Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ (۹۲)   (پ۱۱، یونس:  ۹۲ )     

ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ۔

جیسا کہ ایک دوسری جگہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  

 لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-  (پ ۱۳، یوسف: ۱۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں ۔

تنبیہ6:

                مذکورہ بالا آیات واحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں :  ’’ کافروں کو جہنم میں ملنے والا عذاب دائمی اور ابدی ہو گا اور اس مؤقف کے خلاف جو روایات آئی ہیں ان میں تاویل کرنا واجب ہے۔ ‘‘  اس لئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے اس فرمانِ عالیشان:  

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (۱۰۷)

 (پ۱۲، ھود: ۱۰۷)

ترجمۂ کنز الایمان : وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے۔

کا ظاہری معنی تو یہ ہے کہ کافروں کے عذاب کی مدت زمین وآسمان کی مدت ِبقاء کے مساوی ہے، مگر جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  چاہے گا وہ اس مدت تک بھی جہنم میں نہ رہیں گے۔ مگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بیس  (20)  وجوہات سے اس میں تاویل کی ہے، ان میں سے بعض کا تعلق زمین وآسمان کی مدت سے مقید کرنے کی حکمت سے ہے اور بعض کاتعلق استثناء کی حکمت سے ہے۔

                پہلی صورت کے اعتبار سے اس کامعنی یہ ہے :  ’’ اس سے مراد جنت کے زمین وآسمان ہیں ۔ ‘‘  کیونکہ ہر وہ چیز جو تم سے بلند ہے وہ آسمان ہے اور ہر وہ چیز جس پر تم قرار پکڑتے ہو وہ زمین ہے اور اس اعتبار سے جنت کے زمین وآسمان کا وجود ایک قطعی اَمر ہے جوکہ کسی پر مخفی نہیں ، لہٰذا اس بات کی یہ نظیر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی اس طرح کہ اس آیت کو اس تاویل پر محمول کرنا ہی جائز نہیں کیونکہ یہ مخاطَب لوگوں کے نزدیک معروف نہیں ہے۔

٭…یا ’’ اس سے دنیا کے زمین وآسمان مراد ہیں ۔ ‘‘  اور اسے عرب کی کسی چیز کے دوام اور ہمیشگی کے بارے میں خبر دینے کے مطابق بیان کیا گیاہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں :  ’’  لَااٰتِیْکَ مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُیعنی میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا جب تک زمین وآسمان قائم ہیں ،  ‘‘

٭…یا جب تک رات دن میں اختلاف رہے گا،

٭…یاجب تک سمندر موجیں مارتا رہے گا،

٭…یاجب تک پہاڑ قائم رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ ان سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا خطاب عربی زبان کے عرف کے مطابق ہوتاہے اور ان کے عرف میں یہ الفاظ ہمیشگی اور دوام کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔

                حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے زمین وآسمان کے دوام کے بارے میں مروی ہے :  ’’ تمام مخلوق کی اصل عرش کا نور ہے اور آخرت میں زمین وآسمان اسی نور کی طرف لوٹ جائیں گے جس سے انہیں پیدا کیا گیا اور پھر ہمیشہ عرش کے نور میں رہیں گے۔ ‘‘  

                اس جواب کو اس معنی کی ضرورت ہے کہ زمین وآسمان کے دوام کی قید کو اس طرح سمجھا جائے کہ کافر جہنم میں اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ زمین وآسمان قائم رہیں گے۔

٭ …بعض حضرات نے یہ معنی مراد لینے سے منع کیاہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں چیزیں جب تک قائم رہیں گی ان کا جہنم میں رہنا بھی باقی رہے گا۔اور ایک قاعدہ بیان کیا ہے :  ’’ جب شرط پائی جائے تو مشروط کا پایا جانا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات جب شرط نہ پائی جائے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ مشروط بھی نہ پایا جائے۔ اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ جیسے آپ کہیں :  ’’ اگر یہ انسان ہے توحیوان بھی ہے۔ ‘‘  پھرکہیں :  ’’ مگر یہ توانسان ہی ہے۔ ‘‘  لہٰذا نتیجہ نکلا کہ یہ حیوان بھی ہے، یاکہیں :  ’’ مگر یہ انسان نہیں ۔ ‘‘  تو اب نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ یہ حیوان بھی نہیں کیونکہ مقدم کی نقیض کا استثناء درست نہیں ۔

