Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہر مؤمن کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ ‘‘

 (المرجع السابق ،الحدیث: ۳۸۲۷)

{53}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہمارا رب عَزَّ وَجَلَّ  پندرہ شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر ( اپنی شایانِ شان)  نزول فرماتا ہے تو مشرک اور کینہ پرورکے علاوہ تمام اہلِ زمین کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ ‘‘                          (مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب ماجاء فی الشحنائ، الحدیث: ۱۲۹۵۷،ج۸،ص۱۲۵)  

{54}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ شعبان کی پندرہویں  شب اپنی مخلوق پر تجلی فرماتاہے تو مشرک اور بغض وکینہ رکھنے والے کے علاوہ تمام مخلوق کی مغفرت فرمادیتاہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۱۵،ج۲۰،ص۱۰۹)

{55}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتاہے تو کینہ پرور اور قاتل کے علاوہ اپنے تمام بندوں کو بخش دیتاہے۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمرو بن العاص، الحدیث: ۶۶۵۳،ج۲،ص۵۸۹)

حسد

{56}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، نماز مؤمن  کا نور ہے اور روزے ڈھال ہیں ۔ ‘‘  یعنی جہنم کے مقابلے میں ڈھال اور اس سے نجات کاذریعہ ہیں ۔

 (سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد،باب الحسد،الحدیث: ۴۲۱۰،ص۲۷۳۳)

{57}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :   ’’ حسد  (یعنی رشک )  صرف دو افراد سے جائز ہے:   (۱) وہ شخص جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے قرآن عطافرمایا تواس نے اس کے اَحکامات کی پیروی کی اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا  (۲) اور وہ شخص جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے مال عطا فرمایا تو اس نے اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی فرمانبرداری کا عمل کیا تو اس جیسا ہونے کی تمنا کرنا درست ہے۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۴۳۶،ج۳،ص۱۸۵)

{58}… حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسد ایما ن کو اس طرح خراب کردیتاہے جس طرح ایلوا (یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس)  شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۴۳۷،ج۳،ص۱۸۶)

{59}… سرکارِ مدینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم حسد کرو تو زیادتی نہ کرو، جب تمہیں بدگمانی پیدا ہو تو اس پر یقین نہ کرو اور جب تمہیں  (کسی کام کے بارے میں )  بد شگونی پیدا ہو تواُسے کر گزرو اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ  پر بھروسہ کرو۔ ‘‘                                                        (الکامل فی ضعفاء الرجال، عبدالرحمن بن سعد، ج۵،ص۵۰۹)

{60}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ ‘‘    (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی حسد،  الحدیث: ۴۹۰۳،ص۱۵۸۳)

{61}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں پچھلی اُمتوں کی بیماری ضرور پھیلے گی اوروہ بغض و حسد ہے جو کہ ُاسترے کی طرح ہے لیکن یہ اُسترا  (یعنی بغض وحسد) دین کو کاٹتا ہے نہ کہ بالوں کو، اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے ! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مؤمن نہ ہو جاؤاور اس وقت تک ( کامل)  مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟  (وہ چیز یہ ہے کہ)  تم آپس میں سلام کو عام کرو۔ ‘‘    (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند الزبیربن العوام، الحدیث: ۱۴۱۲،ج۱،ص۳۴۸)

{62}… حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خیانت اورحسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتے ہیں جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ ‘‘  (کنزالعمال،ابواب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۴۴۱،ج۳،ص۱۸۶)

{63}…اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسد کرنے والے، چغلی کھانے والے اور کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے ۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ،الحدیث: ۱۳۱۲۶،ج۸،ص۱۷۳)

{64}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر آدمی حسد کرتاہے مگر حاسد کو اُس کاحسد اُسی وقت نقصان دیتا ہے جب وہ زبان سے بولے یا ہاتھ سے عمل کرے۔ ‘‘   (جامع الاحادیث، الحدیث: ۱۵۷۷۱،ج۶،ص۴۳۲)

{65}…حضور نبی ٔپاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’ ہر آدمی حسد کرتاہے اور حسد کرنے والے بعض لوگ دوسروں سے افضل ہوتے ہیں اور حاسد کو اس کا حسد اس وقت تک نقصان نہیں دیتا جب تک کہ وہ زبان سے نہ بولے یا ہاتھ سے اس پر عمل نہ کرے۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۴۴۴،ج۳،ص۱۸۶)