Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

غیرت مند ہے،اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس بات پر غیرت فرماتا ہے کہ مؤمن وہ کا م کرے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اس پر حرام کر دیا ہے ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب غیرۃ اللہ  وتحریم الفواحش ، الحدیث: ۶۹۹۵،ص۱۱۵۶)

قوتِ غضب میں افراط:

                اس قوت میں افراط یعنی اضافہ بھی نہایت مذموم ہے کیونکہ یہ قوت انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہوجاتا ہے اور اس کے پاس کسی قسم کی دانش وفکر اور اختیار نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مضطر (یعنی بے چین)  اور مجبور قسم کا انسان بن جاتا ہے جس کا اِضطرار یا تو اس کی اپنی طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر دوسروں کی وجہ سے وہ اضطرار کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر یہ دونوں وجہیں ہو سکتی ہیں ، وہ اس طرح کہ اس کی طبیعت اور فطرت ہی میں غضب وغصہ بھرا ہوا ہو، یا اس کا کسی ایسے شخص سے اختلاف ہوجائے جو اسے بڑا جانتا ہو اور اس کی شجاعت اورکمال کا معترف ہو یہاں تک کہ وہ اس شخص سے صرف اپنی تعریف ہی کی توقع کرتا ہو۔ جب کبھی آتشِ غضب شدید ہو کر بھڑک جائے تو وہ اس شخص کو جس کے اندر یہ آگ بھڑک رہی ہوتی ہے، ہر قسم کی نصیحت سننے، سمجھنے سے اسے اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے بلکہ اس حالت میں اس کے نورِ عقل کے بجھ جانے اور ختم ہو جانے کی وجہ سے نصیحت اس کے اِشتعال میں مزید اضافہ کرتی ہے کیونکہ دماغ جو کہ فکر کاسرچشمہ ہے غصے کے بخارات اس  تک پہنچ کر محسوس کرنے کے معادن کو ڈھانپ لیتے ہیں ، جس سے اس کی بصارت (یعنی سمجھ بوجھ)  تاریک ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اسے سیاہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات تو اس کی آتشِ غضب میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل کی وہ رطوبت جس سے دل زندگی پاتا ہے، ختم ہوجاتی ہے تونتیجتًاوہ شخص غصے کی زیادتی کی وجہ سے مر جاتا ہے۔

علاماتِ غضب

جسم پر اَثرات:

                غضب کے جسم پر جو اثرات طاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں :  رنگ کا متغیر ہونا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا نیز کلام کا مضطرب ہوجانا یہاں تک کہ باچھوں سے جھاگ نکلنے لگتی ہے، آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے، ناک کے نتھنے پھول جاتے ہیں ، بلکہ ساری صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے اپنی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں تبدیل پا کر خود بخود ہی اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ کسی بھی انسان کی ظاہری حالت اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے لہٰذا جب باطنی کیفیت ہی

 بری ہو گی تو ظاہری حالت بھی تو اسی برائی پر پروان چڑھے گی، لہٰذا ظاہر کی تبدیلی حقیقت میں باطن کی تبدیلی کانتیجہ ہوتی ہے۔

زبان پر اَثرات:

                زبان پر غصے اور غضب کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو کرنے والے شخص کو غصے کے وقت اپنی باتوں پر قابو نہیں رہتا بلکہ اس کے الفاظ بھی بے ربط اورخلط ملط ہو جاتے ہیں ۔

اَعضا پر اَثرات:

                اَعضا پر اس کے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ نوبت مار پیٹ بلکہ قتل تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تووہ اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے وہ اس طرح کہ وہ اپنے ہی کپڑے پھاڑ ڈالتا ہے، اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دوسری اشیاء تک کو مارنے یا توڑنے لگتا ہے، بلاوجہ ایک دیوانے اورپاگل شخص کی طرح بھاگنے لگتا ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتا ہے اور حرکت تک نہیں کر سکتا بلکہ غضب کی زیادتی کی وجہ سے اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔

دل پر اَثرات:

                دل پر اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے، اس کا راز فاش کرنے، دامنِ عزت چاک کرنے اور مذاق اُڑانے کا عزمِ مصمم  (یعنی پختہ ارادہ) کئے ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر برائیاں جنم لیتی ہیں ۔

کمالِ مطلق:

                انسان کا مطلق کمال یہ ہے کہ اس کی قوتِ غضب معتدل ہو یعنی نہ تو اس میں افراط ہو اور نہ ہی تفریط، بلکہ وہ قوت دین و عقل کے تابع ہو صرف اسی وقت بھڑکے جہاں حمیت کی ضرورت ہو، اور وہاں یہ بجھی رہے جہاں بردباری سے کام لینا ہی مناسب اور زیبا ہو، یہ وہی استقامت ہے کہ جس کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے بندوں کومکلَّف (یعنی پابند) بنایا ہے اوریہی وہ حالت اعتدال ہے جس کی تعریف شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان الفاظ میں فرمائی:

{96}… ’’ اُمور کی بھلائی ان کا اعتدال یعنی درمیانہ پن ہے۔ ‘‘

 (المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الزھد، مطرف بن الشخیر،الحدیث: ۱۳،ج۸،ص۲۴۶)

                لہٰذا جو شخص افراط یا تفریط کا شکار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے نفس کا علاج کرے تا کہ اس کا نفس بھی اس صراطِ مستقیم تک پہنچ جائے یا کم از کم اس کے قریب تو ہو ہی جائے،چنانچہ اعتدال کے بارے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے کہ

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِؕ-  (پ۵، النساء: ۱۲۹)

 ترجمۂ کنز الایمان :  اور تم سے ہر گز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کوبرابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو۔

                وہ شخص جو مکمل طور پر خیر کے کام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ اب وہ شر کے کام کرنے لگے کیونکہ بعض شر کے افعال دوسرے برے کاموں سے زیادہ حقیر اور ہیچ ہوتے ہیں جبکہ بعض افعالِ خیر دوسرے نیک کاموں سے زیادہ قدرو منزلت والے ہوتے ہیں ، اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنے فضل وکرم سے ہرعمل کرنے والے کو اس کے ارادے کے مطابق نوازتا ہے۔

تنبیہ 2:

                غضب اگر کسی باطل کی وجہ سے ہو تو قابلِ مذمت ہوتا ہے اور اگر باطل کی بجائے حق کی وجہ سے ہو تو قابلِ تعریف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کسی پرغضب فرمایا تو صرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کی خاطر فرمایا۔چنانچہ،

 



Total Pages: 320

Go To