Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

آگ کی دوزبانیں ہوں گی:

{57}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جودکھاوے کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے رسوا کرے گا، جو شہرت کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اس کے سبب عذاب دے گا اور دنیا میں جس کی دو زبانیں ہوں گی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن آگ سے اس کی دو زبانیں بنادے گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۶۹۷،ج۲،ص۱۷۰)

ریاکاروں کی حسرت :

{58}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے اور اس کے محلات اور اہل جنت کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی :  ’’ انہیں لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘  تو وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے جیسی اولین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض کریں گے :  ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ بدبختو!  میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، نیز لوگوں کے دکھلاوے کے لئے عمل کر تے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے، لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کامزہ بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘  

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۷۸،ج۴،ص۱۳۵،مختصراً)

{59}…ایک روایت میں ہے :  ’’ آج میں تمہیں اپنے بہترین ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ دردناک عذاب بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘                                                                                                              (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۹۹،ج۱۷،ص۸۶،بدون ’’ جزیل ‘‘ )

{60}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کسی طالب شہرت ، ریاکار، اور لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل  قبول نہیں فرماتا۔ ‘‘   (حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث: ۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)

{61}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے والے کہاں ہیں ؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد کا دخل ہو۔ ‘‘  

 (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)

ریاکار کے چار نام:

 {62}… ’’ ایک شخص نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی :  ’’ کل بروزِ قیامت کونسی چیز نجات دلائے گی؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ بددیانتی نہ کرنا۔ ‘‘  تو اس نے پھر عرض کی :  ’’ بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ بددیانتی کیسے کر سکتا ہے؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اس طرح کہ تم کوئی ایسا کام کرو جس کا حکم تمہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیا ہو لیکن تمہارا مقصود غیراللہ  کی رضا کا حصول ہو،لہٰذا ریاکاری سے بچتے رہو کیونکہ یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ شرک ہے اور قیامت کے دن ریاکار کو لوگوں کے سامنے چار ناموں سے پکارا جائے گا یعنی  ’’ اے بدکار!  اے دھوکے باز!  اے کافر!  اے خسارہ پانے والے!  تیرا عمل خراب ہوا اور تیرا اجر برباد ہوا، لہٰذا آج تیرے لئے کوئی حصہ نہیں ، اے دھوکا دینے کی کوشش کرنے والے!  اب تُو اپنا اجر اس کے پاس جا کر تلاش کر جس کے لئے تو عمل کیا کرتا تھا۔ ‘‘   (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ الریائ، باب بیان ذم الریائ، ج ۱۰، ص ۷۱، ۷۵،مختصراً)

 ریاکاری کی مذمت پر اِجماعِ اُمَّت

                ان تمام نصوصِ قطعیہ اور احادیثِ صحیحہ کو جان لینے کے بعد ریاکاری کی حرمت پراجماع کامعاملہ تو بالکل ظاہر ہو گیا اسی لئے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال اس کی مذمت میں متفق اور اُمت مرحومہ کا اس کی حرمت اور اس گناہ کے بڑے ہونے پر اِجماع ہے۔

                حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو اپنی گردن جھکائے پایا تو اس سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے گردن نیچی رکھنے والے!  اپنی گردن بلند کرلے کیونکہ خشوع گردنوں میں نہیں دل میں ہوتا ہے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے مسجد میں ایک شخص کوسجدہ میں روتے ہوئے پایا تواس سے ارشاد فرمایا :  ’’ کاش!  تمہاری یہ حالت اپنے گھر میں ہوتی۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ ا للّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ریاکار کی تین علامتیں ہیں :  تنہائی میں ہو تو عمل میں سستی کرے اور لوگوں کے سامنے ہو تو جوش دکھائے، اس کی تعریف کی جائے تو عمل میں اضافہ کر دے اور اگر مذمت کی جائے تو عمل میں کمی کر دے۔ ‘‘  مزید ارشاد فرمایا :  ’’ بندے کو اچھی نیت پر وہ انعامات دیئے جاتے ہیں جو اچھے عمل پر بھی نہیں دیئے جاتے کیونکہ نیت میں ریاکاری نہیں ہوتی۔ ‘‘  

                ایک شخص نے کہا :  ’’ میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ   میں اپنی تلوار کے ذریعے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا اور لوگوں سے تعریف کی خواہش کی وجہ سے لڑتا ہوں ۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس سے ارشاد فرمایا :  ’’ تیرے لئے کچھ نہیں ، تیرے لئے کوئی اجر نہیں ، تیرے لئے کوئی ثواب نہیں ، کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں شریکوں کے شرک سے بے نیاز ہوں ۔ ‘‘  

                سلف صالحین میں سے بہت سے بزرگوں نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو یہ کہتے ہیں :  ’’ یہ چیز اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اورفلاں کی رضا کے لئے ہے، کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘‘  

ّ                حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جب بندہ ریا کاری کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے کہ  ’’ میرا بندہ مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جو شہرت چاہتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کی مراد پوری نہیں فرماتا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا فضیل بن عیا ض رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جو کسی ریاکار کو دیکھنا چاہے وہ مجھے دیکھ لے۔ ‘‘  مزید ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ لوگوں کے لئے عمل ترک کر دینا ریاکاری ہے اور لوگوں کے لئے عمل کرنا شرک ہے، جبکہ اخلاص یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  تجھے ان دونوں چیزوں سے نجات عطا فرما دے۔ ‘‘  

                ایک حکیم کا قول ہے :  ’’ دکھاوے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنی پوٹلی (یعنی جیب یا تھیلی )  پتھروں سے بھر کر خریداری کے لئے بازار چلا گیا، جب وہ دکاندار کے سامنے اپنی پوٹلی کھولے گا تو ذلیل ورسوا ہو گا اور اس کی پٹائی ہو گی، اسے لوگوں کی اس بات کے علاوہ کوئی نفع حاصل نہ ہو گا :  ’’ اس کی جیب کتنی بھری ہوئی ہے۔ ‘‘  حالانکہ اسے ( اس بھری ہوئی جیب کے بدلے



Total Pages: 320

Go To