Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ (۸۵)   (پ ۲۴ ،المؤمن :  ۸۵)

 ترجمۂ کنز الایمان : تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیاجب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہ  کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے۔

                ہاں حضرت سیدنا یونس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اس حکم سے مستثنیٰ ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ

ترجمۂ کنز الایمان : ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم

الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ (۹۸)   (پ ۱۱، یونس ۹۸)

نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔

کیونکہ اس میں استثناء متصل ہے اور وہ عذاب دیکھ کر ایمان لائے تھے اور یہ بعض مفسرین کا قول ہے اور اس استثناء کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس قوم کے نبی کا اعزاز اور خصوصیت تھی لہٰذا اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

اِیمان والدینِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہما:

                جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے مکی مدنی آقا، دوعالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے والدین کریمین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے انتقال کے بعد دوبارہ زندگی عطا فرما کر مکرم فرمایا تا کہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لے آئیں ، جیسا کہ ایک حدیث پاک میں آیاہے جسے امام قرطبی اور ابن ناصر الدین حافظ الشام وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اکرام کی خاطر موت کے بعد خلافِ قاعدہ والدینِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، اور یہ ایک مسلمہ اُصول ہے کہ خصوصیات پر قیا س نہیں کیا جا سکتا۔ بعض محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے والدینِ مصطفی ،احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموعلیہما معہ کے زندہ کئے جانے والی حدیث میں اختلاف کیا اور اس پر طویل بحث کی ہے، میں نے اس کارد اپنے فتاویٰ میں کر دیا ہے۔

                سیدناامام قرطبی اور ابن دحیہ رحمۃ اللہ  تعالی علیہما وغیرہ فرماتے ہیں :  ’’ اللّٰہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہٌ عن العُیوب عَزَّ وَجَلَّ   و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضائل اور خصوصیات میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال تک مسلسل اضافہ ہوتا رہا، یہ معاملہ  (یعنی والدینِ کریمین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کا زندہ ہو جانا)  بھی انہیں فضائل و اعزازات میں سے ایک ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو عطا فرمائے اور ان کا زندہ ہو جانا اور ایمان لے آنا عقلی ونقلی طور پر ممکن ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو قاتل کی نشاندہی کے لئے زندہ فرما دیا تھا اور حضرت سیدنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک پر مُردوں کی ایک جماعت کو زندہ فرمایا، ایسی صورت میں والدینِ کریمین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے انتقال کے بعد نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی فضیلت اور اعزاز میں اضافہ کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ بے شک یہ بات بھی درجۂ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سورج کو غروب ہو جانے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے لوٹا دیاتھا تاکہ حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہٗ الْکَرِیْم نمازِعصر ادا کر سکیں ،تو جس طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سورج کو لوٹادینے اور گئے وقت کے لوٹ آنے سے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عزت افزائی فرمائی اسی طرح زندگی لوٹا کر اور ایمان لانے کا وقت گزرجانے کے بعد اس وقت کو لوٹا کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عزت افزائی فرمائی۔ ‘‘  

                یہ بات بعض دوسرے مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس قول کے منافی بھی نہیں کہ ’’ یہ آیت مبارکہ:  

وَّ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ (۱۱۹)   (پ ۱، البقرۃ: ۱۱۹)

 

ترجمۂ کنز الایمان : اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہو گا۔

خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے والدینِ کریمین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے بارے میں نازل ہوئی۔ ‘‘  کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کے سببِ نزول کے بارے میں کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے اور اگر ہم بالفرض اسے صحیح مان بھی لیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ ’’ اے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وجاہت نہ ہوتی تو یہ جہنمی تھے۔ ‘‘  

{44}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہے۔ ‘‘   (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان ان من مات علی الکفرالخ،الحدیث: ۵۰۰،ص۷۱۶)

                اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس معاملہ کا علم عطا فرمانے سے پہلے بیان فرمائی یا پھر اس اعرابی کے اطمینانِ قلب اور ہدایت کے لئے ارشاد فرمائی تھی،لہٰذا جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا :  ’’ تیرا باپ جہنم میں ہے۔ ‘‘  تو اس کا رنگ بدل گیا تھا۔ قابلِ اعتمادعلماء ومجتہدینِ اُمت رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے پہلی آیتِ مبارکہ یعنی:  

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-  (پ:  ۲۴، المؤمن :  ۸۵)

ترجمۂ کنز الایمان : تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ ‘‘

سے فرعون کے کفر پر اجماع کا استدلال کیا ہے۔

{45}… سیدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے (یعنی فرعون کے کافر ہونے کی روایت)  سورۂ یونس کی تفسیر میں دو سندوں سے روایت کر کے فرمایا :  ’’ ان میں سے ایک سند حسن اور دوسری حسن غریب صحیح ہے۔ ‘‘  

{46}… مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ   وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کو ان کی ماں کے پیٹ میں مومن پیدا فرمایا اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا فرمایا۔ ‘‘                                                                                                                            (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۵۴۳،ج۱۰،ص۲۲۴)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے فرعون کے بارے میں سورہ ٔیونس میں جو حکایت بیان فرمائی ہے :

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُۙ-قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (۹۰)   (پ۱۱، یونس: ۹۰)

 



Total Pages: 320

Go To