Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنزالا یمان: یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولامیں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں ۔

                اس کا اس وقت ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان کے فورًا بعد ارشاد فرمایا :

ﰰ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ (۹۱)   (پ۱۱، یونس: ۹۱)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔

                ایسے وقت ایمان کے مفید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنی قوم پر آنے والے عذاب کودیکھ کر ایمان لایاتھا اور جیسا کہ بیان ہوا کہ اس وقت ایمان لانا نفع بخش نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ اس کا ایمان لانا محض تقلید کے طور پر تھا جیسا کہ اس کے قول اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَائِ یْلَسے ظاہر ہے گویا کہ اس نے اس بات کا اعتراف کیا :  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو تو نہیں جانتا لیکن میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے کہ کائنات کا ایک خدا ہے، لہٰذامیں اس خدا پرایمان لایا جس کے بارے میں ،میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے اور وہ قوم اس کے وجود کا اقرار کرتی ہے۔ ‘‘

                یہی تو تقلید محض ہے کیونکہ فرعون تو دہریہ اور صانع کے وجود کا منکر تھا اور ایسا گندا اور برائی کی انتہاء کو پہنچا ہوا اعتقا د، تقلید محض سے زائل نہیں ہوتا، بلکہ اسے زائل کرنے کیلئے دلیلِ قطعی کے بغیر چارہ نہیں اوراگر بالفرض دلیلِ قطعی کے بغیر بھی اسے درست مان لیاجائے تو پھر بھی دہریے اور اس جیسے سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے اپنے کفریہ عقائد کے باطل ہونے کا اقرار کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر اگر فرعون یہ کہتا:  ’’  اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہٗ یعنی میں اس ذات پر ایمان لایا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘‘  تب بھی وہ مسلمان نہ ہوتا کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں  (کہ نزع کے عالم میں جب روح نرخرے تک پہنچ جائے یا عذاب نظر آنے لگے، ایسے وقت میں ایمان لانا مفید نہیں ہوتا)  اور فرعون نے تو خالق کی نفی اوراپنی خدائی جیسے کفریہ عقائد کے بطلان کا اعتراف نہ کیا اوروہ یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اس کے اپنے اس قول اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَاء یْلَ سے اس نے کیاارادہ کیا ہے ؟

                جب ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہٗ سے ایمان ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں دوسرے معنی کا احتمال بھی موجود ہے، لہٰذا فرعون کے اس قول سے بھی ایمان ثابت نہ ہوگا۔ اوراگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ اس قول سے ایمان ثابت ہو جاتا ہے، تب بھی اس قول سے فرعون کا مؤمن ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس بات پراجماع ہو چکا ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے رسول پر ایمان نہ ہونے کی صورت میں اللہ  پرایمان لانا درست نہیں ، لہٰذا اگر تسلیم کر بھی لیا  جائے کہ فرعون اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر صحیح ایمان لے آیا تھا تب بھی حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے اس کا ایمان درست نہ ہو گا اور نہ ہی اس وقت اسے حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کا خیال آیا تھا لہٰذا اس کا ایمان مفید نہیں ، کیا آپ نہیں جانتے کہ اگر کوئی کافر ہزارو ں مرتبہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یا اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَ بِہِ الْمُسْلِمُوْنَ کہے تب بھی اس وقت تک مؤمن نہ ہو گا جب تک وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ نہ کہہ لے۔

وسوسہ: جادوگروں نے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لاتے وقت حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کا ذکر نہیں کیا مگر اس کے باوجود ان کا ایمان قبول کر لیا گیا؟

جواب: آپ کی بات درست نہیں کیونکہ انہوں نے حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کا تذکرہ اپنے اس قول :

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (۱۲۱)  رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ (۱۲۲)   (پ۹، الاعراف : ۱۲۱، ۱۲۲)

