Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کیونکہ نفع دینے اور نقصان سے بچانے والا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہی ہے، اسی کا حق ہے کہ صرف اسی کا قصد کیا جائے کیونکہ وہی دلوں کو منع اور عطا کے ساتھ مسخر کرنے والا ہے اور اس کے سوا کوئی رازق، معطی، نافع اور ضارّ نہیں ۔حقیقت یہی ہے کہ مخلوق سے طمع رکھنے والاانسان ذلت ورسوائی یا احسان جتلائے جانے کے بوجھ واہانت سے محفوظ نہیں رہ سکتا  لہٰذا وہ جھوٹی اور فاسداُمید کے بدلے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے اِنعامات کیسے چھوڑ دیتاہے؟ ایسا شخص کبھی تواپنا مقصد پا لیتاہے اور کبھی ناکام رہتا ہے، جیسے اگر لوگ اس کے دل کی ریا پر مطلع ہوجائیں تو اسے دھتکار دیں ، اس پر ناراض ہوں اور اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے محروم کر دیں ۔ لہٰذا جوان باتوں کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھے گا لوگوں میں اس کی رغبت ختم ہو جائے گی اور وہ سچائی کو قبول کرلے گا۔

عملی دوا:

                وہ دوا یہ ہے کہ بندہ عبادت کو اس طرح چھپانے کی عادت ڈالے جیسے اپنے گناہ چھپانے کی عادت ڈالتاہے یہا ں تک کہ اس کادل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے علم اور اس کی بصیرت پر قناعت کرنے لگے اور اس کا نفس غیر اللّٰہ کے اس عمل کو جان لینے کے سلسلہ میں اس سے نزاع نہ کرے اور اسی طرح عمل کو چھپانے میں تکلف سے کام لے اگرچہ ابتداءًً اس  پریہ کام گراں گزرے گا مگر جو ایک مدت تک اس پر بتکلف صبر کرے اس سے اس کی گرانی دور ہو جائے گی اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل سے اس معاملہ میں ا س کی مدد فرمائے گا اور یہی مدد اس کی نجات کا سبب بن جائے گی کیونکہ

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-  (پ۱۳، الرعد: ۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان : بیشک اللہ  کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں ۔

اس سلسلہ میں جب بندے کی جانب سے مجاہدہ اور رب کریم عَزَّ وَجَلَّ  کے در پر دائمی حاضری ہو گی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  ہدایت کی دولت نصیب ہو گی اور وہ اس کے لئے اپنی بارگاہ میں حاضری کی اجازت عطا فرما دے گا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۰)   (پ۵، النسآء: ۴۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر کوئی نیکی ہو تواسے دونی کرتااور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔

اخلاص کی اہمیت اورفضائل

                جب ہم نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا  ’’ اِحْیَائُ عُلُوْمِ الدِّیْن ‘‘  میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند آیات اور احادیث مبارکہ سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دو ری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ (۵)   (پ۰ ۳، البینۃ: ۵)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ  کی بند گی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔

 اور فرماتاہے

اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُؕ-  (پ: ۳، اٰل عمر ان: ۲۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ  کو سب معلوم ہے۔

{67}…حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمالالخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

{68}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘  عرض کی گئی:   ’’ یارسول اللہ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘  دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)

{69}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے ہیں کہ ان میں سے کون  راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کا مجاہد ہے؟ ‘‘  تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ  ہے۔ ‘‘  ایک نسخہ میں ہے :  ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کا مجاہد ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ  الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)

 ّ{70}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مؤمن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘                                                             (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)

{71}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘                                                             (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)

{72}… مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  آخرت کی نیت پر دنیا عطا فرما دیتا ہے لیکن دنیا کی نیت پر آخرت عطا فرمانے سے انکار کر دیتا ہے۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To