص۱۲۹)

{73}…حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ کیا میں تمہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