Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{14}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمہ داری لی اللہ  عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گامگریہ کہ وہ ایساگناہ کرے جس کی معافی نہ ہو۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب البر و الصلۃ ، باب ماجاء فی رحمۃ الیتیم وکفالتہ ، الحدیث:  ۱۹۱۷ ، ص ۱۸۴۵)

{15}…دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے:  ’’ یہاں تک کہ وہ اس سے مستغنی ہو جائے تو اس کے لئے جنت واجب ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث مالک بن الحارث،الحدیث: ۱۹۰۴۷،ج۷،ص۲۷)

{16}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مسلمانوں کے گھروں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم سے اچھاسلوک کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم سے برا سلوک کیا جائے۔ ‘‘  ( سنن ابن ماجۃ، ابواب الادب ، باب حق الیتیم ، الحدیث:  ۳۶۷۹، ج۵ ، ص ۲۶۹۷)

{17}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: میں سب سے پہلے جنت کادروازہ کھولوں گا مگر میں ایک عورت دیکھوں گا جو مجھ سے بھی سبقت لے جائے گی تومیں اس سے پوچھوں گا:  ’’ تمہارا کیامعاملہ ہے اور تم کون ہو؟ ‘‘ تووہ کہے گی:  ’’ میں وہ عورت ہوں جو اپنے یتیم بچوں کو لئے بیٹھی رہی۔ ‘‘  (اوران کی وجہ سے دوسرانکاح نہ کیا۔)

 ( مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند ابی ھریرۃ ، الحدیث:  ۶۶۲۱، ج ۵ ، ص ۵۱۰)

{18}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جس نے یتیم پررحم کیااور اس کے ساتھ نرم گفتگوکی نیزاس کی یتیمی اورمسکینی پررحم کیا اور اپنے پڑوسی پر  اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے عطاکئے ہوئے (مال ودولت)  کی فضیلت کی بناء پرتکبرنہ کیاتواللہ  عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اسے عذاب نہ دے گا۔ ‘‘

 (  المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۸۸۲۸، ج۶، ص ۲۹۶)

یتیم کے سرپرہاتھ پھیرنے کی فضیلت:

{19}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے یتیم کے سر پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے ہاتھ رکھا تواس کے لئے ہر بال کے بدلے جن پر اس کا ہاتھ گزرا نیکیاں ہیں اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا میں اور وہ جنت میں ان دو (انگلیوں ) کی طرح ہوں گے۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث:  ۲۲۲۱۵ ، ج۸ ، ص ۲۷۲)

{20}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا کہ ان کی بینائی چلے جانے، پیٹھ جھک جانے اور حضرت سیدنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک بھوکا روزہ دار، مسکین یتیم ان کے پاس آیا اس حال میں کہ انہوں نے اور ان کے گھر والوں نے ایک بکری ذبح کی اور اسے کھا لیا لیکن اس کو کچھ نہ کھلایا، پھراللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں بتایا کہ اسے اپنی مخلوق  سے یتیموں اور مسکینوں سے محبت کرنے سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں اورآپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکم دیا کہ کھانا تیار کریں اور مساکین کو دعوت دیں پس آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایسا ہی کیا۔ ‘‘

  (المستدرک ،کتاب التفسیر ،سورۃ یوسف، باب علۃ ذھاب بصر الخ ،الحدیث: ۳۳۸۱،ج۳،ص ۸۸تا ۸۹،بتغیرٍ)

{21}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بیواؤں اور مساکین کی پرورش کرنے والا راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اور اس قیام کرنے والے کی طرح ہے جو سستی نہیں کرتا اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔ ‘‘   (صحیح مسلم ، کتاب الزھد ، باب فضل الاحسان الی الارملۃ الخ ، الحدیث:  ۷۴۶۸، ص ۱۱۹۴)

{22}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بیواؤں اور مسکینوں کی پرورش کرنے والا راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ   میں جہاد کرنے والے اور رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘  

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارات ، باب الحث علی المکاسب ، الحدیث:  ۲۱۴۰ ، ص ۲۶۰۵)

