Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وقت یاد کروں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تجھے ہلاک نہ کروں گا۔ ‘‘               (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۷۱۶،ج۳،ص۲۰۹)

{34}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر تم میں سے کوئی غصہ کے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھ لے تو اس کا غصہ رفع ہو جائے گا۔ ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۰۲۲،ج۵،ص۱۹۰،بدون  ’’ اذاغضب والرجیم ‘‘ )

{35}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو انتہائی غصہ کی حالت میں دیکھ کر ارشاد فرمایا : میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں اگر یہ غُصِیلا شخص اسے پڑھ لے تو وہ اس کا غصہ ختم کردے گا اور وہ کلمہ یہ ہے:    ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،حدیث معاذ بن جبل،الحدیث: ۲۲۱۴۷،ج۸،ص۲۵۳)

{36}… (شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاؤں مبارک کی کسی انگلی میں پھُنسی نکل آئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی کسی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے ذریرہ  (ایک قسم کی خوشبو)  لے کر اس پھنسی پر ڈالی اور یہ دعا مانگی جس سے وہ ٹھیک ہو گئی) :  ’’  اَللّٰھُمَّ مُطْفِیُٔ الْکَبِیْرِوَمُکَبِّرُ الصَّغِیْرِ اَطْفِھَا عَنِّیْیعنی اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  اے بڑے کو چھوٹا اور چھوٹے کو بڑا کر دینے والے!  میری اس پھُنسی کو ختم کر دے۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند احادیث رجال من اصحاب النبیصلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم،الحدیث: ۲۳۲۰۲،ج۹،ص۵۱)

{37}… دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حضرت اُم ہانی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ دعا مانگا کرو:  ’’  اَللّٰھُمَّ رَبِّ النَّبِیِّ مُحَمَّدِنِاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ ‘‘  یعنی اے نبی کریم محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رب عَزَّ وَجَلَّ ! میرے گناہ معاف فرما دے اور میرے دل کے غصے کو دور فرما دے اور مجھے گمراہ کر دینے والے فتنوں سے محفوظ رکھ۔            (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ ،الحدیث: ۲۶۶۳۸،ج۱۰،ص۱۹۳)

{38}…حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے میرے بیٹے!  غصہ کی کثرت سے بچتے رہو کیونکہ غصہ کی کثرت بُردبار شخص کے دل کو راہِ حق سے ہٹا دیتی ہے۔ ‘‘   (حلیۃ الاولیاء،یحییٰ بن ابی کثیر ،الحدیث : ۳۲۵۹،ج۳،ص۸۲)

                حضرت سیدنا عکرمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:

وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا  (پ۳، اٰل عمران: ۳۹)

 ترجمہ کنزالایمان: اور سرداراورہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا۔

کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’ سَیِّدًا ‘‘  سے مراد وہ شخص ہے جس پر غصہ غالب نہ آتا ہو۔

{39}…حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا :  ’’ غصہ نہ کیا کرو۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب میں فرمایا :  ’’ اے میرے بھائی!  میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ غصہ نہ  کروں ، میں بھی تو انسان ہی ہوں ۔ ‘‘  تو انہوں نے فرمایا:   ’’ پھر مال ضائع نہ کیا کرو۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا :  ’’ ہاں یہ ہو سکتا ہے۔ ‘‘

{40}…حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :   ’’ اے ابنِ آدم!  جب تُو غصہ کرتا ہے تو اچھلتا ہے قریب ہے کہ کہیں تو ایسی چھلانگ نہ لگا بیٹھے جو تجھے جہنم میں پہنچا دے۔ ‘‘

                حضرت ذوالقرنین ایک فرشتے سے ملے تو اس سے فرمایا :  ’’ مجھے کوئی ایسی بات بتاؤجس سے میرے ایمان اوریقین میں اضافہ ہو۔ ‘‘ تو فرشتے نے کہا :  ’’ غصہ نہ کیا کرو کیونکہ شیطان غصہ کے وقت انسان پر سب سے زیادہ غالب ہوتا ہے، لہٰذا غصے کے بدلے عفو ودرگزرسے کام لیاکرو اور وقار کے ساتھ غصہ ٹھنڈا کیا کرو اور جلدبازی سے بچتے رہو کیونکہ جب آپ جلد بازی سے کام لیں گے تو اپنا حصہ گنوا بیٹھیں گے، اَقربا اوردیگر لوگوں کے لئے نرمی و آسانی مہیا کرنے والے بن جاؤ، عناد رکھنے والے اور ظالم نہ بنو۔ ‘‘

