Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{31}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر تم کوئی گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز ’’ خود پسندی  ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،باب الترغیب فی التواضع،الحدیث: ۴۴۹۰،ج۳،ص۴۴۲)

{32}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کانام ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب ماجاء فی الکبر،الحدیث: ۴۰۹۲،ص۱۵۲۲)

تکبر کا علاج

{33}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اُون کا لباس پہننا، مؤمن فقراء کی صحبت میں بیٹھنا، درازگوش (گدھا)  پر سواری کرنا اور بکری کو رسی سے باندھ دینا تکبر سے براء َت کے اسباب ہیں ۔ ‘ ‘

 (شعب الایمان، باب فی الملابس والاوانی، فصل فی التواضع، الحدیث: ۶۱۶۱،ج۵،ص۱۵۳)

{34}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اپنا سامان خود اٹھا لیا وہ تکبر سے آزاد ہو گیا۔ ‘‘     (شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع، الحدیث:  ۸۲۰۱،ج۶،ص۲۹۲)

{35}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بدترین بیماری پہنچے گی جو کہ تکبر، کثرتِ مال کی حرص، دنیوی معاملات میں کینہ رکھنا، باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور حسد  (کرنے  پر مشتمل ) ہے ، یہاں تک کہ وہ سرکشی اختیار کر لے گی۔ ‘‘

 (المستدرک ،کتاب البر والصلۃ ، باب داء الاعمالخ،الحدیث: ۷۳۹۱،ج۵،ص۲۳۴)

{36}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتاہے جب کہ اطمینان و وقار بھیڑ بکریوں کے مالکوں میں ہوتاہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی سعید الخدری، الحدیث: ۱۱۳۸۰،ج۴،ص۸۵، ’’ بتقدمٍ وتأخرٍ ‘‘ )

اللہ  تعالٰی کے نزدیک ناپسندیدہ لوگ

{37}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن تین شخصوں سے نہ کلام فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ ہی ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا اور وہ تین یہ ہیں :  بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، اور متکبر فقیر۔ ‘‘      (صحیح مسلم ،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم الخ،الحدیث: ۲۹۶،ص۶۹۶)

{38}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان چار لوگوں کو قطعا پسند نہیں فرماتا:   (۱) کثرت سے قسمیں کھانے والا تاجر  (۲) متکبر فقیر (۳) بوڑھا زانی اور  (۴) ظالم حکمران۔ ‘‘

 (سنن النسائی،کتاب الزکاۃ،باب الفقیر المختال،الحدیث: ۲۵۷۷،ص۲۲۵۴)

{39}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھ پر جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین افراد پیش کئے گئے ،جو یہ ہیں :   (۱) زبردستی حکمران بننے والا  (۲) اپنے مال میں سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا حق ادا نہ کرنے والا مال دا ر اور  (۳) متکبر فقیر۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب اخبارہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمالخ،باب صفۃ النارواہلہا،الحدیث: ۷۴۳۸،ج۹،ص۲۸۲)

{40}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین افراد جنت میں داخل نہ ہوں گے:  بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور خود پسند۔ ‘‘  (مجمع الزوائد، کتاب الحدود، باب ذم الزنا، الحدیث:  ۱۰۵۳۶،ج۶،ص۳۸۸)

{41}…حضورنبی ٔ کریم ،رؤف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ متکبر فقیر، بوڑھا زانی اور اپنے عمل سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر احسان جَتانے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘   (التاریخ الکبیرللبخاری،باب النون،باب نافع ، الحدیث:  ۱۱۵۹۳ / ۲۲۵۵،ج۷،ص۳۸۷)

{42}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اِترا کر چلے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر ناراض ہوگا۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن عمر، الحدیث:  ۶۰۰۲،ج۲،ص۴۶۲)

{43}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے جا رہا تھا، تکبر کے مارے اس کا تہبند لٹک رہا تھا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے زمین میں دھنسادیا اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا رہے گا۔ ‘‘

 (المطالب العالیۃ لابن حجر، باب الزجرعن الخیلاء ، الحدیث:  ۵۵۴۶،ج۴،ص۵۶۸)

{44