$header_html

Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{3}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مخفی شہوت اور ریاکاری شرک ہے۔ ‘‘        

  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الراء ،باب الریاء،الحدیث: ۷۴۸۳،ج۳،ص۱۹۰)

{4}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ

 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ شرک کرنے کا خوف ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یابتوں کی پوجا کرنے لگیں گے بلکہ غیر اللہ  کے لئے اعمال کریں گے اور مخفی شہوت رکھیں گے۔ ‘‘    (سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد، باب الریاء والسمعۃ ، الحدیث: ۴۲۰۵،ص۲۷۳۲)

{5}… خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کا شرک چیونٹی کے چکنی چٹان پر چلنے سے بھی زیادہ مخفی ہو گا۔ ‘‘      (مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب الریاء وخفائہٖ ،الحدیث: ۱۷۶۶۸،ج۱۰،ص۳۸۴)

{6}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ شرک خفی یہ ہے کہ آدمی کسی آدمی کے مرتبہ کی خاطر عمل کرے۔ ‘‘       (المستدرک،کتاب الرقاق، باب من تشاعبت بہ الھمومالخ،الحدیث: ۸۰۰۶، ج۵، ص۴۶۸)

 {7}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کا شرک اندھیری رات میں چیونٹی کے چکنی چٹان پر رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہو گا اور اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ تم ظلم کی کسی بات کو پسند کرو یا عدل وانصاف کی کسی بات سے نفرت کرو اور دین تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے محبت کرنے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے نفرت کرنے ہی کانام ہے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ  (پ۳،اٰل عمران: ۳۱)

 ترجمۂ کنز الایمان :  اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ  کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ  تمہیں دوست رکھے گا۔

 (حلیۃ الاولیاء، الحدیث: ۱۳۸۳۱،ج۹،ص۲۶۴،بدون ’’ فی امتی  ‘‘ )

{8}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب قیامت کا دن  آئے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ان پر (نقل و حرکت اور جہات واجسام کے لوازمات سے پاک)  تجلی فرما ئے گا اس وقت ہر اُمت گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گی، سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں ایک قرآن کریم کا حافظ، دوسرا راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ   میں مارا جانے والا شہیداور تیسرا بہت مالدار ہو گا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قاری سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ کیا میں نے تجھے اپنے رسول پراتارا ہوا کلام نہیں سکھایا تھا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا :  ’’ کیوں نہیں ،یا ربعَزَّ وَجَلَّ !  ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ پھر تُو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  میں دن رات اسے پڑھتا رہا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹا ہے تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں :  ’’ فلاں شخص قاری ہے۔ ‘‘  اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھرمالدار کو لایا جائے گا تواللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے ارشاد فرمائے گا:   ’’ کیا میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کو وسیع نہ کیا یہاں تک کہ میں نے تجھے کسی کا محتا ج نہ چھوڑا؟ ‘‘  تو وہ عرض کرے گا:   ’’ کیوں نہیں یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو نے میرے عطا کردہ مال میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ میں صلہ رحمی کرتا اور صدقہ کرتا تھا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہاجائے :  ’’ فلاں بہت سخی ہے۔ ‘‘  اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ   میں مارے جانے والے کو لایا جائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے پوچھے گا :  ’’ تجھے کیوں قتل کیا گیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تو میں مرتے دم تک لڑتا رہا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹا ہے بلکہ تیرامقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے:   ’’ فلاں بہت بہادر ہے۔ ‘‘  اور وہ تجھے کہہ لیاگیا۔ ‘‘  اے ابو ہریرہ!  یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی مخلوق کے وہ پہلے تین افراد ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ۔ ‘‘  (جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی الریاء والسمعۃ،الحدیث: ۲۳۸۲،ص۱۸۹۰)

{9}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہو گا جب اسے لایاجائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ تُو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا :  ’’ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ تُو جھوٹا ہے تو نے جہاد اس لئے کیاتھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا، پھر اس کے بارے میں جہنم میں جانے کا حکم دے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ پھر اس شخص کو لایا جائیگا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن کریم پڑھا ،وہ آئے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے دریافت فرمائے گا :  ’’ تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا کہ  ’’ میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآنِ کریم پڑھا۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تُو جھوٹا ہے تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور  قرآنِ کریم اس لئے پڑھا تا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘ پھر اسے جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹا ہے تو نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہو گا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘                 (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریائالخ،الحدیث: ۴۹۲۳،ص۱۰۱۸)

{10}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن لوگوں میں  سب سے پہلے تین شخص جہنم میں داخل ہوں گے، ایک شخص کو لایاجائے گا تو وہ عرض کرے گا:   ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  تُو نے مجھے اپنی کتاب سکھائی تو میں دن رات ثواب کی اُمید پر اسے پڑھتا رہا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ تو جھوٹا ہے تو نماز اس لئے پڑھتا تھا کہ تجھے قاری، نمازی کہاجائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھرفرشتوں کو حکم ہو گا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔ پھر دوسرے کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا:   ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  تو نے مجھے مال عطا فرمایا تو میں تیرے ثواب اور جنت کی امید پر اس کے ذریعے صلہ رحمی کرتا، مسکینوں پرخرچ کرتا اور مسافروں کو اس کے ذریعے سواری مہیا کیا کرتا تھا۔ ‘‘  اس سے بھی کہاجائے گا :  ’’ تُو جھوٹا ہے کیونکہ تو صدقہ اور صلہ رحمی اس لئے کرتا تھا کہ تجھے رحمدل اور سخی کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھرحکم ہو گا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، پھر تیسرے شخص کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا:   ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  میں تیرے ثواب اور جنت کی اُمید پر تیری راہ میں جہاد پر نکلا اور کافروں سے لڑا اور پیٹھ پھیر کر نہ بھاگا۔ ‘‘  تو اس سے کہاجائے گا :  ’’ تُو جھوٹا ہے، تُو نے جہاد اس لئے کیا تاکہ تجھے بہادر اور جری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر حکم ہوگا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔ ‘‘   (المستدرک ،کتاب الجھاد، باب سبب نزول آیۃ  (فمن کان یرجو لقاء ربہ) ، الحدیث۲۵۷۴، ج ۲، ص ۴۴۲)

{11}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حساب کے وقت تین شخص ہلاک ہو جائیں گے:  سخی، بہادر اور عالم۔ ‘‘   (المستدرک ،کتاب العلم، باب ان اول الناس۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث: ۳۷۲،ج۱،ص۰۵ ۳)



Total Pages: 320

Go To
$footer_html