Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اس میں کوئی بھی نہ ہو گا اور یہ دن ایک زمانہ تک   جہنمیوں کے جہنم میں رہنے کے بعد ہو گا۔ ‘‘               

                کیونکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن کے بارے میں محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے  ’’ غیر ثقہ اور کثیر جھوٹی روایات بیان کرنے والا‘ ‘کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور یہ بات جمہور محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے حضرت سیدنا ابن مسعود اور حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے بھی روایت کی ہے۔ ابن تیمیہ نے کہا :  ’’ یہ حضرت سیدنا عمر فاروق ، حضرت سیدنا ابن عباس، حضرت سیدنا ابن مسعود، حضرت سیدنا ابوہریرہ اور حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م کا قول ہے، حضرت سیدنا حسن بصری اور حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہماکی بھی یہی رائے ہے نیز حضرت علی بن طلحہ الوَالِبی اورمفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کی ایک جماعت بھی اسی کی قائل ہے۔

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی قول دیگر اقوال کا رد کرتاہے جیسا کہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا کہنا ہے :  ’’ میں نے حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ ‘‘  اور ظاہر بھی یہی ہے کہ مذکورہ شخصیات سے اس بارے میں کوئی صحیح روایت مروی نہیں ۔اور اگر بالفرض اسے صحیح  تسلیم کر بھی لیں تب بھی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کے بیان کے مطابق اس کامطلب یہ ہو گا :  ’’ اس میں کوئی گنہگار مؤمن نہ ہو گا جبکہ کافروں کے ٹھکانے تو جہنم میں ہی ہوں گے ،وہ اُن سے بھرا رہے گا اورکفار اس سے کبھی نہ نکلیں گے۔ جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے بہت سی آیات میں اس بات کو ذکر کیا ہے۔

                حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی تفسیرِ کبیر میں ہے :  ’’ ایک قوم کاکہنا ہے کہ کافروں کاعذاب ختم ہو جائے گا اور ان کے عذاب کی بھی ایک انتہاء ہے۔ ‘‘  اور وہ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں :  

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ (۲۳)   (پ۳۰، النباء: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  اس میں قرنوں  (مدتوں )  رہیں گے۔

                وہ اس طرح کہ ظلم کا گناہ متناہی ہے، لہٰذا اس پر لامتناہی سزا دینا ظلم ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کا جواب پیچھے گزر چکا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان اَحْقَابًا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء ہے، کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عرب اس سے دوام کو تعبیر کرتے ہیں اور یہ کوئی ظلم نہیں ، کیونکہ کافر جب تک زندہ رہا کفر کا عزم کرتا رہا، لہٰذا اسے ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا کیا گیا یعنی دائمی جرم کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزا چکھایا گیا، لہٰذا اس کا عذاب اس کے جرم کی پوری پوری سزاہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:

غَیْرَ مَجْذُوْذٍ (۱۰۸)   (پ۱۲، ھود: ۱۰۸)  

ترجمۂ کنزالایمان: کبھی ختم نہ ہوگی۔

کی وجہ سے اہلِ جنت کے معاملہ میں تقیید اور استثناء سے تمام علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اتفاق کے مطابق ظاہری معنی مراد نہیں کہ گذشتہ نظیر کی طرح اس میں تاویل کی جائے۔ بلکہ اس سے اہلِ اعراف (یعنی جنت اورجہنم کے درمیان والے )  اورگنہگار مؤمن مراد لئے جائیں گے جو بعد میں جنت میں داخل ہوں گے۔

                حضرت سیدنا ابن زید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ہمیں اہلِ جنت کے لئے تو اپنے ارادے کی خبر اس فرمانِ عالیشان:  

عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ (۱۰۸)   (پ۱۲، ھود۱۰۸)

ترجمۂ کنز الایمان :  یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی۔

 کے ذریعے دی ہے، جبکہ اہلِ جہنم کے بارے میں ہمیں اپنے ارادے کی خبر نہیں دی۔ ‘‘  

ایمان کی اہمیت اورمؤمن کی فضیلت

{48}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کعبہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :  ’’ تُو خود اور تیری فضا کتنی اچھی ہے، تُو کتنی عظمت والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، اس ذات پا ک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک مؤمن کی جان ومال اور اس سے اچھا گمان رکھنے کی حرمت تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ ‘‘                   (سنن ابن ماجہ، ابواب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن  ومالہ ، الحدیث: ۳۹۳۲،ص۲۷۱۲)  

{49}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اس طرح آئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو، رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو، تو اس کے لئے جنت ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ شرک کرنا اور مسلمان جان کو قتل کرنا۔ ‘‘  

 (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابو ایوب انصاری،الحدیث: ۲۳۵۶۱،ج۹،ص۱۳۱، ’’ قالو اوما ھی الکبائر ‘‘  بدلہ  ’’ وسالوہ ماالکبائر ‘‘ )

{50}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مجھ پر ایمان لایااورمیری اطاعت کی اور پھر ہجرت کی میں اسے جنت کے نچلے ، وسطی اور بلند ترین حصے کے ایک ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں تو جو یہ کام کرے اور نہ تو خیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دے اور نہ ہی برائی سے بھاگنے کا کوئی موقع گنوائے تو (یہی اس کے لئے کافی ہے،)  وہ  جہاں چاہے جا کر مر جائے۔ ‘‘   (سنن النسائی ، کتاب الجھاد،باب مالمن اسلم وھاجرالخ،الحدیث: ۳۱۳۵،ص۲۲۸۹)

{51}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اخلاص کے ساتھ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ ہونے کا عقیدہ رکھتے ہوئے دنیا چھوڑی، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے راضی ہو گا۔ ‘‘   (سنن ابن ماجہ ،کتاب السنۃ،باب فی الایمان،الحدیث:  ۷۰،ص۲۴۸۱)

{52}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  مؤمن کودنیا میں نیکی کی توفیق دینے او ر آخرت میں اس کا ثواب دینے میں ظلم نہیں کرے گا جبکہ کافرکی نیکیوں کا بدلہ اُسے دنیاہی میں دے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں آئے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کی وجہ سے اسے کوئی بھلائی دی جائے۔ ‘‘

  (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن النضر،الحدیث: ۱۲۲۳۹،ج۴،ص۲۴۷)

{53}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عمل کے بغیرایمان اورایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔ ‘‘               (مجمع الزوائد، کتاب الایمان ، باب لایقبل الایمان بلا عمل الخ،الحدیث: ۹۵،ج۱،ص۱۸۷)

{54}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میں نے خواب دیکھاگویا کہ جبرائیل عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میرے سرہانے اور میکائیل عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میرے قدموں میں کھڑے ہیں ، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہتا ہے :  ’’ ان کے لئے کوئی مثال پیش کرو۔ ‘‘  تو وہ عرض کرتا ہے :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی



Total Pages: 320

Go To