Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۶۹۹،ج۳،ص۲۰۸ )

{15}… دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’ مکمل طور پر کسی کو پچھاڑ دینا یہ ہے کہ ایک شخص کو غصہ آئے اور پھر وہ بڑھتا ہی جائے یہاں تک کہ اس کا چہرہ سرخ ہو جائے اور بال کھڑے ہوجائیں لیکن پھر اس کا غصہ ہی اس شخص کو پچھاڑ دے (یعنی وہ اپنی اس حالت پر قابو پا لے) ۔ ‘‘   (المسند للامام احمدبن حنبل،احادیث رجالالخ،الحدیث: ۲۳۱۷۶،ج۹،ص۴۵)  

{16}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’ کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ بہادری پتھر اٹھانے میں ہے حالانکہ بہادر ی تو یہ ہے کہ تم میں سے کوئی غصہ سے بھر جائے اور پھر اپنے غصہ پر قابو پالے۔ ‘‘

 (کتاب الزھد لابن المبارک،باب اصلاح ذات البین ، الحدیث: ۷۴۰،ص۲۵۶)

{17}… شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کسی کو پچھاڑدینے والا بہادر نہیں ہوتا بلکہ بہادر تو وہ ہوتا ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ، کتاب الادب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث: ۶۱۱۴،ص۵۱۶)

ٍ{18}… حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں پر غالب آجانے والا بہادر نہیں بلکہ بہادر تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پرقابوپا لے۔ ‘‘

 (کشف الخفائ، باب حرف اللام ،الحدیث: ۲۱۳۸،ج۲،ص۱۵۲) بدون ’’  عندالغضب ‘‘

{19}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال  صَلّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پہلوان وہ نہیں جو کسی پر غالب آجائے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جواپنے نفس پر قابو پالے۔ ‘‘    (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث: ۷۷۱۱،ج۳،ص۲۰۹)

{20}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کیاتم جانتے ہو کہ بہادر کون ہے؟ بے شک کامل بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پرقابو پالے، کیا تم جانتے ہو کہ بانجھ کون ہے؟بانجھ تو وہ ہے جس کی اولاد تو ہو مگر وہ ان میں سے کسی کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہ کرے،کیاتم جانتے ہو کہ فقیر کون ہے؟ فقیر تو وہ ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر وہ اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجے۔ ‘‘     (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، التحریض علی صدقۃ التطوع ، الحدیث: ۳۳۴۱،ج۳،ص۲۱۰)

{21}… رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جہنم کاایک دروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخل ہوں گے جن کا غصہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی پرہی ختم ہوتا ہے۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث: ۷۷۰۳،ج۳،ص۲۰۸)

{22}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے غصہ کودور کرلے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے اپنا عذاب دور فرمالیتا ہے اور جو اپنی زبان کی حفا ظت کرلے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرما دیتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط، الحدیث: ۱۳۲۰،ج۱،ص۳۶۲)

{23}…مروی ہے ،ایک صحابیِٔرسول رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   نے اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں نصیحت چاہتے ہوئے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے وصیت فرمائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ نہ کیاکرو۔ ‘‘  پھر عرض کی:   ’’ مجھے وصیت فرمائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ نہ کیاکرو۔ ‘‘    (صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث: ۶۱۱۶،ص۵۱۶،مفہوماً)

{24}…ایک روایت میں ہے :  ’’ غصہ نہ کیا کرو کیونکہ غصہ فساد ڈالتاہے۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث: ۷۷۰۶،ج۳،ص۲۰۸)

{25}…ایک اور روایت میں ہے : میں نے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے کسی چھوٹے سے عمل کا حکم دیجئے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ نہ کیاکرو۔ ‘‘  میں نے ا س عرض کو دہرایا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ نہ کیا کرو۔ ‘‘                    (المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۴۹۱،ج۵،ص۳۲۷،بتغیرٍ قلیلٍ)

{26}…حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ عالیشان میں عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور اس میں کمی فرمائیے گا شاید میں اس میں غورو فکر کر سکوں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ غصہ نہ کیا کرو۔ ‘‘  میں نے دافِعِ رنج و مَلال،  صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں مزید دو مرتبہ یہی کلمات دُہرائے مگر رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ہر دفعہ یہی ارشاد فرمایا :  ’’ غصہ نہ کیا کرو۔ ‘‘     (مسند ابی یعلی موصلی، الحدیث: ۵۶۵۹،ج۵،ص۱۳۲)

{27}… خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ غصہ نہ کرو تو تمہارے لئے جنت ہے۔ ‘‘          (المعجم الاوسط، الحدیث: ۲۳۵۳،ج۲،ص۲۰)