Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ فرماتے ہیں :  ’’ مگر جب تک وہ اپنی خواہش پر عمل نہ کرے تو اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو اسے اس حسد کی لعنت سے عافیت عطا فرمائے گا، اور اس کا اپنی اس خواہش کو ناپسند کرنا ہی اس کے لئے کفارہ ہو جائے گا۔ ‘‘

تنبیہ 8:

حسد کے مراتب

                حسد کی حقیقت اور اس کے احکام جان لینے کے بعد اب اس کے مراتب بیان کئے جاتے ہیں ۔

 حسد کے چار مراتب ہیں :  

                 (۱)  کسی کی نعمت کے زوال کی اس طرح تمنا کرنا کہ خود کو اس نعمت کے حصول کی خواہش نہ ہو یہ حسد کاانتہا ئی درجہ ہے  (۲۔۳)  غیر کی نعمت کے زوال کے ساتھ ساتھ بعینہٖ اسی نعمت یااس جیسی دوسری نعمت کے حصول کی تمنا کرنا، اگر محسود (یعنی جس سے حسد ہوا س)  کی نعمت یااس جیسی نعمت حاسد کو حاصل نہ ہو تو محض اس سے نعمت کے زوال کی تمنا اس لئے کرنا کہ وہ اس سے ممتاز نہ ہوسکے اور  (۴) غیر سے نعمت کے زائل ہونے کی خواہش تو نہ ہو مگر آدمی یہ پسند کرے کہ وہ اس سے ممتا ز بھی نہ ہو۔ یہ آخری صورت اگر دنیا کے بارے میں ہوتو حسدکی معاف شدہ صورت ہے اور اگر دین کے معاملہ میں ہوتو مطلوب ہے۔

تنبیہ 9:

                بلا شبہ حسد دل کے بڑے امراض میں سے ہے اور چونکہ دل کی باطنی بیماریوں کا علاج علم ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے لہٰذا حسد کے مرض کے لئے نفع بخش علم یہ ہے کہ تم یہ بات جان لو کہ حسد تمہارے دین اور دنیا دونوں کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ محسود کے دین ودنیا کے لئے ہرگز مضر نہیں ، کیونکہ حسد سے کبھی کوئی نعمت زائل نہیں ہوئی، ورنہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی کسی پر کوئی نعمت باقی ہی نہ رہتی یہاں تک کہ کسی کے پاس ایمان کی دولت بھی باقی نہ رہتی، کیونکہ کفار کی تو ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ کسی بھی طرح اہلِ ایمان سے ایمان کی دولت چِھن جائے، البتہ محسود کو دینی اعتبار سے تمہارے حسد کی وجہ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ وہ تمہاری جانب سے مظلوم ہوتا ہے خصوصاً جب تم غیبت اور اس کی بے عزتی یاکسی اور ذریعے سے اس کو تکلیف پہنچا کر اپنے حسد کو ظاہر کرتے ہو تو ایسی صورت میں تم خود اپنی جانب سے اس کی خدمت میں اپنی نیکیوں کو بطور تحفہ وہدیہ پیش کر رہے ہوتے ہو حتی کہ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اس حالت میں ملاقات کروگے کہ تم اس شخص کی طرح مفلس ہو گے جو اس وقت بھی ان نعمتوں سے اسی طرح محروم ہو گا کہ جس طرح دنیا میں محروم تھا، اورتم جس شخص سے حسد کرتے رہے وہ تمہارے دکھ درد وغیرہ سے بے پرواہ اور محفوظ ہو گا، لہٰذا جب تمہاری بصیرت کا پردہ اور دل کا زنگ چھٹ چکا ہے اور تم نے اس بارے میں غورو فکر بھی کر لیا ہے نیزتم خود اپنی جان کے دشمن بھی نہیں اور نہ ہی اپنے دشمن کے دوست ہو توپھرایک عظیم خطرے میں مبتلا ہو جانے کے ڈرسے اس موذی حسد سے منہ پھیر لو، اور وہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں تم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے پر ناراض ہوکر اس کی تقسیم اور عدل کو ناپسند کرو جو کہ گناہ ہے یعنی ایسا گناہ گویا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی توحید پر جرأت کرنا ہے اوردین کی بربادی کے لئے یہی جرأت کافی ہے۔

