Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{97}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی:  یارسولَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میں فجر کی نماز فلا ں شخص کی وجہ سے  (جماعت کے بعد)  تاخیر سے ادا کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت لمبی قراء َت کرتا ہے۔ ‘‘   (راوی فرماتے ہیں کہ)  ’’ میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکوجتنے جلال وشدت میں اس دن نصیحت کرتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے اتنی شدت کبھی بھی نہ دیکھی تھی، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے لوگو!  تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو لوگوں کومتنَفِّرکرتے ہیں ، لہٰذاجب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو نماز کو مختصر رکھے کیونکہ اس کے  پیچھے بچے، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ‘‘    (صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ ، باب امرالائمۃالخ، الحدیث: ۱۰۴۴،ص۷۵۱،بتغیرٍ قلیلٍ)

{98}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں :  ’’ ایک مرتبہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر سے واپس تشریف لائے تو میں نے گھر کے دروازے پر ایک ایسا پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں ، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ دیکھا تو اسے پھاڑ ڈالا یعنی اس میں موجود تصاویر کو مسخ کر کے اپنے دستِ اَقدس سے اسے پھینک دیا اور ارشاد فرمایا :  ’’ اے عائشہ!  قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی صفتِ تخلیق کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ ‘‘   (صحیح البخاری،کتاب اللباس، باب ماوطئی من التصاویر،الحدیث: ۵۹۵۴،ص۵۰۵)  

{99}…حضرت سیدنا انس رضی اللہ  تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے قبلہ کی جانب تھوک دیکھا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر بہت گراں گزرا یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ اقدس سے غضب عیاں ہونے لگا، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمخود کھڑے ہوئے اور اپنے دستِ اقدس سے اس کومَل کر صاف کر دیااور ارشاد فرمایا:  ’’ تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ ‘‘  یا ارشاد فرمایا:  ’’ یقینا اس کے اور قبلہ کے درمیان اس کا رب کریم عَزَّ وَجَلَّ  (اپنی شان کے مطابق ) ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی جانب منہ کر کے نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں یا اپنے قدموں میں یا پھر مسجد کے علاوہ کہیں اور جا کر تھوکے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنی چادر مبارک کا ایک کونہ پکڑا اور اس میں تھوک کر اس کو بقیہ چادر کے حصے پر مَلتے ہوئے رگڑا اور ارشاد فرمایا:   ’’ یا پھر وہ ایسا کر لیا کرے۔ ‘‘

 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الصلوٰۃ ، باب من بزق وھو یصلی ، الحدیث: ۳۵۹۵،ج۲،ص۴۱۵،بدون  ’’ الغضب ‘‘ )

تنبیہ 3:

                کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبادت و ریاضت سے غضب مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور کچھ کا کہنا ہے کہ ’’  یہ علاج کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا۔ ‘‘  جبکہ سیدنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ فرماتے ہیں :  ’’ اس کی حقیقت وہی ہے جو ہم بیان کریں گے۔ ‘‘

                حاصل کلام یہ ہے کہ جب تک انسان کسی چیز کو پسند یا ناپسند کرتا ہے تو وہ غضب سے بھی پاک نہیں رہ سکتا، پھر اگر وہ پسندیدہ چیز ضروری ہو مثلاً غذا،رہائش ، لباس اور جسمانی صحت وغیرہ تو اس کی تقویت کے لئے غضب کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے، اور اگر وہ پسندیدہ چیز غیر ضروری ہو مثلاً جاہ ومرتبہ، شہرت، مجالس میں صدارت، علم پر فخر اور کثیر مال وغیرہ توممکن ہے زُہد  (یعنی دنیا سے بے رغبتی ) وغیرہ سے اس پر غضب نہ ہو اگرچہ اس چیز کا پسندیدہ ہونا عادت اورکاموں کے انجام سے ناواقفیت کی وجہ سے ہو، لوگوں کا غضب عام طور پربلکہ اکثر اسی قسم پر ہوتا ہے، یا پھر وہ پسندیدہ چیز بعض کے نزدیک اِنتہائی ضروری ہو گی مثلا ًعلماء کرام کی کتب اور کاریگروں کے آلات وغیرہ، اس قسم میں پسندیدہ چیزکے نہ ملنے پر غضب اسے ہی آتا ہے جس کا انحصار صرف اسی چیز پر ہو دوسرے لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔

