Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

سب سے منہ پھیر لے اور پھر جب حرکت کرے تو حق کے لئے اورسکون اختیار کرے تو بھی حق کے لئے، تویہی وہ شخص ہے جو دنیوی اور اخروی ولایت کا مستحق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو اس کے لئے یہ دونوں ولایتیں سخت نقصان دہ ہیں ، لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ ان سے باز رہے اور دھوکا نہ کھائے، کیونکہ اس کا نفس اسے ان معاملات میں عدل، حقوق پورے کرنے، ریا کے شائبوں اور لالچ سے محفوظ رہنے کا خیال دلاتا ہے حالانکہ نفس بہت بڑا جھوٹا ہے لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ اس سے بچتا رہے کیونکہ نفس کے نزدیک جاہ و حشمت سے زیادہ لذیذ شئے کوئی نہیں حالانکہ بعض اوقات جاہ و حشمت کی محبت ہی اسے ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔

                اسی لئے جب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس کو منع فرما دیا، تو اس نے عرض کی:   ’’ کیا آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  مجھے لوگوں کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ۔ ‘‘

                لہٰذا انسا ن کو وعظ ونصیحت اور علم کے بارے میں وارد فضائل سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ ان کے خطرات سب سے زیادہ ہیں ، ہم کسی کو یہ اعمال چھوڑنے کا نہیں کہہ رہے کیونکہ ان میں فی نفسہٖ کوئی آفت نہیں بلکہ آفت تووعظ ونصیحت، درس وافتاء  اور روایتِ حدیث میں ریا کاری میں مبتلا ہو نے میں ہے، لہٰذا جب تک آدمی کے پیش نظر کوئی دینی منفعت ہوتو اسے ان اعمال کو ترک نہیں کرنا چاہئے، اگرچہ اس میں ریاکاری کی ملاوٹ بھی ہو جائے بلکہ ہم تو اسے ان اعمال کے بجا لانے کے ساتھ ساتھ نفس سے جہاد کرنے، اخلاص اپنانے اور ریاکے خطرات بلکہ اس کے شائبہ تک سے بھی بچنے کا کہہ رہے ہیں ۔

 اُمور تین طرح کے ہوتے ہیں :  

 (۱) ولایا ت:  سب سے بڑی آفت اسی میں ہے ۔لہٰذا کمزور لوگوں کو اسے سرے سے چھوڑ ہی دینا چاہئے،

 (۲) نماز اور دیگر بدنی عبادات:  انہیں نہ تو کوئی کمزور چھوڑ سکتا ہے نہ ہی طاقتور مگروہ ان میں پیدا ہونے والے ریا کے شائبے کو دور کرنے کے لئے کو شش کرسکتے ہیں ،

 (۳) ضرورت سے زائد علوم کے حصول کی کوشش:  یہ ان دونوں کا درمیانی مرتبہ ہے مگریہ ولایات کے زیادہ مشابہ ہے اور آفات سے زیادہ قریب ہے، لہٰذا کمزور لوگوں کے حق میں اس سے بچنا ہی زیادہ مناسب ہے،

                باقی رہ گیا چوتھا مرتبہ یعنی مال جمع کرنا اور اسے خر چ کرنا:  تو بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اسے ذکر اور نوافل میں مشغول ہونے سے افضل قرار دیا ہے ۔جبکہ بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان کے بر عکس فرمایا ہے ۔حق یہ ہے کہ اس میں بھی بڑی آفا ت ہیں مثلا تعریف کی تمنا، دلوں کو اپنی جانب مائل کرنا اورخود کو سخاوت کے ساتھ ممتاز کرنا وغیرہ، لہٰذا جو ان آفات سے چھٹکارا پا لے تو اس کے لئے مال جمع کرنااور اسے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کرنا افضل ہے، کیونکہ یہ بچھڑوں کو ملانے، مستحقین کی ضرورت پوری کرنے اور ان کی مدد سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قرب پانے کا ذریعہ ہے اور جو اِن آفات سے خلاصی نہ پا سکے اسے عبادات کو لازم پکڑنااور ان سے حاصل ہونے والے آداب وکمالات کے لئے کشادگی سے فارغ ہونا ہی زیادہ مناسب ہے، علم کے معاملہ میں عالم کے اخلاص کی علامت یہ ہے کہ اگر اس سے اچھا کوئی واعظ یا اس سے زیادہ علم والا کوئی شخص ظاہر ہو جائے اور لوگ اسے زیادہ پسند کرنے لگیں تو وہ اس سے خوش ہو اور حسد نہ کرے، البتہ اس پر رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ رشک سے مراد یہ ہے کہ وہ عالم اپنے لئے اس جیسے علم کی تمنا کرے، اور ایک علامت یہ بھی ہے کہ اگر اس کی مجلس میں اکابر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ آ جائیں تو اس کا کلام متغیر نہ ہو بلکہ وہ ساری مخلوق کو ایک ہی نظر سے دیکھے اور اس بات کو پسند نہ کرے کہ راستوں میں لوگ اس کے پیچھے چلیں ۔

