Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

مذاق اڑانا ہی کہلائے گا، کیونکہ وہ شخص اس وہم کے باوجود کہ بادشاہ کا انتہائی مقرب ہو گا ،اپنے اس فعل سے قرب کا قصد نہیں کرسکتا، تو اب ایسی کونسی حقارت اور استہزاء رہ گیا ہے جو تمہارا اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ   کی عبادت میں اپنے جیسے اس بندے کا قصد کرنے سے زیادہ ہو گا جو خود کو کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے عاجز ہے چہ جائیکہ وہ تمہیں فائدہ دے گا لہٰذا اس کے باوجود تمہارا یہ قصد ظاہر کرتا ہے کہ تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ وہ عاجز بندہ تمہاری اغراض پوری کرنے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، اس لئے تم نے ایک کمزور اور عاجز بندے کو اپنے قوی وقادر مولاعزو جل سے بلند کر دیا، انہی وجوہات کی بناء پر ریاکاری کو ہلاکت خیز کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیاہے اور اسی لئے رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے  ’’ شرک اصغر ‘‘  قرار دیا، نیز ریاکاری میں مخلوق کے لئے یہ شبہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ انسان کو اس وہم میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا مطیع اور مخلص بندہ ہے حالا نکہ وہ ایسا نہیں ہوتا، ایسے شبہے کوتلبیسکہتے ہیں اورتلبیس بھی حرام ہے، مثلاًیہ کسی شخص کی طرف سے قرض اداکرے تا کہ لوگوں میں یہ تأثر قائم ہو جائے کہ یہ بے لوث آدمی ہے اور لوگ اس کی سخاوت کا اعتقاد رکھنے لگیں ، ایسی سو چ گناہ ہے کیونکہ یہ تلبیس اور مکرو فریب کے ذریعے لوگوں کے دل اپنی جانب مائل کرنے کا سبب ہے۔

وسوسہ: اگرآپ یہ کہیں کہ ’’ جب ریاکاری کا شرکِ اصغر ہونا ثابت ہو گیا تو اسے شرکِ اکبر سے جدا کیوں کیا گیا؟ ‘‘

جواب : یہ بات ایک مثال سے واضح ہو گی وہ یہ کہ :  ’’ اگر کسی نمازی کو لوگ نیک اور صالح کہنے لگتے ہیں تو اس کی ریاکاری  اسے عمل پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے مگر وہ یہ عمل کرتے وقت کبھی تو اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تعظیم کا قصدکرتا ہے اور کبھی بغیر کسی قصد کے اسے ادا کرتا ہے اوران دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی کفر نہیں جبکہ اس صورت میں شرکِ اکبر اسی وقت ہو گا جب وہ ( مثال کے طور پر)  سجدوں سے غیر اللہ  کی تعظیم کا قصد کرے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ریاکار اس شرک میں اس وقت مبتلا ہوا جب اس کے نزدیک مخلوق کی قدر ومنزلت اس قدر بڑھ گئی کہ اس تعظیم نے اسے رکوع وسجود پر ابھارا اور ایک اعتبار سے اس سجدے سے اسی مخلوق کی تعظیم کی گئی اور یہ شرک خفی ہے جلی نہیں جوکہ جہالت کی انتہا ہے اور ایسا وہی کر سکتا ہے جسے شیطان دھوکے میں ڈالے اور اس وہم میں مبتلا کر دے :  ’’ عاجز اور کمزور بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے زیادہ اس کے رزق اور نفع کا مالک ہے۔ ‘‘  اسی لئے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے اپنا قصد پھیر کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا اور وہ ان لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنے لگا، لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اسے دنیا اور آخرت میں انہیں کے حوالے کر دیا جیسا کہ احادیثِ مبارکہ میں بیان ہواکہ ’’ ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کے لئے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان سے اجرطلب کرو۔ ‘‘ حالانکہ وہ اپنے لئے کسی چیزکا اختیار نہیں رکھتے، خصوصاً آخرت میں زیادہ بے اختیار ہوں گے۔

                 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے:  

