Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

          جمہور علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمفرماتے ہیں :  ’’  گناہ کی دو قسمیں ہیں :   (۱) صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ اور (۲) کبیرہ یعنی بڑے گناہ۔  ‘‘

                ان دونوں فریقوں کے نزدیک ان کے معنی میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف تو ان کے صغیرہ یا کبیرہ نام رکھے جانے میں ہے، کیونکہ اس بات پر تو سب کا اجماع ہے کہ بعض گناہ آدمی کی عدالت (یعنی گواہ بننے کی صلاحیت)  کو عیب دار کردیتے ہیں جبکہ بعض گناہ عدالت میں نقص نہیں ڈالتے، لہٰذا پہلے گروہ نے گناہ کو صغیرہ کہنے سے اجتناب کیا اوراس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت اور اس کے عقاب کی سختی کی طرف دیکھتے ہوئے اور اس کی جلالت کی وجہ سے اس کی نافرمانی کو صغیرہ نہ کہا کیونکہ گناہِ صغیرہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت کے پیشِ نظر نہ صرف بڑا بلکہ بہت بڑا ہے ۔

                جمہور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی نے اس مفہوم پر کچھ زیادہ غوروفکر نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک بدیہی اور واضح بات ہے بلکہ انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:

وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ-  (پ ۲۶ ، الحجرٰت : ۷)

ترجمۂ کنزالا یمان: اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی۔

کی وجہ سے گناہوں کو دو قسموں یعنی صغیرہ اور کبیرہ میں تقسیم کردیا ۔اس آیت کریمہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے نافرمانی کے تین درجے بیان فرمائے اور ان میں سے بعض کوفسوق یعنی حکم عدولی کہا جبکہ بعض کو فسق سے تعبیر نہ فرمایا۔نیزان علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان سے بھی اِستدلال کیا ہے:

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-    (پ۲۷،النجم : ۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جوبڑے گناہوں اوربے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتناکہ گناہ کے پاس گئے اور رُک گئے۔

                عنقریب ایک صحیح حدیث مبارکہ پیش کی جائے گی جس میں بیان کیا گیاہے کہ ’’ کبیرہ گناہ سات ہیں ۔ ‘‘

                ایک روایت میں ہے کہ ’’ کبیرہ گناہ نوہیں ۔ ‘‘

                 ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ ’’ یہاں سے لے کر وہاں  (مثلاً ایک نماز سے دوسری نماز)  تک بیچ کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتارہے۔ ‘‘

                چونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کبیرہ گناہوں کو دیگر گناہوں سے خاص فرمادیا ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اگر  تمام گناہ کبیرہ ہوتے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہرگز ایسا نہ فرماتے اور جس گناہ کا فساد بڑا ہو وہ کبیرہ کہلانے ہی کا مستحق ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالی شان:

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ  (پ ۵ ،النسآء :  ۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے توتمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔

 گناہوں کے صغیرہ اور کبیرہ دوقسموں میں منقسم ہونے پر صریح دلیل ہے۔

                امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیاسی لئے فرماتے ہیں :  ’’ کبیرہ اورصغیرہ گناہوں کے مابین فرق کا انکار کرنا درست نہیں کیونکہ اس کی پہچان شریعت کے اُصولوں سے ہوچکی ہے ۔ ‘‘

                صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے درمیان فرق کے قائل حضرات کا گناہِ کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے اور ہمارے شافعی  علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی نے اس کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں ۔

پہلی تعریف:

             ’’ وہ گناہ جس کا مرتکب قرآن وسنت میں منصوص (یعنی صراحتاً بیان کی گئی ) کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔ ‘‘

                بعض متأخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی نے وعید کے ساتھ سخت کی قید کو حذف کر دیا کیونکہ ان کا کہناہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ہر وعید سخت ہوتی ہے لہٰذا اس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور دوسرا یہ کہ اس تعریف میں یہ تصریح بھی کی گئی ہے کہ وہ وعید کتاب و سنت میں ہو، یہ بھی بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وعید ہوتی ہی وہ ہے جو کتاب وسنت میں موجودہو۔

دوسری تعریف:

                 ’’ ہر وہ گناہ جو حد کو واجب کرے وہ کبیرہ ہے۔ ‘‘  سیدناامام بغوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ اسی تعریف کے قائل ہیں ،جبکہ  سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ یہ دونوں وہ تعریفیں ہیں جو اکثر کتب میں پائی جاتی ہیں ، لہٰذا علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم اس تعریف کو ترجیح دینے میں میلان رکھتے ہیں مگر پہلی تعریف ان کی بیان کردہ کبیرہ گناہوں کی تفصیل کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم نے بیان کیا ہے کہ بہت سے کبیرہ گناہ ایسے ہیں جن میں حدواجب نہیں ہوتی جیسے سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا، جادو کرنا، چغل خوری، جھوٹی گواہی دینا، شکوہ کرنا، بدکاری کی دلالی کرنا اور بے غیرتی وغیرہ ۔

                اس سے پتہ چلاکہ پہلی تعریف دوسری تعریف سے زیادہ صحیح ہے ۔ سیدناامام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے اس فرمان کو  ’’ الحاوی الصغیر ‘‘  کے مصنف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی نقل کیا ہے کہ ’’ علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم دوسری تعریف کو ترجیح دینے کی جانب مائل ہیں ۔ ‘‘  جبکہ میں نے حضرت سیدنا امام اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ دونوں حضرات کا یہ قول بڑا عجیب ہے کہ ’’ علماء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم دوسری تعریف کی جانب مائل ہیں جو کہ مقصودسے دور ہے۔ ‘‘  حالانکہ جب انہوں نے پہلی تعریف کو یہ کہتے ہوئے ترجیح دی کہ ہمارے نزدیک وہ گناہ کبیرہ ہے جس پرنص قائم ہو اگرچہ اس پر حد کانافذ ہونا ضروری نہیں تو اس پر کیا جانے والا یہ اعتراض خود بخود ختم ہوجاتا تھا کہ بخاری و مسلم میں والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی کو کبیرہ شمار کیا گیاہے اس کے باوجود ان پر کوئی حد نہیں ۔ تو جس طرح اس دوسری تعریف پرانہوں نے یہ مثالیں دے کر اعتراض کیا اسی طرح اس پہلی تعریف پر بھی یہ اعتراض پیدا ہوتاہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں کہ ان کا کبیرہ ہونا تو معلوم ہے لیکن ان پر کوئی نص وارد نہیں ،جیسا کہ علامہ ابن عبد السلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے کئی ایسے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جن پر بالاتفاق کوئی بھی نص وارد نہیں ۔

تیسری تعریف:

                ہروہ گناہ جس کی حرمت پر کوئی نص وارد ہو یا اس کی جنس میں سے کسی فعل پر حد واجب ہوتی ہو اور اس کے ارتکاب سے فوری طور پرلازم ہونے والے فرض کو چھوڑنا پڑتا ہو اور گواہی ، روایت اور قسم میں جھوٹ بولناپڑے تویہ سب کبیرہ گناہ ہیں ۔

 



Total Pages: 320

Go To