Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{36}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے والوں سے رک جاؤ، کسی گناہ کی وجہ سے انہیں کافر نہ کہو کیونکہ جو لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھنے والو ں کی تکفیر کرے گا وہی کفر سے زیادہ قریب ہو گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۳۰۸۹،ج۱۲،ص۲۱۱)

{37}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، مُحسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے، اگر ایسا ہی تھا جیسا اس نے کہا  (تو درست ہے)  ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔ ‘‘         (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب حال ایمان من قال لاخیہالخ،الحدیث: ۲۱۶،ص۶۹۰)

{38}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بھی کوئی شخص کسی کو کافر کہتا ہے تو

 ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔ ‘‘   ( صحیح ابن حبان،کتاب الایمان،فصلالخ،الحدیث: ۲۴۸،ج۱،ص۲۳۴)

{39}…صاحبِ معطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جب بھی آسمان سے کوئی برکت نازل فرماتا ہے تو لوگوں کا ایک گروہ اس کے سبب کفر کر بیٹھتا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بارش نازل فرماتا ہے تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلا ں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان کفر من قال مطرناالخ،الحدیث: ۲۳۳،ص۶۹۲،بدون  ’’ مطرنا ‘‘ )

{40}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ  کیا فرماتا ہے ؟ وہ فرماتا ہے :  ’’ جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی انعام فرماتا ہوں تو اس کی وجہ سے ان میں سے ایک گروہ کافر ہو جاتا ہے۔ ‘‘  وہ گروہ کہتا ہے :  ’’ یہ فلاں ستارے نے کیاہے یا فلاں ستارے کی وجہ سے یہ نعمت ملی ہے۔ ‘‘

 (المسندلامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرہ ، الحدیث: ۸۷۴۷،ج۳،ص۲۸۶)

{41}… دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ آج رات تمہارے رب عَزَّ وَجَلَّ  نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے :  ’’ میرے کچھ بندے مؤمن ہوئے اور کچھ کافر، جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش دی گئی وہ میرا انکار کرنے والے اور ستاروں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ ‘‘  

 (صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب یستقبل الامام الناس اذا سلم ، الحدیث: ۸۴۶،ص۶۷)

{42}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تک میری اُمت کو ستارے گمراہ نہ کر دیں وہ ہمیشہ اپنے دین پرقائم رہے گی۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال الاکمال،الحدیث: ۸۲۸۵،ج۳،ص۲۵۵)

{43}… شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں میں سے بعض شکر کرنے والے ہیں اورانہیں میں سے بعض کفر کرنے والے بھی ہیں ، وہ کہتے ہیں :  ’’ یہ رحمت ہے۔ ‘‘  اور بعض کہتے ہیں :  ’’ ہم پرفلاں فلا ں ستارے کی وجہ سے صدقہ کیا گیا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان کفر من قالالخ،الحدیث: ۲۳۴،ص۶۹۲)

تنبیہ2:

                گذشتہ صفحات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان گزر چکا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-  (پ۵، النساء :  ۴۸)

 

ترجمہ کنزالایمان:  بے شک اللہ  اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔

یہ آیت کریمہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کے عموم کی تخصیص کرتی ہے:  

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (۵۳)   (پ۲۴، الزمر: ۵۳)

ترجمہ کنزالایمان: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ  کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ  سب گناہ بخش دیتاہے بے شک وہی بخشنے والامہربان ہے۔

اہلِ سنت وجماعت کاعقیدہ

                ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ اہلسنت وجماعت کا یہ عقیدہ بالکل حق ہے کہ ’’ فاسق مؤمن کی میت مشیّت کے تابع ہے، اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو اسے اپنی مشیت کے مطابق عذاب دے گا اور پھر بالآخر اسے معاف فرما کر جہنم سے نکال دے گا، اس وقت وہ جہنم میں جلنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکا ہو گا، پھروہ بندہ نہرِ حیات میں غوطہ لگائے گا تو اسے ایک عظیم حسن وجمال اور تازگی حاصل ہو گی پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس نے اس بندے کے سابقہ ایمان اور اس کے اعمال صالحہ کے مطابق اس کے لئے جو انعامات تیار کئے ہوں گے وہ اسے عطا فرمائے گا جیسا کہ یہ بات بخاری وغیرہ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو اس بندے کو ابتدائًً ہی معاف فرما کر اس پرنرمی فرمائے اور اس کے مخالفین کو اس سے راضی فرما دے اور پھر نجات پانے والو ں کے ساتھ اسے بھی جنت میں داخل فرما دے۔ ‘‘  

خوارج کاعقیدہ:  

                خوارج کایہ عقیدہ ہے :  ’’ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے۔ ‘‘  

معتزلہ کاعقیدہ:  

 معتزلہ کا عقیدہ یہ ہے :  ’’ مرتکب کبیرہ حتمی طور پر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا اور اسے معاف کرنا جائز نہیں جیسا کہ مطیع کو عذاب دینا جائز نہیں ۔ ‘‘

خوارج ومعتزلہ کا رد:  

                یہ ان لوگو ں کے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر لگائے گئے جھوٹے الزامات میں سے ہے، جبکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ منکروں اورظالموں کے ان باطل اقوال وعقائد سے بلند وبالا ہے۔ اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان کہ:  

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (۹۳)   (پ۵، النسآء: ۹۳)

 

 



Total Pages: 320

Go To