Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (۱۶)   (پ۲۶، ق: ۱۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔

{۳}

وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ-  (پ۲۷، الحدید: ۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اوروہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو۔

                حدیث پاک میں ہے کہ  اگر تم ڈول کو رسی سے کنوئیں میں لٹکا دو تووہاں بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے علم وقدرت سے موجود ہے۔ (کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاپنے علم وقدرت سے ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے )  

                ان آیات واحادیث بلکہ ان جیسی تمام روایات میں سے ہر ایک میں تاویل کرنا واجب ہے کیونکہ کسی کے لئے ان نصوص کے ظاہری معنی کا قائل ہونا ممکن نہیں لہٰذا جب ان میں سے بعض میں تاویل کرنا ثابت ہوگا تو سب میں تاویل کرنا واجب ہو گا، کیونکہ خَلَفْ اس معاملہ میں تنہا نہیں بلکہ سَلَفْ کی ایک جماعت جیسے سیدنا امام مالک وجعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  وغیرہ نے بھی ان آیات میں تاویل کی ہے۔

        الغرض ! اہلِ حق کا اس مسئلہ میں وہی مذہب ہے جسے میں نے بیان کر دیا ہے اور ہر ایک پراسی کے مطابق عقیدہ رکھنا واجب ہے اور آدمی کو یہ اعتقاد اس وقت حاصل ہو گا جب وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو ہر صریح یا التزامی عیب سے پاک مانے گا بلکہ ہر اس چیز سے بھی پاک مانے جس میں کوئی نقص تو نہ ہو مگر کمال بھی نہ ہو۔

٭ …اور اس بات کا عقیدہ رکھنا بھی واجب ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی ذات ، ارادے ، صفات ، اسماء اور تمام افعا ل میں کمال کے سب سے اعلیٰ درجے کے ساتھ متصف ہے۔

٭ …شہادتین میں سے دوسری گواہی میں لفظ مُحَمَّدًا کو اَحْمَدَ ، اَبَا الْقَاسِمِ اور لفظ رَسُوْلُ کو نَبِیُّ سے تبدیل کردینا بھی جائز ہے جیسے  (اَشْھَدُ اَنَّ ) مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی جگہ اَحْمَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اَبَا الْقَاسِمِ رَسُوْلُ اللّٰہِ یا مُحَمَّدًا نَّبِیُّ اللّٰہِ کہنا۔ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدائماً ابدًا)  

                نیز ان دونوں شہادتوں کو ترتیب سے ادا کرنا شرط ہے، لہٰذا اگرکسی نے اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ واَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہا تو وہ مسلمان نہ ہوگا مگرجبکہ انہیں پے در پے، لگاتار کہے تو مسلمان ہو جائے گا۔ یہ کلمات عربی میں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ کسی نے اپنی مادری زبان میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حقیقی ویکتا معبودہونے اور حضرت سیدنا محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رسول ہونے کی گواہی دے دی تب بھی وہ مسلمان ہو جائے گا مگر وہ شخص جوالفاظ ادا کر رہاہو اس کا ان لفظوں کو سمجھنا شرط ہے۔

٭ …جودافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت سے انکار کی وجہ سے کافر ہو اس کے مسلمان ہونے کے لئے یہ دونوں گواہیاں کافی ہیں ۔

٭ …اور جو لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کو عرب کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ سے کافر ہوئے جیسے عیسائی وغیرہ تو ان کے مسلمان ہونے کے لئے یہ کہنا شرط ہے کہ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلٰی کَآفَّۃِ الْاِنْسِ وَالْجَآنِّ یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتما م انسانوں اور جنات کی طرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں ۔

٭ …نیزگونگے کااشارہ اس کے کلام کے قائم مقام ہے۔ اور جو الفاظ پیچھے بیان کئے جاچکے ہیں ان کے علا وہ کسی لفظ سے اسلام ثابت نہ ہوگا جیسے کوئی شخص صرف یہ کہے :  ’’ میں ایمان لایا۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ میں اس پر ایمان لایا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔ ‘‘

٭ …یا  ’’ میں مسلمان ہوں ۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ میں اُمت محمدی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں سے ہوں ۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ میں حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ مسلمانوں کی طرح ہوں ۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ مسلمانوں کا دین حق ہے۔ ‘‘  

٭ …جبکہ کوئی ایسا شخص جسے کسی چیز کی پہچان نہ ہو اگر وہ یہ کہہ دے :  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایا۔ ‘‘  

٭ …یا ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اسلام لا یا۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرا خالق ہے۔ ‘‘  

٭ …یا  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرا رب ہے۔ ‘‘  پھر رسالت کی گواہی بھی دے دے تو وہ مسلمان ہو جائے گا۔

٭ …ہر نو مسلم کو قیامت کے دن اٹھنے پرایمان لانے کاحکم دینا مستحب ہے اور اسلام کے آخرت میں نفع بخش ہونے کیلئے گذشتہ اُمور کے علاوہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کی دل سے تصدیق کرنا بھی شرط ہے ۔

٭ …اگر کوئی شخص دل سے ان باتوں کی تصدیق کر کے ان پر ایمان لے آیا مگر اس نے قدرت کے باوجود زبان سے شہادتین ادا نہ کیں تو وہ اپنے کفر پر قائم ہے اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کامستحق ہے جیسا کہ سیدنا اما م نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس بات پر اجماع نقل فرمایا ہے، لیکن اس پرایک اعتراض وارد ہوتاہے کہ اس معاملہ میں ائمہ اربعہ رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکاایک قول یہ بھی ہے :  ’’ اس کا ایمان اسے نفع دے گا اور زیادہ سے زیادہ وہ ایک گنہگار مؤمن ہے۔ ‘‘  

٭ …اگر کوئی شخص اپنی زبان سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دے اور دل سے ایمان نہ لائے تووہ آخرت میں بالاجماع کافر ہو گا جبکہ دنیا میں ظاہرًا اس پر مسلمانوں کے احکام جاری ہوں گے، لہٰذا اگروہ کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے پھر دل سے ایمان لے آئے تو وہ عورت اس وقت تک اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک مسلمان ہونے کے بعد تجدید نکاح نہ کرے۔  ‘‘

تنبیہ5:

                اہلِ حق کا مذہب ہے :  ’’  موت کے وقت غرغر کی آواز نکلنے کے عالم میں یا عذاب دیکھتے وقت ایمان لانا نفع مند نہیں ۔ ‘‘ کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  

 



Total Pages: 320

Go To