                لہٰذا اب اگر اس مثال اور قاعدہ کے مطابق آیت ِ مذکورہ کے مفہوم کو سمجھا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہو گاکہ اس میں زمین و آسمان کادوام شرط اور دائمی عذاب مشروط ہے،لہٰذا جب ہم کہیں :  ’’ جب تک زمین وآسمان قائم ہیں ان کا عذاب باقی رہے گا۔ ‘‘  پھر کہیں :  ’’ مگر زمین وآسمان تو قائم ہیں ۔ ‘‘  تو ہمارے اسی قول سے ان کے عذاب کا دائمی ہونا ثابت ہوگیا، اور اگر ہم یہ کہیں :  ’’ زمین وآسمان قائم نہیں ۔ ‘‘  تو یہ ضروری نہیں کہ وہ دائمی عذاب میں بھی نہ ہوں ، ان کے عذاب کے دائمی ہونے کے ساتھ زمین وآسمان کی بقا یا عدمِ بقا کی بات نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا ان کے دوام کی قید کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک بہت عظیم فائدہ پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تقیید اس عذاب کے طوالت اور ہمیشہ قائم رہنے پر دلالت کرتی ہے جس کی طوالت اورلمبائی کا عقل احاطہ نہیں کرسکتی۔

                پھرکیا اس عذاب کی کوئی انتہاء بھی ہے یانہیں ؟ اس کا جواب دیگر دلائل سے حاصل ہوگا جو کہ کافروں کے جہنم میں ہمیشگی کی تصریح کرنے والی آیات ہیں جو اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء نہیں ۔

                دوسری صورت کے اعتبار سے اس کامطلب یہ ہے کہ یہ جہنمیوں کا استثناء ہے کیونکہ وہ جہنم سے ’’ زمہریر ‘‘  اور  ’’ حمیم  ‘‘  پینے کے لئے نکلیں گے اورپھر واپس جہنم میں لوٹ جائیں گے۔ لہٰذا وہ ان اوقات کے علاوہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، یہ اوقات بھی اگرچہ عذاب ہی کے ہیں مگر اس وقت وہ حقیقتاً جہنم میں نہیں ہوں گے۔ یا پھر اس آیتِ مبارکہ میں  ’’ ما ‘‘  ذوی العقول کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اس آیتِ مبارکہ:  

فَانْكِحُوْا  مَا  طَابَ  لَكُمْ  مِّنَ  النِّسَآءِ   (پ۴، النسآء: ۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں ۔

میں ہے، اس صورت میں گنہگار مؤمنین کا ’’ خٰلد ین ‘‘  کی ضمیر سے مستثنیٰ متصل ہو گا کیونکہ ان میں شقی لوگ بھی شامل ہیں یا پھر یہ ان کوشامل نہ ہونے کی وجہ سے مستثنیٰ منقطع ہے اور یہ بات زیادہ واضح ہے، یاپھر یہ مستثنٰی منقطع تو ہے مگر اس میں لا،سوٰی کے معنی میں ہے، مراد یہ ہے :  ’’ جب تک زمین وآسمان قائم رہیں گے مگر جسے تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ   چاہے گا اس کے عذاب میں اضافہ فرما دے گا۔ ‘‘  اس کے اور بھی بہت سے جوابات ہیں جن کے بعید ہونے کی وجہ سے میں نے ان سے اعراض کیا ہے۔

{47}…امام احمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے روایت کردہ حدیث اس کے منافی نہیں :   ’’ جہنم پر ایک ایسا دن ضرور آئے گا جس میں اس کے دروازے کھل جائیں گے تو



Total Pages: 320

Go To