ترجمۂ کنز الایمان : ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔

میں کردیا تھا کیونکہ ان کا یہ ایمان لانا حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزے کی بنا پر ہوا تھا اور معجزہ یہ تھا کہ حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا مبارک ان کی ایجاد کردہ بلاؤں کو کھا گیا تھا اور رسول کے معجزے پر ایمان لانے کے بعد اللہ  عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا دراصل رسول پر ایمان لانا ہی ہے۔ لہٰذا وہ لوگ حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر صراحۃً ایمان لے آئے تھے جبکہ فرعون نہ تو صراحۃً ایمان لایا تھا اور نہ ہی اشارۃًبلکہ اس نے تو بنی اسرائیل کو یاد کیا تھا حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہیں حالانکہ حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کی صفات کے عارف اور راہِ نجات کے راہنماتھے لہٰذا فرعون کے اس قول میں اپنے کفر پر قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے۔

 سوال: امام قاضی عبد الصمد حنفی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی تفسیر میں اس بات کی تصریح کی ہے :  ’’ صوفیاء کرام کا مذہب یہ ہے کہ ایمان لانا ہر صورت میں نفع بخش ہے، اگرچہ عذاب دیکھتے وقت ہی کیوں نہ ہو اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ مذہبِ قدیم ہے کیونکہ قاضی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہمتقدمین میں سے ہیں اور پانچویں صدی کے اوائل یعنی ۴۳۰؁ ہجری میں بقیدِحیات تھے۔ اور علامہ ذہبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ علماء ِمتقدمین ُومتأخرین رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں تیسری صدی ہجری حدِ فاصل ہے۔ ‘‘  جب صوفیاء کرام کایہ مذہب ہے تو اس کے برعکس فرعون کے کفر پر اجماع کیسے ہو گیا؟

جواب:  اگر ہم مجتہدین اور قابلِ اعتماد صوفیاء ِکرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی طرف منسوب اس قول کو صحیح تسلیم کر لیں تاکہ ان کی مخالفت کی  صورت میں اجماع منعقد نہ ہوسکے، تب بھی یہ اعتراض ہم پر وارد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارے بیان کردہ فرعون کے کفر پر منعقد اجماع میں خلل ڈالتا ہے، کیونکہ ہم اس کے ناامیدی کے عالم میں ایمان لانے کی وجہ سے اس پر کفر کاحکم نہیں لگاتے، بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جس انداز میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایاتھا وہ درست نہ تھا اوراگربَرْ سَبِیْلِ تَنَزُّلْ  ( یعنی اس کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا درست مان بھی لیا جائے پھر بھی ) وہ حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اصلاً ایمان ہی نہ لایا تھا، لہٰذا صوفیاء کرام کی طرف منسوب یہ مذہب ہمارے مؤقف پر کوئی اعتراض وارد نہیں کرتا۔

                اما م ، عارف ، محقق محی الدین ابن عربی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے  ’’ الفتوحات المکیۃ ‘‘  میں اضطرار کے وقت ایمان لانے کو صحیح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ فرعون مؤمن تھا۔ ‘‘   (آئندہ آنے والے صفحات میں مصنف علیہ الرحمۃ اس کا ردکریں گے اورانہی کے حوالے سے یہ ثابت کریں گے کہ فرعون پکاکافرتھا) مزید فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ جب فرعون اوراس کے لشکر کے درمیان غرق کی مصیبت حائل ہوئی تو اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں التجاء کی اور اپنے باطن کی ذلت ورسوائی کو دیکھ کرمشکل دور کرنے کے لئے عرض کیا:  

اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ  (پ۱۱، یونس : ۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان : میں ایمان لایاکہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔

                جیسا کہ جادوگروں نے ایمان لاتے وقت یہ بات:  

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (۱۲۱)  رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ (۱۲۲)   (پ۹، الاعراف : ۱۲۱، ۱۲۲)

ترجمۂ کنز الایمان : ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔

شک وشبہ اور اشکال دور کرنے کے لئے کہی تھی، پھر فرعون نے

وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (۹۰)   (پ۱۱، یونس: ۹۰)   

 



Total Pages: 320

Go To