                جب یہ معلوم ہو گیا کہ انسان کی پسند کے اعتبار سے تین قسمیں ہو سکتی ہیں یعنی یا تو وہ ضروری ہو گی یا غیر ضروری، یا پھر وہ بعض کے نزدیک ضروری ہو گی۔ تو اب یہ بھی جان لیں کہ پہلی قسم یعنی پسندیدہ ضروریاتِ زندگی کے زوال میں عبادت و ریاضت مکمل طور پر تو مؤثر نہیں ہوتی کیونکہ یہ فطری تقاضے ہیں البتہ اس کو ایک ایسی حد پر رکھنے میں ضرور مؤثر ہوسکتی ہے کہ جس کو شرع اور عقل دونوں اچھا جانتے ہوں ، جو کہ ممکن ہے، وہ اس طرح کہ ایک مدت تک مجاہدات اور بناوٹی بردباری وغیرہ سے کام لیا جائے یہاں تک کہ وہ بردباری وغیرہ اس کی فطرت میں شامل ہو جائے۔ دوسری قسم کازوال بالکلیہ مجاہدات سے ممکن ہے کیونکہ دل سے ایسی اشیاء کی محبت نکالنا ممکن ہے اس وجہ سے وہ ان کا محتاج نہیں ہوتا اور اس بات کے پیش نظر بھی کہ انسان کا حقیقی وطن قبر اور ٹھکانا آخرت ہے، دنیا تو محض بقدرِ ضرورت زادِ راہ اکٹھا کرنے کی جگہ ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تو وطن (یعنی قبر)  اور ٹھکانے (یعنی آخرت)  میں اس پر وبال ہی ہو گا ،لہٰذا دنیا کی محبت کو دل سے مٹا کر اس میں زاہدوں  ( یعنی دنیا سے بے رغبت لوگوں )  جیسی زندگی گزارنا چاہئے،البتہ ایسا بہت کم ہوتاہے کہ عبادت وریاضت اس گناہِ کبیرہ کو جڑ سے اُکھاڑسکے۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالیشان میں غور کر لینابھی مناسب ہے کہ

ّ{100}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ !  مَیں بھی تو لبادۂ بشری میں ہوں اور مجھے بھی اس حالت میں دوسرے انسانوں کی طرح بعض اوقات غصہ آجاتا ہے، لہٰذا ہر وہ مسلمان  جسے میں نے برا بھلا کہا ہو یا اس پر کسی وجہ سے ملامت کی ہو یا اسے مارا ہو تو میرے ان افعال کو قیامت کے دن میری جانب سے اس کے حق میں رحمت ،باعث طہارت اور اپنی قربت کا ذریعہ بنادے۔ ‘‘

 (شرح النووی علی مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب من لعنۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، ج۲،ص۳۲۴)

{101}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمروبن العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا میں ہروہ بات تحریر کر لیاکروں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغصے اور رضا کی حالت میں ارشاد فرماتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں !  لکھ لیا کرو، اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!  اس سے کبھی حق کے علاوہ کوئی بات نہیں نکلتی۔ ‘‘  اور ساتھ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زبانِ حق ترجمان کی جانب اشارہ فرمایا اور یہ نہ ارشاد فرمایا :  ’’ میں تو غصے ہی نہیں ہوتا۔ ‘‘  بلکہ ارشاد فرمایا :  ’’ غضب مجھے حق بات کہنے سے نہیں روکتا۔ ‘‘ یعنی میں غضب وغصہ کے مطابق عمل نہیں کرتا۔

 (ابوداؤد، کتاب العلم ، باب کتابۃ العلم،الحدیث: ۳۶۴۶،ص۱۴۹۳،مفہوماً)

                امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  ’’ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا کے لئے غضب نہ فرماتے تھے، اورجب کبھی حق بات کے لئے غضب فرماتے تو کوئی پہچان نہ پاتا اور اس وقت تک غضب کی وجہ سے کسی چیز کا فیصلہ نہ فرماتے جب تک کہ اس کی تائید وتوثیق نہ ہو جاتی۔ ‘‘

                حاصل کلام یہ کہ غصے سے چھٹکارے کا سب سے بڑا ذریعہ دنیا کی آفات اور مصیبتو ں کی پہچان حاصل ہوجانے کے بعد دل سے اس کی محبت کو مٹا دینا ہے، جبکہ اس میں وقوع کا سب سے بڑا ذریعہ غرور وتکبر، خود پسندی، مِزاح، مذاق مسخری،عار دلانا، نقصان پہنچانا، دشمنی کرنا، بددیانتی کرنا اور غیر ضروری مال وجاہ  (یعنی مقام ومنصب)  کا انتہائی حریص ہونا ہے، یہ سب بری اور شرعًا مذموم عادتیں ہیں اور ان اسباب کی موجودگی میں غصہ سے نجات کی کوئی صورت ممکن نہیں ، لہٰذا اسے ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے زائل کرنا ضروری ہے تا کہ انسان اِن کے مخالف اچھے اوصاف سے آراستہ ہو جائے۔

 



Total Pages: 320

Go To