Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی عظم الوعیدالخ، الحدیث: ۲۵۱۱،ص۱۹۰۴)

{69}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزانہیں ۔ ‘‘                                           (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج۷،ص۳۱۵،اخطر بدلہ ’’  اخضر ‘‘ )

{70}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر ظلم کرے تو ان میں سے ظالم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ ‘‘   (کشف الخفاء، الحدیث: ۲۰۹۳،ج۲،ص۱۴۰)

{71}…مَحبوبِ ربُّ العلَمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کروکہ کہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اس سے عافیت دے دے (اور تمہیں مبتلا فرما دے ) ۔ ‘‘   (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۷۳۹،ج۳،ص۱۸)

{72}…اور ایک روایت میں یوں ہے :  ’’ کہِیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر رحم فرما کر تمہیں اس مصیبت میں مبتلا نہ فرما دے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب لاتظہر الشماتۃالخ، الحدیث: ۲۵۰۶،ص۱۹۰۳)

{73}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے برا ٹھِکانا اس شخص کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر لی۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمانالخ،الحدیث: ۳۹۶۶،ص۲۷۱۵،ملخصاً)

{74}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ ندامت اس شخص کو ہو گی جس نے دوسرے کی دنیا کے عوض اپنی آخرت کو بیچ ڈالا۔ ‘‘

 (تاریخ کبیر للامام بخاری،باب العین ، الحدیث: ۷۹۹۸ / ۱۹۲۷ج۵،ص۳۸۸)

{75}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک سب سے بدتر مقام اس بندے کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کے لئے اپنی آخرت برباد کر ڈالی۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمانالخ،الحدیث: ۳۹۶۶،ص۲۷۱۵)

{76}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدتر ٹھکانا اس شخص کا ہو گا جس نے غیر کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالی۔ ‘‘   (المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۵۵۹،ج۸،ص۱۲۳)

{77}… صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نفسانی خواہشات سے بچتے رہو کیونکہ یہ آدمی کو اندھا، بہرہ کردیتی ہیں ۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۸۲۸،ج۳،ص۲۱۹)

{78}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک آسمان کے نیچے پیروی کی جانے والی نفسانی خواہشات سے بڑھ کر پوجا جانے والا کوئی جھوٹا خدا نہیں ۔ ‘‘    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)

{79}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حسد، اس کے اسباب اورنتائج سے بچنے کے متعلق ارشاد فرمایا :  ’’ آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو اور نہ ہی آپس کی رشتہ داری توڑو، اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بندو!  آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ اورکسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدائی ( یعنی ناراضگی)  اختیار کرے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلہ، باب تحریم التحاسدالخ،الحدیث: ۶۵۲۶،ص۱۱۲۶،بدون ’’ لاتنابزوا ‘‘ )

{80}… حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہِ اقدس میں حاضر خدمت تھے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ابھی اس دروازے سے ایک جنتی شخص داخل ہو گا۔ ‘‘  تو ایک انصاری شخص داخل ہوا جس کی داڑھی وضو کی وجہ سے تر تھی اور اس نے اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکا رکھے تھے، اس نے حاضرِ بارگاہ ہو کر سلام عرض کیا۔ پھر جب دوسرا دن آیا تو اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے وہی بات ارشاد فرمائی کہ ’’  ابھی اس دروازے سے ایک جنتی مرد داخل ہو گا۔ ‘‘  تو بعینہ وہی شخص پہلے کی طرح حاضرِ بارگائہ اقدس ہوا، پھر جب تیسرا دن آیاتوحضور نبی ٔکریم،رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی بات ارشاد فرمائی تو حسبِ معمول وہی شخص داخل ہوا، پھر جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے گئے تو حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمروبن العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اس شخص کے پیچھے چل دیئے اور اس سے کہا :   ’’ میں نے اپنے والد صاحب سے جھگڑ کر قسم اٹھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا لہٰذا اگر میں تین راتیں گزرنے تک آپ کے پاس پناہ لیناچاہوں تو کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں ؟ ‘‘  اس نے کہا:   ’’ جی ہاں ۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے :  ’’ میں نے وہ تین راتیں اس کے ساتھ گزاریں لیکن رات کے وقت اسے کوئی عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا،ہاں !  مگر جب وہ بیدار ہوتا یاکروٹ بدلتا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کرتا اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتا اور جب تک نماز کے لئے اقامت نہ ہو جاتی بستر سے نہ اٹھتا اورمیں نے اسے اچھی بات کے علاوہ کچھ کہتے ہوئے نہ سنا، پھر جب تین دن گزرگئے تو میں اس کے عمل کو معمولی جاننے لگا اور اس سے کہا:   ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے بندے!  میرے اور میرے والد محترم کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں تھی مگر چونکہ میں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے تمہارے بارے میں تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا :  ’’  ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تو تینوں مرتبہ تم ہی آئے تومیں نے سوچا کہ تمہارے پاس رہ کر دیکھوں کہ تمہارا عمل کیا ہے تا کہ میں بھی تمہاری پیروی کر سکوں مگر میں نے تو تمہیں کوئی بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر تمہیں اس مقام تک کس عمل نے پہنچایا جس کے بارے میں خاتَم ُ الْمُرْسَلین،

Total Pages: 320

Go To