Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{41}… حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ صبح کو روزہ دار ہو گا پھر اس کی کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اس خواہش میں مبتلا ہو کر اپنا رو زہ توڑ ڈالے گا۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۲۱۳،ج۳،ص۱۶۸)

{42}… نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی پوشیدہ طور پر کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اپنے پاس پوشیدہ نیکیوں میں لکھ لیتاہے،پھر شیطان اس شخص کے پیچھے پڑجاتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنا عمل لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے پوشیدہ اعمال سے مٹاکر اعلانیہ اعمال میں لکھ دیتاہے، پھر جب وہ دوسری مرتبہ اپنا عمل ظاہر کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے پوشیدہ اور اعلانیہ نیکیوں میں سے مٹا کر ریاکاری میں لکھ دیتا ہے۔ ‘‘  

 (فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث: ۷۱۸،ج۱،ص۱۱۶)

{43}… مروی ہیکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتاہے :  ’’ میں اچھا بدلہ دینے والا ہوں لہٰذا جو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ئے گا وہ میرے شریک کے لئے ہی ہو گا۔ ‘‘  اے لوگو!  اپنے عمل میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لئے کئے جاتے ہیں اور جو کام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے کیا جاتا ہو اس کے بارے میں یہ مت کہوکہ میں یہ کام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور رشتہ داری کی وجہ سے کر رہا ہوں ، کیونکہ وہ کام پھر رشتہ داری کے لئے ہی ہو گا نہ کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل للہ وترک الریائ،الحدیث: ۶۸۳۶،ج۵،ص۳۳۶)

{44}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کے لئے حاصل کیا جانے والا علم، دنیا کا مال پانے کے لئے حاصل کیا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا۔ ‘‘  

 (سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب فی طلب لغیر اللہ ، الحدیث: ۳۶۶۴،ص۱۴۹۴)

{45}…رسولِ اکرم، نورِ مجسَّم،شاہِ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغریعنی ریاکاری کاخوف ہے، جب لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو ریاکاروں سے کہا جائے گا :  ’’ ان کے پاس جاؤجن کے لئے تم ریا کاری کیا کرتے تھے اور ان کے پاس اپنا اجر تلاش کرو۔ ‘‘         (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۳۰۱،ج۴،ص۲۵۳)

{46}… حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ کیامیں تمہیں نہ بتاؤں کہ مجھے تم پر چہرے بگڑ جانے سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے، وہ شرکِ خفی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے مرتبہ کی خاطر کوئی عمل کرے۔ ‘‘             (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری،الحدیث: ۱۱۲۵۲،ج۴،ص۶۱)

{47}… اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اطاعت کو بندوں سے تعریف کی محبت سے ملانے  (یعنی لوگوں کی زبانوں سے اپنی تعریف پسندکرنے) سے بچتے رہوکہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں ۔ ‘‘    (فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،فصل فی التحذیر والوعید،الحدیث: ۱۵۶۷،ج۱،ص۲۲۳)

{48}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے لوگو!  پوشیدہ شرک سے بچتے رہواور وہ یہ ہے کہ آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو اور لوگوں کی نظروں کو اپنی جانب متوجہ پانے کی وجہ سے اپنی نماز کو سنوارے یہی پوشیدہ شرک ہے۔ ‘‘      (السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الصلوٰۃ ، باب الترغیب فی تحسین الصلوٰۃ ، الحدیث: ۳۵۸۵،ج۲،ص۴۱۳)

{49}… دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ شرک خفی سے بچتے رہو جو یہ ہے کہ بندہ لوگوں کی نگاہوں کی وجہ سے نمازکے رکوع و سجود کامل طریقے سے ادا کرے۔ ‘‘

 (شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،الحدیث: ۳۱۴۱،ج۳،ص۱۴۴)

{50}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے بھی زیادہ مخفی ہو گا اور مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز کاترک کرنا ہے۔ ‘‘  

 (المستدرک ،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحسینالخ،الحدیث: ۳۲۰۲،ج۳،ص۷)

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب اقامۃ الصلوٰات ، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ ، الحدیث: ۱۰۸۰،ص۲۵۴۰، ’’ الکفر ‘‘  بدلہ ’’  الشرک ‘‘ )

{51}… خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:   ’’ جس نے کوئی عمل کیا اوراس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کیا تو اس کا سارا عمل اسی کے لئے ہے جبکہ میں شریکوں سے بے نیاز ہوں ۔ ‘‘  

                                                   (سنن ابن ماجہ،ابواب الزہد،باب الریاء والسمعۃ ،الحدیث: ۲۷۳۲،ص۴۲۰۲، ’’ بتقدمٍ وتاخرٍ ‘‘ )

{52}…نبی رحمت ،شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جوبندہ دنیا میں ریاکاری اور شہرت کے مقام و مرتبہ پر ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جمعہ کے دن اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۳۷،ج۲۰،ص۱۱۹، ’’ یوم الجمعۃ ‘‘  بدلہ ’’  یوم القیٰمۃ  ‘‘ )

                یہاں جمعہ سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ اسی دن سب سے بڑا مجمع ہوگا۔

{

Total Pages: 320

Go To