 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ (۸۸)  اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ (۸۹)   (پ۱۹، الشعرآء: ۸۸۔۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ  کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔

                 دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:  

یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ٘-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ (۳۳)   (پ۲۱،لُقمٰن: ۳۳)  

ترجمہ کنزالایمان:  اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے بچہ کے کام نہ آئیگا اور نہ کوئی کامی (کارو باری)  بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بے شک اللہ  کا وعدہ سچا ہے تو ہر گز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ  کے نام پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔

اچھا لباس پہننا ریاکاری نہیں :

                کبھی کبھارمباح کام مثلاًعبادت کے علاوہ عزت وجاہ کی طلب پر بھی ریاکاری کا لفظ بولا جاتاہے جیسے کوئی شخص اپنے لباس کی زینت سے اپنے حسنِ انتظام اور خوبصورتی پرتعریف کئے جانے کا قصد کرے۔ لوگوں کے لئے کی جانے والی ہر آرائش و زیبائش اورعزت افزائی کواسی پر قیاس کر لیں جیسے مالداروں پر عبادت یا صدقہ کی نیت سے نہیں بلکہ اس لئے خرچ کرنا کہ اسے سخی کہا جائے۔اس نوع کے حرام نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دینی معاملات کی تلبیس اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے استہزاء نہیں پایا جاتا۔

بننا سنورنا سنت ہے:

{63}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اپنے دولت کدے سے باہرتشریف لانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے عمامہ شریف اور گیسوؤں کو درست فرمایا اور آئینہ میں اپنا مبارک چہرہ ملاحظہ فرمایا تو حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایسا کر رہے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  بندے کا بننا سنورنا اس وقت پسندفرماتا ہے جب وہ اپنے بھائیوں کے پاس جانے لگے۔ ‘‘         (اتحا ف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ والریائ، باب بیان حقیقۃ الریاء ، ج ۱۰، ص ۹۳،۹۴)

                شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے یہ ایک مؤکّدہ عبادت تھی کیونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممخلوق کو دعوت دینے اورحتی الامکان ان کے دلوں کو دینِ حق کی طرف مائل کرنے پر مامور ہیں کیونکہ اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّملوگوں کی نظروں میں معزز نہ ہوتے تو وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے منہ پھیرلیتے لہٰذا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر لوگوں کے سامنے اپنے عمدہ ترین احوال ظاہر کرنا لازم تھا تا کہ لوگ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ناقابلِ اعتبار سمجھ کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے منہ نہ پھیریں کیونکہ عام لوگوں کی نگاہ ظاہری احوال پر ہی ہوتی ہے مخفی امور پر نہیں ہوتی۔ نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ عمل بھی نیکی ہی تھا۔ یہی حکم علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاور ان جیسے دیندار لوگوں کے لئے ہے جبکہ وہ اپنی اچھی ہیئت سے وہی قصد کریں جو اُوپر بیان ہوا۔

تنبیہ3:  

                 سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ اور علامہ ابن عبدالسلامرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ایسے شخص کے بارے میں اختلاف کیاہے جو اپنے عمل سے ریا اور عبادت دونوں کاقصد کرتا ہے۔

                 سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اگر دنیا کی نیت غالب ہو تو اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا اوراگر آخرت کی نیت غالب ہو تو اسے ثواب ملے گا اور اگردونوں نیتیں برابر ہوں تب بھی ثواب نہیں ملے گا۔ ‘‘

                جبکہ علامہ ابن عبدالسلامرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں :  ’’ گذشتہ احادیثِ مبارکہ کی وجہ سے اسے مطلقاً کوئی ثواب نہیں ملے گا، مثلاً  ’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں کسی کو میرا شریک ٹھہرایا میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کے لئے ہے جسے اس نے شریک ٹھہرایا۔ ‘‘  جبکہ امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ نے اس حدیثِ پاک میں یہ تأویل کی ہے کہ  ’’ جب دونوں قصد برابر ہو جائیں یا ریا کا قصد راجح ہو تب



Total Pages: 320

Go To