Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                علامہ ہروی علیہ رحمۃاللہ  القوی نے اپنی کتاب  ’’ الاشراف ‘‘  اور قاضی شریح رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب  ’’ الروضۃ ‘‘  میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ’’ اِجماع عام (یعنی سلف سے منقول ہر دور میں قائم رہنے والا اجماع )  کامخالف ہر قول بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ ‘‘

چوتھی تعریف:

                 سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک اُمورِ دینیہ کی انجام دہی میں لاپرواہی و بے توجہی سے کام لینا کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ دینی اُمور کی بجاآوری میں حد سے زیادہ نرمی اختیار کرنا عدالت (یعنی گواہ بننے کی صلاحیت)  کو باطل کردیتاہے اورلا پرواہی و بے توجہی اُمور دینیہ کی ادائیگی اس بات کو ثابت نہیں کرتی بلکہ اس کے مرتکب سے ظاہری طورپر حُسنِ ظن باقی رہتا ہے اور اس کی عدالت کو باطل نہیں کرتا۔

                سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ دو متضادچیزوں میں فرق کرنے کے لئے یہ سب سے بہتر تعریف ہے۔ ‘‘  یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن قشیری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  ’’ المرشد ‘‘  میں اسے ذکر کیا اور سیدنا امام سبکی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ نے اس تعریف کو پسند کیا ہے۔

                اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی فعل کو ہیچ اور حقیر جانتے ہوئے سر انجام دے لیکن اس کا یہ ہیچ سمجھنا دیانۃً نہ ہو بلکہ حد درجہ تقوی اور اُمید ِمغفرت کی وجہ سے ہو تو گناہِ کبیرہ ہو گا اور اگر وہ فعل محض دل میں پیدا ہونے والے وسوسے یا پھر آنکھ کے  بہک جانے کے سبب ہو تو صغیرہ ہو گا۔ یہاں دیانۃً سے مراد یہ ہے کہ وہ اصلاً اس فعل کو حقیر نہ جانتا ہو کیونکہ اُمورِ دینیہ میں سے کسی چھوٹے سے فعل کو بھی حقیرسمجھنا کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعریف میں جو الفاظ استعمال کئے وہ لا پرواہی وبے توجہی کے ہیں ،یہ نہیں کہا کہ قطعاً ان کی پرواہ ہی نہ کی جائے۔کفر اگرچہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے لیکن یہاں مراد اس کے علاوہ وہ افعال ہیں جو کہ ایک مسلمان سے سر زد ہوتے ہیں ۔

                علامہ برماوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ متأخرین علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمنے امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کو ترجیح دی شاید اس وجہ سے کہ احادیث میں جو کبیرہ گناہوں کی تفصیل مروی ہے اور قیاس کے مطابق جوگناہ کبیرہ ہیں ان سب کو امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول کفایت کرتا ہے۔ ‘‘ گویا ایسے محسوس ہورہا ہے کہ علامہ برماوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے ان اعتراضات کو نہیں دیکھا جو انہوں نے سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے اس قول کے بارے میں کئے ہیں ۔

                حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب حضرت سیدنا امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام میں غورو فکر کریں تو یہ بات معلوم ہو گی کہ ان کے نزدیک اس تعریف میں کبیرہ پر کوئی حد نہیں ان لوگوں کے برعکس جنہوں نے اس تعریف سے یہ سمجھا ہے کہ یہاں بھی حد ہے، کیونکہ یہ تعریف ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل ہے جو کبیرہ گناہ نہیں ، نیز اس تعریف میں ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل کردیا گیاہے جن سے عدالت باطل ہو جاتی ہے اگرچہ وہ گناہِ صغیرہ ہی کیوں نہ ہوں ۔

                یہ تعریف پہلی دوتعریفوں سے زیادہ عام ہے کیونکہ یہ آئندہ آنے والے تمام کبیرہ گناہوں پر صادق آتی ہے مگر یہ تعریف مانع نہیں جیسا کہ آپ جان چکے ہیں کہ یہ صغیرہ گناہوں پر بھی صادق آتی ہے مثلاً صغیرہ پر اصرار وغیرہ۔

                علامہ برماوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے سیدنا امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے گذشتہ توجیہات نقل کرکے ارشاد فرمایا:  ’’ بعض محققین  رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں کہ ان تما م تعریفات کو جمع کرلینا چاہئے تا کہ قرآن وسنت اور قیاس سے معلوم شدہ کبیرہ گناہوں کو شمار کیا جاسکے کیونکہ بعض گناہوں پر ایک تعریف پوری طرح صادق نہیں آتی تو بعض پر دوسری اس لئے ان تعریفات کو جمع کرنے ہی سے ان کی صحیح تعداد معلوم ہوسکتی ہے ۔ ‘‘  

