Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{120}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اُحدکے دن سے بھی زیادہ کوئی سخت دن گزرا ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بیشک مجھے تمہاری قوم سے بہت ایذاء پہنچی ہے جب میں نے خود کو ابن عبد یالیل بن عبد کُلال پر پیش کیا تو اس نے میری دعوت قبول نہ کی لہٰذا میں رنجیدہ چہرہ لئے چل دیا، جب میں  ’’ قَرْنُ الثَّعَالِبْ ‘‘   (جوایک جگہ کا نام ہے وہاں ) پہنچا تب مجھے افاقہ ہوا،اچانک میں نے اپناسر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ فگن ہے، میں نے اسے دیکھا تو اس میں جبریلِ امین (عَلَیْہِ السَّلَام)  نظر آئے انہوں نے مجھے پکار کر عرض کی :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اپنی قوم سے گفتگواور ان کا جواب سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں  ’’ مَلَکُ الْجِبَال (یعنی پہاڑوں پر مقرر فرشتے )  ‘‘ کو بھیجاہے تا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم ارشاد فرمائیں ۔ ‘‘  پھر  ’’ مَلَکُ الْجِبَال‘ ‘نے مجھے مخاطب کر کے سلام کیا اور عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! بیشک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اپنی قوم کو دی گئی دعوت اور ان کے جواب کو بھی سن لیا ہے، میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ  ہوں ، مجھے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں اس لئے بھیجاہے تا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے اپنی قوم کے بارے میں جوچاہیں حکم ارشاد فرمائیں ، اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچاہیں تو میں ان پر ان دو پہاڑوں کو ملا دوں ؟ ‘‘  تو میں نے کہا:  ’’ مجھے اُمید ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کی پشتوں سے ایسے لوگوں کو پیدافرمائے گا جو ایک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ ‘‘            (صحیح مسلم ،کتاب الجہاد، باب مالقی النبیالخ، الحدیث: ۴۶۵۳،ص۹۹۸)

{121}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ میں خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جا رہا تھا جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے موٹی دھاریوں والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی،راستے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایک اعرابی ملا اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چادر مبارک کوپکڑ کرزور سے کھینچاتو میں نے دیکھاکہ اعرابی کے چادر کو زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گردن مبارک پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے تھے سختی سے چمٹا لینے کی وجہ سے اس پر چادر کے گوٹے کے نشان پڑگئے تھے، پھر اس اعرابی نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ کے پاس موجود اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مال میں سے میرے لئے کچھ حکم دیجئے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس اعرابی کی طرف توجہ فرمائی اورمسکرانے لگے پھر اس کے لئے کچھ مال دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ‘‘  

 (صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی الخ،الحدیث: ۳۱۴۹،ص۲۵۴)

{122}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ گویا میں سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانبیاء کرام میں سے ایک نبی علیٰ نبینا وعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  کی حکایت بیان فرما رہے ہیں کہ انہیں ان کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا اور وہ نبی علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  اپنے چہرہ مبارک سے خون صاف کرتے ہوئے دعا مانگ رہے تھے :  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری قوم کو معاف فرمادے کہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین،باب ۵،الحدیث: ۶۹۲۹،ص۵۷۸)

{123}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پہلوانی لوگوں کو پچھاڑ دینے میں نہیں بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پالے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، الحدیث: ۶۱۱۴،ص۵۱۶ )

{124}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے اور وہ حلم اور وقار ہیں ۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب الامر بالایمانالخ، الحدیث: ۱۱۷،ص۶۸۳)

                آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات حضرت سیدنا عبدا لقیس اشج رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشا د فرمائی تھی، اس کا بیان آگے آئے گا۔

{125}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بیشک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ رفیق ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو نرمی کے علا وہ کسی شے پر عطا نہیں فرماتا ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ،باب فضل الرفق، الحدیث: ۶۶۰۱،ص۱۱۳۱)

{126}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اسے زینت بخشی ہے اور جس چیز سے نرمی نکل جاتی ہے اُسے عیب دارکردیتی ہے۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ،باب فضل الرفق، الحدیث: ۶۶۰۲،ص۱۱۳۱)

{127}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو نرمی سے محروم رہا وہ ہربھلائی سے محروم رہا۔ ‘‘                                                                                 (المرجع السابق، الحدیث: ۶۵۹۸،ص۱۱۳۱)

{128}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بیشک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم فرمایا ہے،پس جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے (یعنی بغیر اذیّت پہنچائے فوراً)   قتل کر و  اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کی دھار تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ،کتاب الصید والذبائحالخ،باب الامرباحسان الذبحالخ، الحدیث: ۵۰۵۵،ص۱۰۲۷)

{129}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں :  ’’ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راہ خدا

Total Pages: 320

Go To