Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{108}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے کسی شخص کو اس کی والدہ کے بارے میں عار دلائی،  کہتے ہیں کہ وہ  حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  تھے، توسرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان پر عتاب فرمایا، پھر ان سے ارشاد  فرمایا:   ’’ اے ابو ذر!  نظر اٹھا کر آسمان اور اس کے خالق عَزَّ وَجَلَّ  کی عظمت کی طرف دیکھو، پھر یہ یقین کر لو کہ تم کسی سرخ یاسیاہ سے افضل نہیں ، مگریہ کہ تم علم میں اس سے افضل ہو جاؤ۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا :  ’’ جب تمہیں غصہ آیا کرے تو اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے ہو تو ٹیک لگا لو اور اگر ٹیک لگا کر بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ ‘‘

 (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذم الغضب والحقدوالحسد،باب بیان علاج الغضب بعدھیجانہ،ج ۹،ص۴۲۸)

 تنبیہ 5:

            جب تم پر غیبت، الزام تراشی یاعیب جوئی کے ذریعے ظلم کیا جائے تو تمہارے لئے مناسب نہیں کہ تم بھی اس کے مقابلہ میں ویسا ہی کرو کیونکہ بدلے میں برابری کو جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں ، جبکہ قصاص بھی انہیں چیزوں میں ہوتا ہے جن میں برابری ہوتی ہے، البتہ ہمارے  (شافعی) اَئمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے رخصت دی ہے کہ اس کا مقابلہ ایسی شے سے کرے جو کسی سے جدا نہیں ہوتی جیسے احمق کہ حماقت اس سے جدا نہیں ہوتی ۔

                حضرت سیدنا مطرف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ہرانسان اپنے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے مابین معاملہ میں احمق ہے مگر بعض کی حماقت دیگر بعض سے کم ہوتی ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’  ذاتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  کی معرفت کے معاملہ میں ہر انسان احمق اور جاہل کی طرح ہے کیونکہ جہالت تو ہرایک میں ہوتی ہے۔ ‘‘

                سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ فرماتے ہیں :  ’’ اے بد اخلاق!  اے بے حیا!  اے عزتوں کو دَاغدارکرنے والے!  بشرطیکہ اس میں یہ وصف ہو، اگر تجھ میں حیا ہوتی تو ہر گزا یسی بات نہ کہتا جس نے تجھے میری نظر میں حقیر کردیا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھے رسوا کرے اور تجھ سے اِنتقام لے۔ ‘‘

                کسی پر تہمت لگانا اور والدین کو گالیاں دینا توبالاتفاق حرام ہے اور اس کو جائزکہنے کی صورت میں دلیل یہ ہے کہ،

{109}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کو کسی وجہ سے طعنہ دیا، تو حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے انہیں ایسا جواب دیا کہ وہ حضرت سیدتنا زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا پرغالب آ گئیں جبکہ حضور نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی موجود تھے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ  (واقعی)  اپنے باپ کی بیٹی ہے۔ ‘‘                                               (الدرالمنثور فی التفسیر بالمأثور، سورۃ النور، تحت الآیۃ ۲۶،ج۶،ص۱۶۹)

                یہاں طعنہ دینے سے مراد حق اورسچ بات کے مطابق جواب دینا ہے، یہ اگرچہ جائز ہے مگر اسے ترک کر نا افضل ہے  کیونکہ یہ قبیح اور برے اعمال کی طرف لے جاتا ہے چنانچہ،

{110}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کو غصہ جلدی آتا ہے اور وہ  راضی بھی جلدی ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ اسی وجہ سے ہے۔ ‘‘  

 (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،باب بیان القدرالذی یجوزالخ،ج۳،ص۲۲۳)

{111}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کو غصہ اور رضا کے لحاظ سے تیز اور سست دو حصوں میں تقسیم فرما دیا ہے لہٰذا جو کسی ایک میں تیز ہو گا تو دوسرے میں سست ہو گا،اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان میں سے غصہ کے سست اور رضا میں جلدی کرنے والے کو بہتر بنایا اور اس کے بر عکس کو بدتر بنایا۔ ‘‘

تنبیہ 6:

                گذشتہ صفحات میں گزراکہ حسد  اور کینہ غضب کے نتائج ہیں ، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اسے نافذ کرنے پر قدرت نہ پانے کی وجہ سے پی لے تو وہ ( غصہ)  باطن کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اس میں قرار پکڑ لیتا ہے پھر وہ کینہ اور حسد بن جاتا ہے، جس وقت انسان کے دل پراس غصے کا بوجھ اوربغض ہمیشہ کے لئے طاری ہوتاہے تو وہی اصل میں کینہ ہوتا ہے، اور اس کے نتائج یہ مرتب ہوتے ہیں کہ بندہ اپنے مغضوب ( یعنی جس پر غصہ آیااس ) سے حسد کرنے لگتا ہے یعنی اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کرکے اس نعمت سے خود نفع اٹھانا چاہتا ہے، یااس کی پریشانی پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور اس سے جدائی اختیار کرکے تعلق توڑلیتا ہے، اور اگر وہ اس کے پاس آ جائے تو اس کی زبان اس کے بارے میں حرام کی مرتکب ہوتی ہے اوروہ اس کا مذاق اڑاتا، مسخری کرتا اور ایذا دیتا ہے، نیز اس سے اس کا حق روک لیتا ہے مثلا ًصلہ رحمی اور ظلم دور کرنا وغیرہ اور یہ تمام کام سخت گناہ اور حرام ہیں اور کینہ کاسب سے کم تر درجہ دین کو نقصان پہنچا نے والی ان آفا ت سے اِحتراز کرنا ہے۔ چنانچہ،

{112}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کینہ پرور نہیں ہوتا۔ ‘‘                                                               (کشف الخفاء ،حرف المیم، الحدیث: ۲۶۸۴،ج۲،ص۲۶۲)

تنبیہ7:

                ابھی آپ نے حسد کا مطلب جان لیا کہ حسد صرف اس نعمت پرہوتاہے جس کو آپ غیر کے لئے ناپسند کریں اور اس سے اس نعمت کے زوال کو پسند کریں ، اگر آپ اپنے لئے اس نعمت کو پسند کریں اور غیر سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کریں تو یہ غِبطہ ( یعنی رشک کرنا)  کہلاتا ہے۔اور بعض اوقات کسی کام میں سبقت لے جانے کو بھی حسد کہاجاتا ہے جیسا کہ یہ حدیث مبارکہ گزری کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسد ([1])   (یعنی رشک) صرف دو بندوں سے ہی ہو سکتا ہے۔ ‘‘   (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن مسعود، الحدیث: ۳۶۵۱،ج۲،ص۲۹)

{113}… صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن رشک کرتاہے جبکہ منافق حسد کرتا ہے۔ ‘‘                                  (کشف الخفاء ،حرف المیم، الحدیث: ۲۶۹۳،ج۲،ص۲۶۳)

 حسد کے احکام

                جب یہ بات ثابت ہوگئی تو جان لیں کہ پہلی صورت یعنی حسد حرام اور ہر حا ل میں فسق ہے، البتہ فاسق کی نعمت کے زوال کی اس لئے تمنا کرنا کہ وہ نعمت اس کے فساد اور مخلوق کو ایذاء دینے کا ذریعہ ہے اور یہ کہ اگر اس کی حالت درست ہوتی تو اس کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جاتی تو یہ ہر گز حرام نہیں کیونکہ اس کے زوال کی تمنا اس کے نعمت ہونے کے اعتبار سے نہیں کی جا رہی بلکہ اس کے آلۂ فساد اورذریعہ ایذاء ہونے کی وجہ سے کی جا رہی ہے، جبکہ ہماری بیان کردہ احادیث حسد کی حرمت، اس کے فسق اور کبیرہ گناہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔

 



[1] ۔۔۔۔ دوآدمیوں سے رشک کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :’’(۱)وہ شخص جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن عطافرمایا تواس نے اس کے احکامات کی پیروی کی، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانااور (۲)وہ شخص جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا تو اس نے اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کا عمل کیا تو اس جیسا ہونے کی تمنا کرنا درست ہے۔‘‘       (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۴۳۶،ج۳،ص۱۸۵)



Total Pages: 320

Go To