            کسی نیک بزرگ کا کہنا ہے:  ’’ میں ابتدائًً بہت نشہ کرتا اور گناہوں میں مبتلا رہتا تھا، ایک دن میں نے ایک یتیم دیکھا تو میں اس سے شفقت سے پیش آیا جیسا کہ بچے پر شفقت کی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پھر میں سو گیا تو میں نے جہنم کے فرشتوں کو دیکھا جو مجھے سختی سے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں ، اچانک وہی یتیم میرے سامنے آکھڑا ہوا اور ان فرشتوں سے کہنے لگا:  ’’ اسے چھوڑ دو!  یہاں تک کہ میں اس کے بارے میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے رجوع کر لوں ۔ ‘‘  مگرانہوں نے انکار کر دیا، پھر اچانک ایک آواز آئی:  ’’ ہم نے اسے یتیم پر احسان کرنے کی وجہ سے اس کا حصہ عطاکر دیا ہے۔ ‘‘  لہذا میں بیدار ہوا اور اس دن سے یتیموں کے ساتھ اورزیادہ احسان کرنے لگا۔ ‘‘

            منقول ہے کہ  ’’ کسی خوشحال علوی کے ہاں لڑکیاں تھیں ، وہ مرگیا تو شدیدفقرنے ان کے ہاں ڈیرے ڈال دئیے یہاں تک کہ انہوں نے جگ ہنسائی کے خوف سے اپنے وطن سے ہجرت کی اورایک شہرکی متروکہ مسجد (یعنی جس میں لوگوں نے نماز پڑھناچھوڑدی تھی) میں داخل ہوگئیں ، ان کی ماں نے انہیں وہاں چھوڑا اور خود ان کے لئے رزق تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی، وہ شہر کے ایک مسلمان رئیس کے پاس سے گزری اور اسے اپنا حال بیان کیا لیکن اس نے تصدیق نہ کی اور کہا:  ’’ مجھے اس کی دلیل پیش کرو۔ ‘‘  اس نے کہا:  ’’ میں مسافرہوں ۔ ‘‘  لیکن اس مسلمان رئیس نے اس خاتون سے منہ پھیر لیا، پھر وہ ایک مجوسی کے پاس سے گزری اور اس سے اپنی لاچارگی بیان کی تو اس نے تصدیق کرتے ہوئے اپنی ایک خاتون کو اس کے ساتھ بھیجا، لہذا وہ خاتون اس کو اور اس کی لڑکیوں کو اپنے گھر لے آئی اور ان کی بہت زیادہ عزت کی، جب نصف رات گزر گئی تو اس مسلمان نے خواب دیکھا:  ’’ قیامت قائم ہو چکی ہے اورنبی ٔ کریم،رء وف رحیم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سرپر ’’ لِوَاء الْحَمْد ‘‘   (یعنی حمد کا جھنڈا)  ہے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے قریب ہی ایک عظیم الشان محل ہے، اس نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ محل کس کے لئے ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ کسی بھی مسلمان شخص کے لئے۔ ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ میں بھی تو مسلمان موحِّدہوں ۔ ‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ میرے پاس اس کی دلیل پیش کرو۔

                وہ حیران و ششدرہوگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے علوی خاتون کا قصہ بیان کیا،چونکہ وہ آدمی اس علوی خاتون کو دھتکارچکا تھا لہذا شدتِ غم و اَلم میں بیدارہوااورانہیں تلاش کرنا شروع کر دیایہاں تک کہ اسے ایک مجوسی کے گھرمیں اس کے موجود ہونے کا پتہ چلا،پس اس نے مجوسی سے مطالبہ کیا لیکن اس نے انکارکردیااورکہا:  ’’ مجھے اس کی برکات حاصل ہوچکی ہیں ،مسلمان نے کہا:  ’’ یہ ایک ہزار (1000)  دینارلے لواوروہ علوی خاتون میرے حوالے کردو۔ ‘‘ لیکن اس مجوسی نے پھربھی انکارکردیا،تو مسلمان نے اس مجوسی کوایساکرنے سے متنفرکرنے کی کوشش کی لیکن اس مجوسی نے اس سے کہا:  ’’ جوتم چاہتے ہو میں اس کا زیادہ حق دار ہوں اور وہ محل جو تم نے خواب میں دیکھا ہے میرے لئے بنایاگیاہے، کیاتم مجھ پر اپنے اسلام کی وجہ سے فخرکرتے ہو،اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  میں اور میرے گھروالے اس وقت تک نہیں سوئے جب تک کہ اس علوی خاتون کے ہاتھ پراسلام قبول نہ کر لیا اور میں نے بھی تمہارے خواب کی مثل خواب دیکھا ہے اور مجھ سے رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:  ’’ علوی



Total Pages: 320

Go To