                مَیں  (مصنفرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) کہتاہوں : امام صاحب کی اس تعریف میں جو بھی تھوڑا بہت غورو فکر کرے تو اس پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ آئندہ بیان کئے جانے والے ہرگناہ پریہ تعریف پوری اُترتی ہے۔ ‘‘  اور  ’’ الخادم ‘‘  میں سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے قول کونقل کرنے کے بعد صاحبِ کتاب لکھتے ہیں :  ’’ تحقیق یہ ہے کہ ان وجوہات میں سے ہر ایک کبیرہ گناہوں کی بعض اقسام پر ہی منحصر ہے، جبکہ ان سب کے مجموعے سے کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ کلیہ حاصل ہوجاتاہے۔ ‘‘  

                اسی لئے علامہ ماوردی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ’’ کبیرہ گناہ وہ ہے جو حد کو واجب کرے یا جس پر وعید آئی ہو۔ ‘‘  اور  علامہ ابن عطیہ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:  ’’ ہر وہ گناہ جس پر حد واجب ہو یا جس کے ارتکاب پر جہنم کی وعید یالعنت آئی ہو وہ کبیرہ ہے۔ ‘‘  اور امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی بیان کردہ تعریف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ’’ اگر کوئی شخص چوری کے نصاب سے کم مالیت کا مال غصب کرلے تو وہ گناہ صغیرہ کا مرتکب ہے حالانکہ اس کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، لہٰذا قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہونا چاہئے اور اسی طرح اجنبی عورت کو بوسہ دینا صغیرہ گناہ ہے حالانکہ ایسا کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں گناہوں کا صغیرہ ہونا ان علماء کرام کی رائے کے مطابق ہے جو ان تمام تعریفات کو جمع کرنے والے ہیں ، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا جبکہ سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی تعریف کے مطابق یہ دونوں کبیرہ ہیں لہٰذا اعتراض ہی نہ رہا، نیز یہ اعتراض تو اس وقت درست ہوتا جب علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اس بات پر اتفاق ہوتا کہ یہ صغیرہ گناہ ہیں حالانکہ یہ ایسے افعال ہیں جن کے کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے۔

پانچویں تعریف:

                 ’’ ہر وہ فعل جو حد واجب کرے یا اس کے ارتکاب پر وعید آئی ہے وہ کبیرہ ہے جب کہ جس فعل میں گناہ کم ہو وہ صغیرہ ہے۔ ‘‘ اس تعریف کو علامہ ماوردی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے  ’’ الحاوی ‘‘  میں ذکر کیا ہے۔

چھٹی تعریف:

                 ’’ ہروہ گناہ جو بذات خود حرام اور فی نفسہٖ ممنوع ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  اگر کوئی شخص ایسے فعل کا ارتکاب ان دونوں قیودات یا حرمت کی دیگر وجوہات کو پیشِ نظر رکھ کر کرے تو یہ زیادہ بُرا ہے جیسے زنا ایک کبیرہ گناہ ہے اور پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا اورزیادہ سخت بُراہے۔اس وقت تک صغیرہ گناہ صغیرہ ہی رہے گا جب تک کہ اس کا مرتبہ منصوص علیہ (یعنی جس کے کبیرہ ہونے کاواضح حکم ہو)  سے کم ہو یا وہ منصوص علیہ سے کم درجہ کی کسی اور علَّت کے مقابل ہو اور اگر اس میں دو یا دو سے زیادہ حرمت کی وجوہات پائی جائیں تو وہ صغیرہ، کبیرہ ہوجائے گا ،لہٰذا بوسہ دینا ، چھونا اور رانوں پر ران رکھنا صغیرہ گناہ ہیں لیکن پڑوسی کی بیوی  کے ساتھ یہ کام کبیرہ گناہ ہیں ۔) [1]  (جیسا کہ علامہ


 



...[1] اجنبی عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو اگرچہ دیکھنا جائز ہے مگرچھونا جائز نہیں اس لئے کہ شہوت کا مکمل اندیشہ ہے کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت (اور بلوائے عام) ہے۔ چھونے کی ضرورت نہیں لہٰذا چھوناحرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہیں اس لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بوقت بیعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے ،ہاں اگر وہ بہت بوڑھی ہو ں کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اگر مرد زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنے کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کر سکتا ہے ۔(بہارِ شریعت، ج ۲،حصہ ۱۶،ص۷۸)



Total Pages: 320

Go To