Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنز الایمان :  فرمایاکہ تم دو نوں مل کر جنت سے اُترو۔

                پھر فرمایا :  ’’ حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد ہی نے حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (۲۷)   (پ۶، المآئدۃ: ۲۷)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کر دوں گا کہا اللہ  اسی سے قبول کرتاہے جسے ڈر ہے۔

                اورکہا گیا ہے  کہ قتل کا سبب یہ بھی تھا کہ قاتل کی بہن مقتول کی زوجہ تھی اورو ہ قاتل کی زوجہ سے زیادہ خوبصورت تھی کیونکہ حضرت سیدتنا حواء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کو حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بیس حمل ہوئے تھے اور ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی یعنی دو بچے ہوتے تھے، حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا کرتے تھے، تو جب قابیل نے دیکھا کہ اس کے بھائی ہابیل کی بیوی میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہے تو اس سے حسد کرنے لگا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔

                اس دینی پیشواء کی بادشاہ کو کی جانے والی نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ جب حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کا ذکر ہو تو خاموش رہا کرو، جب تقدیر کا تذکرہ ہو تب بھی خاموش رہو،  اسی طرح جب ستاروں کا تذکرہ ہو تو بھی خاموش رہو۔ ‘‘

ایک حاسد کا عبرت ناک انجام:

                ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا اوروہ اس سے کہا کرتا :  ’’ اچھے لوگوں کے ساتھ ان کی اچھائی کی وجہ سے اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کے لئے ان کی برائی ہی کافی ہے۔ ‘‘  ایک جاہل کو اس نیک شخص کی  (بادشاہ سے)  اس قربت پر حسد ہوا تو اس نے اس کے قتل کی سازش تیار کی اور بادشاہ سے کہا :  ’’ یہ شخص آپ کوبدبودار سمجھتاہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب آپ اس کے قریب جائیں گے تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ آپ کی بدبو سے بچ سکے۔ ‘‘  بادشاہ نے اس سے کہا:   ’’ تم جاؤ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔ ‘‘  یہ سازشی وہاں سے نکلا اور اس نیک شخص کواپنے گھر دعوت پر بلا کر لہسن کھلا دیا، وہ نیک آدمی وہاں سے نکل کر بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ عادت بادشاہ سے کہا:  ’’  اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے کو  عنقریب اس کی برائی ہی کافی ہو گی۔ ‘‘  توبادشاہ نے اس سے کہا :  ’’ میرے قریب آؤ۔ ‘‘  وہ قریب آیا تو اس نے اس خوف سے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا کہیں بادشاہ لہسن کی بو نہ سونگھ لے، تو بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ فلا ں آدمی سچ کہتا تھا۔ اس بادشاہ کی عادت تھی کہ وہ کسی کے لئے اپنے ہاتھ سے صرف انعا م دینے کاہی فرمان لکھا کرتا تھا، لیکن اب کی بار اس نے اپنے ایک گورنر کو اپنے ہاتھ سے لکھا کہ ’’ جب میرا خط لانے والایہ شخص تمہارے پاس آئے تو اسے ذبح کر دینا اور اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر میرے پاس بھیج دینا۔ ‘‘  اس نیک شخص نے وہ خط لیا اور دربار سے نکلا تو وہی سازشی شخص اسے ملا، اس نے پوچھا:   ’’ یہ خط کیسا ہے؟ ‘‘  نیک شخص نے جواب دیا :  ’’ بادشاہ نے مجھے انعام لکھ کر دیا ہے۔ ‘‘  سازشی شخص نے کہا:   ’’ یہ مجھے ہبہ کر دو۔ ‘‘  تو اس نیک شخص نے کہا:   ’’ تم لے لو۔ ‘‘  پھرجب وہ شخص خط لے کر عامل کے پاس پہنچا تو اس عامل نے اس سے کہا :  ’’ تمہارے خط میں لکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر دوں اور تمہاری کھال میں بھوسہ بھر کر بادشاہ کو بھیج دوں ۔ ‘‘  اس نے کہا :  ’’ یہ خط میرے لئے نہیں ہے میرے معاملہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو تا کہ میں بادشاہ سے رابطہ کر سکوں ۔ ‘‘  تو عامل نے کہا:   ’’ بادشاہ کا خط آنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘  لہٰذا عامل نے اسے ذبح کر کے اور اس کی کھال بھوسے سے بھر کر بادشاہ کو بھیج دی، پھر وہی نیک شخص حسبِ عادت بادشاہ کے پاس آیا اوراپنی بات دہرائی:  ’’  اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ‘‘  تو بادشاہ نے حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھا:   ’’ تم نے خط کا کیا کیا؟ ‘‘  اس نے جواب دیا :   ’’ مجھے فلاں شخص ملا تھا ،اس نے مجھ سے وہ خط مانگا تو میں نے اسے دے دیا۔ ‘‘  تو بادشاہ نے کہا :  ’’ اس نے تو مجھے بتا یا تھا کہ تم کہتے ہو کہ میرے جسم سے بُو آتی ہے۔ ‘‘  تو اس نیک شخص نے جواب دیا کہ  ’’ میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ ‘‘  پھر بادشاہ نے پوچھا :  ’’ تم نے اپنی ناک پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟ ‘‘  اس نے بتایا :  ’’ اسی شخص نے مجھے لہسن کھلا دیا تھا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپ اس کی بو سونگھیں ۔ ‘‘  بادشاہ نے کہا:   ’’ تم سچے ہو اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ، برے آدمی کی برائی اسے کفایت کر گئی۔ ‘‘