تنبیہ 6:

                مذکورہ بالا آیات، احادیثِ مبارکہ اور ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام سے آپ پر ظاہر ہوچکا ہے کہ ریاکاری اعمال کو برباد کرنے والی اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضگی اور لعنت ودوری کا سبب ہے، نیز یہ مہلک کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے اور یہ وہ اوصاف ہیں جن کے ازالہ کے لئے تو فیق دیئے گئے ہر شخص کو مجاہدے کے ذریعے کوشش کرنی چاہئے اوراس معاملہ میں خوب مشقت اٹھانی چاہئے کیونکہ اس سے وہی شخص محفوظ رہ سکتاہے جسے اغراض اور مخلوق کے خیال سے پاک خالص قلبِ سیلم عطا ہوا اور جو ہر وقت رب العالمین عَزَّ وَجَلَّ  کی تجلیات کے مشاہدہ میں مستغرق رہتا ہو، حالانکہ ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جبکہ مخلوق کی غا لب اکثریت ان آفات میں مبتلا ہے کیونکہ بچے کو ضعیف العقل، مخلوق کی طرف نظر رکھنے والا اور کثیر الطمع بنا کر پیدا کیا گیا ہے، لہٰذا جب وہ لوگوں کو دوسروں کے لئے بناوٹی عمل کرتے دیکھتا ہے تو اس پر بھی بناوٹی عمل کی محبت غالب ہو جاتی ہے اور پھر یہی بات اس کے ذہن میں پختہ ہوجاتی ہے، پھر جب اس کی عقل کامل ہوتی ہے اور اسے حق کی پیروی کی توفیق ملتی ہے تو وہ اسے مہلک مرض سمجھنے لگتا ہے او ر ایسی دوا کا محتاج ہوتا ہے جو ا س مرض کو زائل کردے اور تعریف کی لذت، جاہ کی تمنا اور لوگوں کے اموال پر نظر رکھنے جیسے فاسد خیالات کو ختم کر کے اس کی جڑیں کا ٹ دے۔

ریا کا علاج

                ریا کاری کاعلاج دو قسم کی دواؤں سے ہو سکتا ہے:  (۱) علمی دوا اور (۲)  عملی دوا

علمی دوا:

                وہ نافع دوا یہ ہے کہ وہ ریاکاری سے منہ پھیر لے کیونکہ یہ نقصان دہ اور دل کی اصلاح کھو دینے والی، دنیامیں توفیق اور آخرت میں بلند درجات سے محروم کر دینے والی اور سخت عذاب، شدید ناراضگی اور ظاہری رسوائی کا باعث بننے والی ہے کہ جب ریاکارکو لوگوں کے سامنے بلا کر کہا جائے گا :  ’’ اے فاجر!  اے دھوکے باز!  اے ریاکار!  کیا تجھے حیانہ آئی جب تُو نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اطاعت کے بدلے دنیا کا ساز وسامان خریدا؟ تُو نے بندوں کے دلوں پر نظر رکھی، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نظرِرحمت اور اس کی اطاعت کا مذاق اڑایا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے بغض رکھا اور اس کے بندوں سے محبت کی، لوگوں کے لئے ایسی چیزوں سے آراستہ ہوا جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک بری تھیں اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے دوری اختیار کرکے لوگو ں کی قربت پائی۔ ‘‘  

                اگر ریا کی برائی فقط یہ ہوتی کہ اس کی وجہ سے کوئی ایک عبادت ہی برباد ہوتی تب بھی اس کا نقصان کافی تھا کیونکہ  قیامت کے دن انسان نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کرنے کے لئے ایک ایک عبادت کا محتاج ہو گا ورنہ جہنم میں جاپڑے گا۔ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو نارا ض کر کے مخلوق کی رضا چاہتا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس پر خود بھی ناراض ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس پر ناراض کر دیتا ہے کیونکہ لوگوں کو راضی رکھنا ایک ایسی چیز ہے جو حاصل نہیں ہو سکتی، ہوسکتاہے وہ کسی ایک قوم کو راضی کرے تو دوسری قوم ناراض ہو جائے، پھر لوگوں کی طرف سے مدح سے کوئی نفع نہ ہونے کے باوجود اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طر ف سے مذمت اور غضب کے مقابلے میں لوگو ں کی طرف سے تعریف کو ترجیح دینے میں اس کی کون سی غرض پوشیدہ ہے؟ نہ تو اسے اس تعریف سے نفع حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی نقصان دور کر سکتی ہے



Total Pages: 320

Go To