Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تنبیہ 4:

                گذشتہ احادیث سے غصہ کی دوا اور اس کے ہیجان کے بعد اسے زائل کرنے اور علم وعمل کی طرف رجوع کاپتہ چلتا ہے، لہٰذا انسا ن کو چاہئے کہ غصہ پینے کی فضیلت میں وارد آئندہ آنے والی روایات اور عفوودرگزر، بردباری اور صبر کے فضائل میں غور کرے کیونکہ اس طرح انسان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے تیار کردہ ثواب میں رغبت کرتاہے جس سے اس کا غصہ اور اہانت وسزا کی طرف مائل کرنے کا سبب زائل ہو جاتا ہے، اسی لئے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو مارنے کاحکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:  

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (۱۹۹)   (پ۹، الاعراف: ۱۹۹)

 ترجمۂ کنز الایمان :  اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

جب حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ آیت مبارکہ سنی اور اس میں غور کیا تو اُسے معاف فرمایادیا، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی عادت مبارکہ تھی کہ قرآن پاک سن کراپنے فیصلے سے رُک جاتے اور اس سے تجاوز نہ فرماتے تھے۔

                اس معاملہ میں حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے بھی حضرت سیدنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی پیروی کی یوں کہ جب آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ   (پ۴، اٰل عمران: ۱۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور غصہ پینے والے۔

 تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے بھی اسے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔

غصہ زائل کرنے کے مختلف طریقے

                پہلا  طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اپنے اوپرقدرت میں غور کرے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر غضب فرمائے گا کیونکہ انسان قیامت میں عفوودرگزرکا زیادہ محتاج ہوگا، اسی لئے حدیثِ قدسی میں آیا ہے :  ’’ اے ابن آدم!  جب تجھے غصہ آئے تو مجھے یاد کر لیا کر میں تجھے اپنے غضب کے دوران یاد رکھوں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تجھے ہلاک نہ کروں گا۔ ‘‘

                دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بندہ خود کو سامنے والے کے انتقام لینے سے ڈرائے کہ اگر کوئی شخص اس سے انتقام لینے پر مسلط ہو جائے،اس کی عزت دَری کرے، اس کے عیوب کو ظاہر کرے اور اس کی مصیبت پر خوشی کے اِظہار وغیرہ جیسے دشمنانہ افعال کرے  (تو اس پر کیا گزرے گی) یہ وہ دنیوی مصیبتیں ہیں جس سے آخرت پرکامل بھروسہ نہ کرنے والے کو بھی چاہئے کہ ان سے غفلت نہ برتے ۔

                تیسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان غصہ کی حالت کی بری صورت میں غور کرے اور اپنے نزدیک غصہ کی قباحت اور غضب ناک شخص کی کاٹنے والے کتے سے مشابہت کا تصور وخیال کرے اور بردبار شخص کی اَنبیاء و اولیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ورَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی سے مشابہت میں غور کرے اور پھر ان دونوں مشابہتوں کے فرق میں غور وفکر کرے۔

           چوتھا طریقہ یہ ہے کہ انسان غصہ کو ابھارنے والے شیطانی وسوسہ پر کان ہی نہ دھرے کیونکہ اگر وہ اسے چھوڑ دے تو وہ اسے لوگوں کے سامنے عاجز ظاہر کر دے گا اور یہ سوچے کہ اس کا غصہ اور انتقام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے عذاب اور اس کے انتقام سے کمتر ہے کیونکہ غضب ناک شخص کسی چیز کو اپنی چاہت کے مطابق دیکھنا چاہتاہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے اِرادے پر نظر نہیں رکھتا۔ اور جواس آفت میں مبتلا ہوجائے تو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے غضب اور اس کے عذاب سے بے خوف نہیں ہوسکتا جو کہ بندے کے غصہ اور انتقام سے بہت بڑا اور سخت ہے۔

                پانچواں طریقہ یہ ہے کہ وہ یہ عمل کرے کہ شیطا ن مردود سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی پناہ چاہے اور اپنی ناک پکڑ کر یہ دعا مانگے:  اَللّٰھُمَّ رَبِّ النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ اِغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ۔ (یعنی یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ !  اے حضرت سیدنا محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رب عَزَّ وَجَلَّ !  میرا گناہ بخش دے اور میرے دل کے غیظ کو دور فرما اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں کی آماجگاہ سے نجات عطا فرما)  کیونکہ یہ دعا حدیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے، پھر اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے پھر بھی غصہ ختم نہ ہو تو لیٹ جائے  تاکہ اسے جس زمین سے پیدا کیا گیا ہے اس کے قریب ہو جائے حتی کہ وہ اپنی اصل کے حقیر ہونے اور اپنے نفس کی ذلت کوپہچان لے اور غصہ سے پیدا ہونے والی حرکت اور حرارت سے پیدا ہونے والا غضب سکون پالے چنانچہ،

{102}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک غصہ دل میں دہکنے والا ایک انگارہ ہے، کیا تم غصہ کرنے والے کی رگیں پھولتے اور آنکھیں سرخ ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا تھا تو لیٹ جائے اگر اس سے بھی غصہ زائل نہ ہو تو ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرے کیونکہ آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے۔ ‘‘  (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، باب بیان علاج الغضب بعد ھیجانہ، ج ۹، ص ۴۲۵)

{103}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ پانی سے وضو کرے کیونکہ غصہ آگ سے ہے۔ ‘‘   (المرجع السابق، ص ۴۲۶)

{104}… صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ وضو کر لے۔ ‘‘                 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغصب، الحدیث: ۴۷۸۴،ص۱۵۷۵)

{105}… نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جایا کرو۔ ‘‘  (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، باب بیان علاج الغضب بعد ھیجانہ، ج ۹، ص ۴۲۶)

{106}… دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سن لو کہ غصہ آدمی کے دل میں دہکنے والا انگارہ ہے کیا تم اس کی آنکھوں کی سرخی اور رگوں کے پھولنے کونہیں دیکھتے لہٰذا جسے غصہ آئے اسے چاہئے کہ اپنا گال زمین سے لگا دے یعنی لیٹ جائے۔ ‘‘   (الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی،باب الغصب جمرۃ فی قلب ابن آدم،ج۲،ص۲۸۴)

                سیدناامام غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ شاید یہ سجدوں کی طرف اور معزز ترین اَعضا کو ذلیل ترین جگہ یعنی مٹی پر لگانے کی طرف اشارہ ہے، تا کہ انسان کانفس ذلت کا احساس پائے اور اس کی عزتِ نفس اور غرور وتکبر جوکہ غصہ کے اسباب ہیں ، دور ہوجائیں۔ ‘‘

{107}…امیر المؤمنینحضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک مرتبہ غصہ کے وقت ناک میں پانی چڑھایا اور ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور یہ عمل غصہ کو دور کردیتا ہے۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغصب، الحدیث: ۴۷۸۴،ص۱۵۷۵،بدون ’’ یذہب الغضب ‘‘ )

 



Total Pages: 320

Go To