Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

٭٭٭٭٭٭

  حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’ آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتاہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ ہاں!  جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے۔ ‘‘  (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا،الحدیث: ۲۶۳،ص۶۹۳)

شرف انتساب

 

مفتی اعظم پاکستان ،شیخ الحدیث والتفسیر،وقارالملۃ والدین

حضرت علامہ مفتیمحمد وقارالدین قادری رضویعلیہ رحمۃ اللہ  الغنی

کے نام

جنہوں نے

شیخِ طریقت ،امیرِ اہلِسنّت ،بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ

مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی  مدظلہ العالی

 کوخلافت سے نوازا

 

مجلس المدینۃ العلمیۃ  (دعوتِ اسلامی )

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خطبۃ الکتاب

قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (۵۷)   (پ۱۱،یونس: ۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف  سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لئے۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے تمام خوبیاں ہیں ، جس نے بندوں پر رحمت اور اپنے جلالِ قدرت اورکمالِ عزت کو نامناسب اوصاف سے پاک کرنے والی غیرت کی وجہ سے انہیں کبیرہ گناہوں ، بدکاریوں ، ممنوع کاموں ، مفاسد ، نفسانی خواہشات ، لہوولعب کی برائیوں اورنافرمانیوں سے روکنے والی نصوص قطعیہ کے ذریعے بچایا۔اس کی کتابوں کی آیات علم وحکمت کے بحرِذُخَّاراور اس کے عدل کی خفیہ تدبیریں ہلاکت خیز اورتباہی وبربادی میں مبتلاکرنے والی ہیں ۔

                اگر بندے اپنے حقیقی ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضگی اور اس کی جانب سے ملنے والی دائمی رُسوائی اور عذاب کو لازم کرنے والے غضب سے نہ ڈریں ، تو کہیں اس سبب سے وہ سخت ،دشوار گزارراستوں والی چراگاہ اور ہر چیز کو جلا کر خاکستر کر دینے والی جہنم کی آگ میں نہ جاپڑیں ۔ اسی طرح جولوگ اس کی رحمت اور رضا کی موسلا دھا ر بارش اور اس کے محبوب اور پسندیدہ کاموں میں رغبت ،توفیق اور ہمیشہ کی زندگی میں بزرگی کے گھر تک پہنچنے کی تمنانہیں کرتے اور نہ ہی اس کے ارادے کو مقدم کرکے اُخروی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اور نہ ہی اس کے ناپسندیدہ بندوں سے منہ پھیرتے ہیں اور نہ ہی دنیاوآخرت میں نیک اعمال کے ذریعے غالب رہتے ہیں ،وہ بھی اپنے حالات پر غور کرلیں ۔

                مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں ، ایسی گواہی جس کے ذریعے میں اس کی عالی جناب کی قطعی نافرمانی سے محفوظ رہوں اور اس کے کامل احباب کے ساتھ اس کے مقاماتِ قُرب میں ٹھکانا بناسکوں ۔نیز میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے آقا، سیدالوریٰ ،احمد مجتبیٰ ،حضرت محمدمصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے بندے اور رسول ہیں ۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں ان کے اَحکام بجالانے ،ان کے منع کردہ اُمور سے رُک جانے اوران کے اخلاق اپنانے کا حکم دیا ہے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان پر، ان کی آل پر اور ان کے اصحاب پر اپنی ذات کے دوام تک مشک کی پاکیزہ اور نفیس ترین خوشبو سے معطر درُودو سلام بھیجے، جن کی سچائی کی سفید چادر کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مخالفت کی گندگی سے آلودہ ہونے سے محفوظ رکھااور انہیں اپنی شدیدخواہشات کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا پر قربان کرنے کا جذبہ اور ہرقسم کے حالات میں احکام کی بجاآوری اور نواہی سے بچنے کاشعور دیا۔اسی طرح قیامت کے اس دن تک بھلائی میں ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی درودوسلام ہوجب ہر ایک کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق سلوک کیاجائے گا اور گنہگار سے کہاجائے گا کہ نافرمانی کا بدلہ رسوائی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں جبکہ نیکوکار سے کہا جائے گا کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے علاوہ کیا ہے ؟

٭٭٭٭٭٭

 وجہ تالیف

                ۹۵۳؁ہجری سے لیکر ایک طویل عرصے تک میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں کبیرہ گناہوں سے متعلق ایک ایسی کتاب تا لیف کرو ں جس میں کبیرہ گناہوں کے احکام، ان کی وعیدیں اور ان کے ترک پرکئے گئے اجر وثواب کے وعدوں کو جمع کردوں اور اسے خوب مفَصّل اورکثیردلائل سے آراستہ کروں ، مگرمیں ایک قدم اٹھاتا اور دوسرا ہٹا لیتاکیونکہ مکۂ مکرمہ میں میرے پاس اس کتاب کے لئے مواد نہیں تھا، یہاں تک کہ میں امامِ وقت اور اہلِ زمانہ کے اُستاد حافظ ابو عبد اللہ  ذھبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی طرف منسوب کبیرہ گناہوں سے متعلق ایک کتاب پانے میں کامیاب ہوا، مگر اس سے تشنگی نہ مٹی ، کیونکہ انہوں نے اس کتاب میں جتنے اِختصار سے کام لیا ہے وہ ان کے مرتبہ کو ان جیسے لوگوں کے مقابلے میں کمزور کردیتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس میں چند احادیث اورحکایات جمع کردیں اور ان کے بارے میں اَئمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام میں گہری نظرنہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے محل میں بھی ذکر نہیں کیا اورنہ ہی اس سلسلے میں اَئمہ متقدمین کے کلام سے مدد لی۔ لہذا کبیرہ گناہوں کی برائی کے ظہور اور اکثر لوگو ں کے ظاہر



Total Pages: 320

Go To