Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

عَلَیْہِ  وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  توجہ سے سنیں اور غور فرمائیں کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اُمت کی مثال  (بلا تشبیہ)  اس بادشاہ کی سی ہے جس نے ایک محل بنایا، پھر اس میں ایک مکان بنا کر ایک منادی کو لوگوں کو کھانے کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، تو کچھ لوگوں نے اس منادی کی بات مان لی اور کچھ نے نہ مانی، تو جان لیں کہ   وہ بادشاہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہے، وہ محل اسلام ہے اور وہ مکان جنت ہے، یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممنادی ہیں ، جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں داخل ہوا اور جو جنت میں داخل ہوا وہی اس کے انواع واقسام کے کھانے کھائے گا۔ ‘‘                        (جامع الترمذی،ابواب الامثال،باب ماجاء مثل اللہ  عَزَّ وَجَلَّلعبادہ ، الحدیث: ۲۸۶۰،ص۱۹۳۸)

{55}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  موحدین کو ان کے عمل کی کمی کے مطابق جہنم میں عذاب دے گا اور پھر ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں لوٹا دے گا۔ ‘‘              (کنزالعمال،کتاب الایمان،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۶۶،ج۱،ص۵۰)

{56}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے مجھے دیکھا اورایک مرتبہ مجھ پر ایمان لایا اس کے لئے سعادت ہے اور جس نے مجھے نہیں دیکھا اور سات مرتبہ مجھ پر ایمان لایا اس کے لئے بھی سعادت ہے۔ ‘‘  

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن النضر،الحدیث: ۱۲۵۷۹،ج۴،ص۳۱۰)

                جبکہ علامہ طیالسی کی ایک روایت میں  ’’ تین مرتبہ ‘‘  ایمان لانے کا ذکر ہے۔

{57}…رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جسے اسلام کی ہدایت ملی اور بقدرِ ضرورت رزق ملا، پھر اس نے اس پر قناعت کی تو وہ فلاح پا گیا۔ ‘‘           (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۷۸،ج۱۸،ص۳۰۶)

{58}…حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام لانا، ہجرت کرنا اور حج کرنا پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم ، کتاب الایمان،باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذاالخ،الحدیث: ۳۲۱،ص۶۹۸)

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر2:                                                شرکِ اصغر  ( ریاکاری)

                بے شک قرآن وسنت ریا کاری کی حرمت پر گواہ ہیں نیز اس کی حرمت پر اُمت کا اجماع بھی ہوچکا ہے۔

ریاکاری کی مذمت پر آیات ِ قرآنیہ:

                 قرآن پا ک میں اس کی مذمت یوں بیان کی گئی ہے:

{۱}

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ (۶)   (پ۳۰،الماعون: ۶)

ترجمۂ کنز الایمان :  وہ جو دکھا واکرتے ہیں ۔

{۲}ایک دوسری جگہ ہے:  

وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌؕ-  (پ۲۲، فاطر: ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ جو برے داؤں  (فریب)  کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے ۔

حضرت سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ان سے مراد ریاکار ہیں ۔ ‘‘  

{۳}ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  

وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ (۱۱۰)   (پ۱۶،ا لکھف: ۱۱۰)   

 ترجمۂ کنز الایمان : اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے

                یعنی اپنے عمل میں ریاکاری نہ کرے۔ اسی لئے یہ آیتِ مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی عبادت اور عمل پر اجر کے ساتھ ساتھ تعریف کے بھی خواہاں رہتے تھے۔

{۴}ایک اور مقام پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا (۹)   (پ۲۹، الدھر: ۹)

 ترجمۂ کنز الایمان :  ہم تمہیں خا ص اللہ  کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے۔

ریاکاری کی مذمت پر احادیثِ مبارکہ:

                احادیثِ مبارکہ میں ریاکاری کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے:  

{1}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی  جزا دیتے وقت ارشاد فرمائے گا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لئے دنیا میں تم دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا تم ان کے پاس کوئی جزا پاتے ہو؟ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث محمود بن لبید،الحدیث: ۲۳۶۹۲،ج۹،ص۱۶۰)

{2}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک سب سے پسندیدہ بندے وہ گمنام اور پرہیزگار سخی ہیں  (یعنی جو اپنی عبادات چھپانے میں انتہائی مبالغہ کرتے ہیں اور ا



Total Pages: 320

Go To