                ایسا کیونکر نہ ہوجبکہ تم نے اپنے اس عمل سے انبیاء کرامعلیہم الصلوٰۃ والسلام، اولیاء کرام اور باعمل علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کے اس گروہ سے جدائی اختیار کرلی جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کو خیر پہنچانا پسند کرتے ہیں اور ابلیس وشیاطین کے اس گروہ میں شرکت کر لی ہے جو مؤمنین کے لئے مصیبتوں اور نعمتوں کے زوال کو پسند کرتے ہیں ؟ دل کی یہ گندگی تمہاری نیکیوں کو اس طرح کھا جائے گی جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ حسد تمہارے دنیوی ضرر یعنی رنج وغم میں بھی اضافہ کرتاہے وہ ایسے کہ جب تم محسود کو دیکھتے ہو کہ اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اورتمہاری نعمتوں میں کمی ہو رہی ہے تو تم  غمگین ہو جاتے ہو،پس یہ تمہارے حسد ہی کی آفت ہے کہ تم ہمیشہ اِنتہائی غمگین، رنجیدہ خاطر، تنگ دل اور شکستہ رہتے ہو،پس اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ تم آخرت میں دوبارہ جی اٹھنے اور حساب وکتاب کو نہیں مانتے تب بھی حسد کو چھوڑ دینا ہی مناسب ہے تاکہ تم اُخروی عذاب سے پہلے ان دُنیوی سزاؤں سے بچ سکو۔اس ساری گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم خود ہی اپنے دشمن اور اپنے دشمن کے دوست ہو کیونکہ تم ایک ایسی چیز کے عادی ہو جو دنیا وآخرت میں تمہارے لئے تونقصان دہ ہے جبکہ تمہارے دشمن کے لئے نفع مند ہے اوریوں تم دنیا وآخرت میں خالق عَزَّ وَجَلَّ  اور مخلوق دونوں کے نزدیک قابلِ مذمت اور بد بخت ہو جاؤ گے۔

حسد کاعلاج

                اس مرض کے لئے نافع عمل یہ ہے کہ تم اپنے نفس کو اس بات کاپابندکرو کہ وہ محسود کے ساتھ اپنے حسد کے خلاف سلوک کرے، مثلاً مذمت کو مدح سے، اس کے سامنے تکبر کرنے کو تواضع اور عاجزی سے، اس پر سختی کرنے کو نرمی میں اضافہ کرنے سے بدل دے، اس طرح حسد کی بیماری کمزور ہو جائے گی اور جب تم حسد کے خلاف عمل میں اضافہ کروگے تو تمہارے حسد میں کمی آجائے گا یہاں تک کہ یہ بالکل ہی ختم ہوجائے گا، اگر سمجھ جاؤ گے تو سلامتی پا لوگے اوراس پرعمل کرو گے تو نفع پاؤ گے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی توفیق دینے والا ہے اور اسی کی طرف تمام اُمور لوٹتے ہیں ۔

تنبیہ 10:

                اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان اس شخص سے بغض رکھتا ہے جو اس کے لئے فطرتاً تکلیف دہ ہو، لہٰذا اس کے نزدیک اس شخص کی اچھی اور بری حالتیں بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتیں ، یہی وجہ ہے کہ شیطان نفس کو اس سے حسد کرنے پر ابھارتا ہے اب اگر وہ اس کی بات مان لے یہاں تک کہ حسد اس کے قول یا کسی اختیاری فعل سے ظاہر ہوجائے، یا پھر وہ دل میں اس کی نعمت کے  زوال کی محبت رکھے تو نفس کا ایسا کرنا گناہ ہے، کیونکہ حسدکے گناہ ہونے کا تعلق ہی دل سے ہے، اور یہ ایک ایسا باطنی گناہ ہے جس کااصل تعلق مخلوق سے ہی ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو اس کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ محسود سے معافی مانگے کیونکہ یہ ایک باطنی معاملہ تھا جس کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔

                جس وقت تم اپنے ظاہر کو روک لو اور اپنے دل کو اس بات پر مجبور کر دو کہ اس میں فطرتی طور پر دوسروں کی نعمت کے زوال کی جو محبت پختہ ہوچکی ہے وہ اس کو ناپسند کرے، یہاں تک کہ ایسا محسوس ہو گویا کہ تم اپنے نفس کو اس کی فطرتی غذا مہیا کرنے والے تو ہو لیکن اب اس کی ناپسندیدگی کا رخ اس کے فطری میلان کی بجائے عقل کی جانب ہو گیا ہے تو اس وقت ایسا لگے گا کہ تم اپنے فرضِ منصبی سے سبکدوش ہو گئے ہو اور اس سے بڑھ کر غالباًتم کسی اختیار کے تحت بھی داخل نہیں ہوگے۔

                باقی رہی طبیعت اور فطرت کی تبدیلی کہ اس کے نزدیک احسان کرنے والے اور تکلیف دینے والے ہر دو افراد برابر ہو جائیں کہ دونوں پر انعام کی وجہ سے اس کا خوش ہونا اور دونوں پر کسی مصیبت کی وجہ سے اس کا دکھ محسوس کرنا ایک طرح کا ہو، تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا متحمل ہونا طبیعت کے لئے اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جبکہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں مستغرق ہو اور اس کی مشغولیت ایسی ہو کہ وہ ساری مخلوق کو ایک ہی نگاہ ( یعنی شفقت کی نظر ) سے دیکھے،پس جب اس قسم کی حالت کا حاصل ہونا ممکن نہ ہو تو پھر فطرت وطبیعت میں بھی دوام نہیں رہتا بلکہ وہ بھی بجلی کی طرح آئی اور گئی ہو جاتی ہے، اس کے بعد



Total Pages: 320

Go To