                حضرت سیدنا وہب بن منَبِّہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں عبادت میں مصروف رہتاتھا شیطان نے اسے گمراہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن ناکام رہا، پھر اس نے راہب کو عبادت گاہ کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا مگر پھر بھی راہب خاموش رہا، تو شیطان نے اس سے کہا:   ’’ اگر میں چلا گیا تو تجھے بہت افسوس ہو گا۔ ‘‘  راہب پھر بھی خاموش رہا، یہاں تک کہ شیطان نے کہا :  ’’ میں مسیح  (عَلَیْہِ السَّلَام)  ہوں ۔ ‘‘  تو راہب نے اسے جواب دیا:   ’’ اگر آپ مسیح ہیں تو میں کیا کروں ؟ کیا آپ نے ہی ہمیں عبادت میں کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا؟ اور کیاآپ نے ہم سے قیامت کا وعدہ نہیں کیا؟ آج اگر آپ ہمارے پاس کوئی اور چیز لے کر آئے ہیں تو ہم آپ کی بات ہر گز نہ مانیں گے۔ ‘‘  تو بالآخر شیطان نے خود ہی بتا دیا :  ’’ میں شیطان ہوں اور تجھے گمراہ کرنے آیا تھا مگر نہ کر سکا۔ ‘‘  اس کے بعد شیطان نے راہب سے کہا :  ’’ تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں چاہو سوال کر سکتے ہو۔ ‘‘  تو راہب نے جواب دیا :  ’’ میں تجھ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا۔ ‘‘  جب شیطان منہ پھیر کر جانے لگا تو راہب نے اس سے کہا:   ’’ کیا تو سن رہا ہے؟ ‘‘  اس نے کہا:   ’’ ہاں ! کیوں نہیں ۔ ‘‘  تو راہب نے اس سے پوچھا:   ’’ مجھے بنی آدم کی ان عادتوں کے بارے میں بتا جو ان کے خلاف تیری مددگار ہیں ۔ ‘‘  شیطان بولا:   ’’ وہ غصہ ہے، آدمی جب غصہ میں ہوتا ہے تو میں اسے اس طرح الٹ پلٹ کرتا ہوں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں ۔ ‘‘

                حضرت سیدنا جعفر بن محمد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں :  ’’ غصہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ ‘‘

                ایک انصاری کا قول ہے :  ’’ غصہ حماقت کی اصل ہے اور ناراضگی اس کی راہنما ہے اور جوجہالت پر راضی ہوتا ہے وہ بردباری سے محروم رہتا ہے حالانکہ بردباری زینت اور نفع کا سبب ہے جبکہ جہالت عیب اور نقصان کا سبب ہے، نیز احمق کی بات کے جواب میں خاموش رہنا سعادت ہے۔

                حضرت سیدنا مجاہد علیہ رحمۃ اللہ  الواحد فرماتے ہیں کہ ابلیس کہتاہے :  ’’ انسانوں نے کبھی مجھے عاجز نہیں کیا، بلکہ تین چیزوں میں تو وہ مجھے ہرگز عاجز نہیں کر سکتے:   (۱)  جب ان میں سے کوئی نشے میں ہوتا ہے تومیں اس کے نتھنوں سے پکڑ کر اسے جہاں چاہتا ہوں لے جاتاہوں ، پھر وہ میری خاطر ہر وہ کام کرتا ہے جسے میں پسند کرتا ہوں  (۲) جب آدمی غصہ میں ہوتاہے تو ایسی بات کہہ جاتا ہے جسے نہیں جانتا اور ایسا عمل کرتاہے جس پر بعد میں نادم ہوتاہے اور (۳) جب آدمی اپنے مال میں بخل کرتاہے تومیں اسے ایسی اُمیدیں دلاتاہوں جن پروہ قدرت نہیں پاتا۔ ‘‘   (شعب الایمان، باب المطاعم والمشارب ، الحدیث: ۵۶۰۱،ج۵،ص۱۳)

                حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ آدمی کی بردباری اس کے غصہ کے وقت اور اس کی امانت داری اس کے لالچ کے وقت دیکھو، کیونکہ جب وہ غصہ میں نہ ہوتو تمہیں اس کے حلم کا کیاپتہ چلے گا؟ اورجب اسے کسی چیز کا لالچ ہی نہ ہوتو تمہیں اس کی امانت داری کیسے معلوم ہوگی ؟ ‘‘

                حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے عامل کو مکتوب بھیجا:   ’’ غصہ کے وقت کسی کو سزا نہ دو بلکہ اسے قید کرلو اور جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس کے جرم کے مطابق سزا دو اور اسے پندرہ سے زیادہ کوڑے نہ مارو۔ ‘‘  

                ایک مرتبہ ایک قریشی نے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے سخت بدکلامی کی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  دیر تک سر جھکائے رہے پھر ارشاد فرمایا:   ’’ کیاتو چاہتا ہے کہ شیطان، بادشاہی کی عزت کاخیال دلا کر مجھ پر قابو پا لے اور میں تیرے ساتھ ایسا سلوک کربیٹھوں جس کی وجہ سے کل قیامت میں تو مجھ سے بدلہ لے سکے؟ ‘‘  

 



Total Pages: 320

Go To