Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

شب بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ‘‘                                    (سنن ابن ماجہ ، ابواب الصیام،باب ماجاء فی الغیبۃ والرفث للصائم،الحدیث: ۱۶۹۰،ص۲۵۷۸)

 {28}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کچھ عابدوں کو عبادت سے شب بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کچھ روزہ داروں کو روزے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ‘‘  

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۳۴۱۳،ج۱۲،ص۲۹۲،بتقدم وتأخر)

{29}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے مگر آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرنے والا اسے نہ پاسکے گا۔ ‘‘  

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریائ،الحدیث: ۷۴۸۹،ج۳،ص۱۹۰)

{30}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے لوگوں کے سامنے اچھے طریقے سے اور تنہائی میں برے طریقے سے نمازادا کی، بے شک اس نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ   کی توہین کی۔ ‘‘  

 (مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند عبداللہ  بن مسعود،الحدیث: ۵۰۹۵،ج۴،ص۳۸۰)

{31}… مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے آخرت  کے عمل سے زینت پائی حالانکہ آخرت اس کی مراد تھی نہ طلب تو وہ زمین وآسمان میں ملعون ہے۔ ‘‘  

 (مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریا، الحدیث: ۱۷۹۴۸،ج۱۰،ص۳۷۷)

{32}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب کوئی قوم  آخرت  (کے اعمال) سے آراستہ ہو کر  (حصولِ) دنیا کے لئے حسن وجمال کاپیکر بنے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ‘‘         (جامع الاحادیث،الحدیث: ۱۱۶۹،ج۱،ص۱۸۳)

                 (فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہے:  )  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ غیر خدا کے لئے دکھلاوا کیا تحقیق وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم سے بری ہو گیا ۔ ‘‘   (المعجم الکبیر ،الحدیث ۸۰۵،ج۲۲،ص۳۲۰)

{33}…سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جودکھاوے اور شہرت کے مقام پرکھڑا ہو تو جب تک بیٹھ نہ جائے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضگی میں ہے۔ ‘‘  (مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریا، الحدیث: ۱۷۶۶۴،ج۱۰،ص۳۸۳)

 {34}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جودکھاوے کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے رسوا کرے گا اور جو شہرت کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اس کے سبب عذاب دے گا۔

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد،باب الریاء والسمعۃ، الحدیث: ۴۲۰۷،ص۲۷۳۲)

حدیثِ پاک کا مفھوم:

                 اس حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنا نیک عمل لوگوں کے سامنے اس لئے ظاہر کرے تا کہ وہ ان کے نزدیک معظم و محترم ہو جائے حالانکہ وہ نیک نہ ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کا راز کھول دے گا۔

{35}…حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے عطا نہ کی گئی ہو جھوٹ کا لباس پہننے والے کی طرح ہوتا ہے۔  ‘‘    (صحیح البخاری ،کتاب النکاح،باب المتشبع بما لم ینل، وما ینھی من الخ،الحدیث: ۱۹ ۵۲،ص۴۵۱)

{36}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے زیادہ مخفی ہوگا۔ ‘‘                                               (الکامل فی الضعفائ،ج۹،ص۹۸)

 {37}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے لوگو!  شرک سے بچتے رہنا کیونکہ یہ چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم شرک سے کس طرح بچ سکتے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ دعا پڑھ لیاکرو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ اَنْ نُّشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَانَعْلَمُہٗ، یعنی اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !  ہم دانستہ طور پر کسی کو تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پنا ہ چاہتے ہیں اور نادانستہ طو ر پر ایسا کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں ۔ ‘‘       (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۴۷۹،ج۲،ص۳۴۰)

{38}…نبی ٔکریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا : تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا اور اب میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتاہوں کہ جب تم اسے کرو گے تو شرک کا چھوٹا بڑا عمل تم سے دُور ہوجائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرو:  ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَآاَعْلَمُ، یعنی اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتاہوں ۔ ‘‘                   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریائ،الحدیث: ۷۵۰۰،ج۳،ص۱۹۱)

{39}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے ابو بکر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا۔ بے شک آدمی کا یہ کہنا بھی شرک ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور میں چاہوں گا وہی ہو گا۔ ‘‘  اور آدمی کایہ کہنا (یعنی یہ اعتقاد رکھنا)