Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{9}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں نے فلاں قبیلے کے محلے میں رہائش اختیار کی ہے لیکن ان میں سے جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے وہ میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے۔ ‘‘  تو سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م کوبھیجا وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر زورزورسے یہ اعلان کرنے لگے کہ بے شک چالیسگھرپڑوس میں داخل ہیں اور جس کے شر سے اس کا پڑوسی خوفزدہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘                          ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۴۳ ، ج۱۹ ، ص ۷۳)

{10}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جب تک بندے کا دل سیدھا نہ ہو جائے اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا اور جب تک اس کی زبان سیدھی نہ ہو جائے اس کا دل سیدھا نہیں  ہو سکتا اور وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتاجب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے بے خوف نہ ہو جائے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل،مسندانس بن مالک بن النضر،الحدیث: ۱۳۰۴۷،ج۴،ص۳۹۵)

مؤمن اور مسلم میں فرق:

{11}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مؤمن وہ ہے جس سے لوگ بے خوف رہیں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  جس کے شر سے اس کا پڑوسی بے خوف نہ ہووہ بندہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘                    (المرجع السابق، الحدیث:  ۱۲۵۶۲ ، ج۴ ، ص ۳۰۸)

{12}…سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اس طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح تمہارے درمیان تمہارا رزق تقسیم فرمایا ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دنیا تو اسے بھی عطا فرماتا ہے جس سے محبت فرماتا ہے اور جس سے محبت نہیں فرماتا اسے بھی عطا فرماتا ہے مگر دین صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے محبت فرماتا ہے، لہذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نیجسے دین عطا فرمایابے شک اسے اپنا محبوب بنالیا، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور وہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو جا ئے۔ ‘‘  

                راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی:  ’’ اس کے شر سے کیا مراد ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ بددیانتی اور ظلم، نیز جو بندہ حرام مال کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہ ہو گی اور اگر صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہو گا اور اگر اسے چھوڑ کر مر جائے گا تو وہ اس کے لئے جہنم کا زادِ راہ ہو گا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا البتہ اچھائی کے ذریعے  برائی کو ضرور مٹا دیتا ہے، بیشک برائی برائی کو نہیں مٹاتی۔ ‘‘   ( المرجع السابق، مسند عبداللہ  بن مسعود ، الحدیث: ۳۶۷۲،ج۲ ،ص۳۳)

{13}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے اپنے پڑوسی کو ایذاء دی بیشک اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو ایذاء دی، نیز جس نے اپنے پڑوسی سے جھگڑا کیا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور جس نے مجھ سے لڑائی کی بیشک اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے لڑائی کی۔ ‘‘  (کنز العمال ،کتاب الصحبۃ،الحدیث:  ۲۴۹۲۲ ، ج۹ ، ص ۲۵)

{14}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک غزوہ پرتشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ آج وہ شخص ہمارے ساتھ نہ بیٹھے جس نے اپنے پڑوسی کو ایذاء دی ہو۔ ‘‘  تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی:  ’’ میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کے نیچے پیشاب کیا تھا۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آج تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو۔ ‘‘

 ( المعجم الاوسط  ، الحدیث:  ۹۴۷۹ ، ج۶، ص ۴۸۱)

{15}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دعا مانگا کرتے تھے:  ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓاَعُوْذُبِکَ مِنْ جَارِالسُّوْئِ فِیْ دَارِالْمُقَامَۃِ (یعنی اے اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ ! میں اس پڑاؤمیں برے پڑوسی سے پناہ چاہتاہوں ) کیونکہ صحراء کا پڑوسی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتارہتاہے۔ ‘‘   ( المستدرک ،کتاب الدعاء التکبیرالخ ، باب التعوذ من جار الخ ، الحدیث:  ۱۹۹۴ ، ج۲ ، ص ۲۲۱)

{16}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے (آپس میں جھگڑنے والے)  دو پڑوسیوں کاجھگڑاپیش کیا جائے گا۔ ‘‘   ( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عقبۃبن عامرالجھنی، الحدیث:  ۱۷۳۷۷ ، ج۶، ص ۱۳۴ )

پڑوسی کی اذیت سے بچنے کاانوکھاطریقہ:

{17}…ایک شخص نے نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنا ساز و سامان راستے پر رکھ دو۔ ‘‘  تو اس نے اپنا سامان راستے پر رکھ دیا، جو شخص بھی وہاں سے گزرتا معاملے سے واقفیت پر اس شریر پڑوسی پر لعنت بھیجتا،پس وہ رسولِ اکرم، شفیعِ  مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  لوگ مجھے بہت تکلیف دے رہے ہیں ۔ ‘‘  حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:  ’’ تجھے ان سے کیا تکلیف پہنچی ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ وہ مجھ پر لعنت بھیج رہے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ’’ لوگوں سے پہلے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تجھ پر لعنت بھیجی ہے۔ ‘‘  عرض کرنے لگا:  ’’ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ ‘‘  جب وہ شکایت کرنے والا بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے حکم دیا:  ’’ اب اپنا سامان اٹھا لو بے شک تمہاری کفایت کر دی گئی۔ ‘‘    ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۳۵۶ ، ج۲۲ ، ص ۱۳۴)

{18}… دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنا ساز و سامان اٹھا کر راستے پر ڈال دو تو اس نے ایسا ہی کیا جو بھی وہاں سے گزرتا تو اس سے پوچھتا:  ’’ تیرا کیا معاملہ ہے؟ ‘‘  وہ کہتا:  ’’ میرا پڑوسی مجھے اذیت دیتا ہے۔ ‘‘  تووہ اس پڑوسی کو بد دعا دیتا ہواچلا جاتا، پس وہ پڑوسی اس کے پاس آیا اور بولا:  ’’ اپنا سامان واپس اٹھا لو میں آئندہ تمہیں کبھی تکلیف نہ دوں گا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی اذی الجار ، الحدیث: ۱۳۵۶۸،ج۸، ص ۳۱۰)

{19}…ایک شخص نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ جاؤ صبر کرو۔ ‘‘  پھر وہ 2یا3مرتبہ حاضر ہوا تو دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جاؤ اپنے گھر کا سامان راستے پر ڈال دو۔ ‘‘  تو اس نے ایسا ہی کیا، لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے اس سے معاملہ پوچھتے تو وہ انہیں اپنے پڑوسی کی حرکتوں کے بارے میں بتا دیتا، لہذا وہ اس پر لعنت بھیجنے لگتے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے سزا دے اور بعض لوگ اسے بددعائیں دیتے تو اس کا پڑوسی اس کے پاس آیا اور کہنے لگا:  ’’ واپس لوٹ آؤ آئندہ تم مجھ سے کوئی ایسی چیز نہ دیکھو گے جو تمہیں ناگوار گزرے۔ ‘‘   ( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی حق الجوار ، الحدیث:  ۵۱۵۳ ، ص

Total Pages: 320

Go To