Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

میں )  کوئی چیز نہیں دی جاتی۔ اسی طرح دکھاوے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے کو لوگوں کی باتوں کے علاوہ کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے قیامت کے دن کوئی ثواب ملے گا۔ ‘‘  

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:  

 وَقَدِ مْنَآاِلٰی مَاعَمِلُوْامِنْ عَمَلٍ

فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا (۲۳)   (پ۱۹، الفرقان: ۲۳)  

ترجمۂ کنزالایمان:  اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔

                یعنی جب انہوں نے اپنے اعمال سے غیر اللہ  کی رضا کا ارادہ کیا توان کا ثواب باطل ہو گیا اور وہ اڑتے ہوئے اس غبار کی طرح ہو گئے جو سورج کی شعاعوں میں نظر آتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

تنبیہات

تنبیہ1:

ریاء کی لغوی و اصطلاحی تعریف:

                رِیَاءٌ، رَؤْیَۃٌ اور سُمْعَۃٌ، سِمَاعٌسے مأخوذ ہے۔ جس ریاء کی مذمت کی گئی ہے اس کی تعریف یہ ہے :  ’’ بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا ارادے سے عبادت کرے۔ مثلاً لوگوں کو اپنی عبادت اور کمال سے آگاہ کرنا مقصود ہو تا کہ اسے لوگوں سے مال وجاہ یاثناء وغیرہ حاصل ہو۔

ریاکاری کی پہچان کے طریقے:

                 ریا کی چند اقسام ہیں :  (۱) ریاء بالاحوال (۲) ریاء بالاقوال (۳)  ریاء بالاعمال  (۴) ریاء بالاصحاب۔

 (۱) …ریاء بالاحوال:

                اس کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کا اپنے جسم پر تھکن یا پیلاہٹ ظاہر کرنا، پراگندہ بال اور گھٹیا ہیئت کا اظہار، غم کی کثرت، غذا کی قلت اور اہم کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے اپنے آپ پر توجہ نہ دینے اور لگاتار روزوں اور شب بیداریوں ، دنیا اور دنیا والوں سے بے رغبتی اور عبادت میں خوب کوشش کا وہم پیدا کرنے کے لئے پست آواز میں بولنا اور آنکھیں بند رکھنا۔

                ایسے ذلیل ورسوا لوگ کیا جانیں کہ اس وقت وہ بھتہ خوروں اور ڈاکوؤں جیسے لوگوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں کیونکہ وہ تو اپنے گناہوں کے معترف ہیں اور ان رسوا اور ذلیل لوگوں کی طرح ا پنی دینداری پر غرور نہیں کرتے ، جبکہ یہ بدبخت وذلیل لوگ گناہ بھی کرتے ہیں اور اس پر دلیری بھی دکھاتے ہیں ۔

                یا پھر صالحین کا سا حلیہ اختیار کرنا جیسے چلتے وقت سر جھکائے رکھنا، پُروقار انداز میں چلنا، چہرہ پر سجود کا اثر باقی رکھنا، اونی اور کھردرا لباس پہننا اور ہر وہ صورت اپنانا کہ یہ وہم پیدا ہو کہ وہ علماء کرام  رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاور سادات صوفیا ء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں سے ہے حالانکہ وہ علم کی حقیقت اور باطن کی صفائی کے معاملہ میں مفلس ہو۔

                یہ دھوکے باز شخص اس بات کونہیں جانتا کہ جو کچھ اسے یہ لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے ملا ہے اس کو قبول کرنا اس پر حرام تھا، اگر اس نے وہ چیز قبول کر لی تو وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے فاسق ہو جائے گا۔

 (۲) …ریاء بالاقوال:

                کسی کا وعظ ونصیحت اور سنتوں کو زبانی یاد کرنے کا اظہار کرنا بھی ریاکاری ہے، نیز مشائخ سے ملاقات اور علوم کی پختگی وغیرہ بہت سے ایسے طریقے ہیں جو ریاکاری کے اسباب بن سکتے ہیں کیونکہ قول کے ذریعے ریا کا وقوع کثیر ہے نیز اس کی انواع کوشمار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

 (۳) …ریاء بالاعمال:

                ارکانِ نماز کو طویل کرنا اور انہیں عمدگی سے ادا کرنا اور ان میں خشوع ظاہر کرنا، اسی طرح روزہ اور حج وغیرہ دیگر عبادات اور اعمال میں بھی ریاکاری کی انواع بے شمار ہیں ۔

                بعض اوقات ریاکار دکھاوے کے کاموں کو پختہ کرنے کا اتنا حریص ہوتا ہے کہ تنہائی میں بھی ان افعال کی مشق کرتا رہتا ہے تا کہ لوگوں کے مجمع میں بھی اس کی یہ عادت قائم رہے،لیکن وہ ایساخوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ   اور اس سے حیاء کے سبب نہیں کرتا۔

 (۴) …ریاء بالاصحاب:

                اسی طرح دوستوں اور ملاقات کے لئے آنے والوں کے ذریعے بھی ریاکاری ہو سکتی ہے جیسے کوئی کسی عالم، امیر یا نیک صالح بندے سے اپنے ہاں آنے کی تمنا کرے اور اس سے اس کی رفعت اور بزرگوں کا اس سے برکت حاصل کرنے کا گمان پیدا ہو اور اسی طرح کوئی شخص دوسروں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہے کہ وہ بہت سے شیوخ سے ملا ہے۔

                یہ صورت ریاکاری کے ان ابواب کا مجموعہ ہے جو جاہ و منزلت اور شہرت کے حصول پر اُبھارتا ہے تا کہ لوگ اس کی تعریف کریں اورساری دنیا کا مال و متاع اس کے پاس جمع ہو۔

تنبیہ2:

                حاملینِ شرع جب ریاکاری کا لفظ مطلق استعمال کرتے ہیں تو اس سے مرا د وہی مذموم صفت ہوتی ہے جس کی تعریف پیچھے بیان ہو چکی ہے۔پھر اگر ریاکاری کا مقصود دکھاوے کے علا وہ کچھ نہ ہو تو ریا کی عبادت باطل ہو جاتی ہے، کاش !  اسے اس کے علاوہ کوئی برائی حاصل نہ ہوتی مگر اس پر بڑا گناہ اوربری مذمت بھی لازم ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل سابقہ آیات واحادیثِ مبارکہ سے واضح ہے۔

                اس کے حرام، کبیرہ گناہ اورلعنت کے مقتضی شرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ استہزاء پایا جاتا ہے جیسا کہ اس کی طرف احادیثِ مبارکہ میں اشارہ ہو چکا ہے۔ اسی لئے حضرت سیدناقتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ جب بندہ ریاکاری کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ملائکہ سے ارشاد فرماتا ہے :  ’’ اس کی طرف دیکھو کہ کیسے میرا مذاق اڑا رہاہے۔ ‘‘  یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ بادشاہ کی خدمت میں کھڑے ہونے والے خادموں میں سے اگر کوئی خادم صرف با دشاہ کی کسی لونڈی یا کم سن بے ریش غلام کواپنی جانب مائل کرنے کے لئے کھڑا ہو تو ہرعقل مند شخص کے نزدیک یہ اس بادشاہ کا



Total Pages: 320

Go To