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  تم پر رحم فرمائے حسد کی برائی میں غور کرو اور گذشتہ صفحات میں بیان کردہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالیشان کی حقیقت جانو :   ’’ اپنے بھائی کی پریشانی پر خوشی کا اظہار مت کرو کہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اس سے نجات دے کر تمہیں اس میں مبتلا نہ فرما دے ۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ ،باب لاتظہر الشماتۃالخ الحدیث: ۲۵۰۶،ص۱۹۰۳،فیھافیہ بدلہ ’’ فیرحمہ اللہ  ‘‘ )

حسد کے متعلق بزرگانِ دین عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ کے فرامین:

                حضرت ابن سیرین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کہتے ہیں :  ’’ میں نے کسی سے کسی دنیوی شے کی وجہ سے حسد نہیں کیا کیونکہ اگر وہ شخص جنتی ہے تو میں دنیا کی وجہ سے اس سے حسد کیسے کروں حالانکہ وہ تو جنت کے مقابلہ میں بہت حقیر ہے،اور اگر وہ جہنمی ہے تو میں دنیوی شے کی وجہ سے اس سے حسد کیسے کروں جبکہ وہ چیز خود جہنم میں جانے والی ہو۔ ‘‘

                حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ جو بندہ کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے اس کی خوشی اور حسد میں کمی آجاتی ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ جو میری کسی نعمت سے حسد کرتا ہے میں اس کے سواہر شخص کو راضی کر سکتا ہوں کیونکہ حاسد اسی وقت راضی ہو گا جب وہ نعمت مجھ سے زائل ہو جائے گی۔ ‘‘

                ایک اعرابی کا قول ہے:   ’’  میں نے حاسد جیسا مظلوم کوئی ظالم نہیں دیکھا کہ تمہاری نعمت اس کو بری لگتی ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ اے ابن آدم!  اپنے بھائی سے حسد نہ کر کیونکہ اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اس کی تکریم کے لئے وہ نعمت اسے عطا فرمائی ہے تو جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  عزت دے اس سے حسد نہ کرو اور اگر کسی اور وجہ سے عطا فرمائی ہے تو اس سے حسد کیوں کرتے ہو جس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ‘‘  

                ایک بزرگ فرماتے ہیں :  ’’ حاسد شخص مجلس میں ذلت اور مذمت پاتا ہے، ملائکہ سے لعنت اور بغض پاتا ہے، مخلوق سے غم اور پریشانیاں اٹھاتا ہے، نزع کے وقت سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے اور قیامت کے دن حشر کے میدان میں بھی رسوائی، توہین اورمصیبت پائے گا۔ ‘‘

تنبیہات

تنبیہ1:

                غضب کے بارے میں وارد سابقہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے غضب کو آگ سے پیدا فرما کر اسے انسان میں رکھ دیا اوراسے اس کی فطرت میں شامل کر دیا۔

 



Total Pages: 320

Go To