Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

مغفرت نہ ہوئی تو عمر ہلاک ہوجائے گا ۔ ‘‘

                حدیث پاک میں ہے:  جویہ کہے:   ’’ یقیناًمیں جنت میں جاؤں گا وہ جہنم میں جائے گا۔ ‘‘   (مجمع الزوائد ، کتاب العلم ، باب کراھیۃ الدعوی، الحدیث: ۸۸۰،ج۱،ص۴۴۳)  

                یہاں اس خوف سے ہماری مراد عورتوں جیسی رقتِ قلبی نہیں جوکچھ دیر کے لئے رولیتی ہیں ، پھر نیک عمل چھوڑ دیتی ہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ خوف ہے جو انسان کے دل میں گھر بنا کر اسے گناہوں سے روکے اور اطاعت کی پابندی کی ترغیب دلائے، یہی وہ خوف ہے جو نفع بخش ہے اور یہ احمقوں کا خوف نہیں جو ڈرانے والی گذشتہ باتیں سنتے ہیں تو نَعُوْذُبِاللّٰہِ اور یَا رَبِّ سَلِّمِْ  (یعنی خدا کی پناہ اور یا رب  عَزَّ وَجَلَّ  !  سلامت رکھنا)  کے علاوہ کچھ نہیں کہتے بلکہ اس کے باوجود گناہوں کے ارتکاب پرڈٹے رہتے ہیں اور شیطان ان کا اس طرح مذاق اڑاتا ہے جیسا کہ تم اس شخص کو دیکھ کرمذاق اڑاؤ گے کہ جس پر کوئی خطرناک درندہ حملہ کرنے لگے جبکہ وہ شخص ایک محفوظ قلعے کے قریب ہو جس کا دروازہ بھی کھلا ہو مگر وہ اس میں داخل نہ ہو بلکہ رَبِّ سَلِّم کہتا رہے یہاں تک کہ وہ درندہ آ کر اسے کھا جائے۔

{92}…رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ایک شخص اپنی جان پر گناہوں کے ذریعے ظلم کیا کرتا تھا، جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :  ’’ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری راکھ کو پیس کرہوا میں اڑا دینا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے عذاب دینا چاہا تو ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کونہ دیا ہو گا،پس جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی وصیت پر عمل کیاگیا، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے زمین کو حکم دیا :  ’’ اس کے جواَجزاء تجھ پر ہیں ان کو جمع کر دے۔ ‘‘  زمین نے حکم کی تعمیل کی اور وہ بندہ کھڑا ہو گیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے پوچھا :  ’’ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اُبھارا تھا؟ ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  تیرے خوف نے۔ ‘‘  تو اس کوبخش دیا گیا۔ ‘‘   (صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ،باب ۵۴،الحدیث: ۳۴۸۱،ص۲۸۴)

{93}…حضرت سیدنا عقبہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے عرض کی :  ’’ کیا آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ہمیں سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہوئی کوئی حدیثِ مبارکہ سنائیں گے؟ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا:   ’’ جب ایک شخص کی موت کا وقت آیا اوروہ زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی :  ’’ جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سی لکڑیاں جمع کر لینا، پھر اس میں آگ لگا کر مجھے اس میں ڈال دینا تا کہ آگ میرا گوشت کھا کر ہڈیوں کو جلا دے، پھر ان ہڈیوں کو اٹھا کر پیس لینا اور تیز ہوا کے دن اس راکھ کو اُڑا دینا۔ ‘‘   (اس کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا اس نے کہا تھا)   پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس شخص کی راکھ کو جمع کر کے اس سے پوچھا :  ’’ تو نے ایسا کیوں کیا؟ ‘‘  تو اس نے عرض کی :  ’’ تیرے خوف سے۔ ‘‘  تو اس کو بخش دیاگیا۔ ‘‘  (صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ،باب ۵۴،الحدیث: ۳۴۷۹،ص۲۸۴، ’’ اوقدروا ‘‘ بدلہ  ’’ اورُوا نارًا ‘‘ )

{94}…حضرت سیدنا عقبہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے بھی مَخْزنِ جودو سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تم سے پچھلی اُمتوں میں سے ایک شخص کو کثرت سے مال واولاد سے نوازا تھا، اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا:   ’’ تم نے مجھے باپ کی حیثیت سے کیسا پایا؟ ‘‘  انہوں نے جواب دیا :  ’’ ہم

 نے آپ کو بہترین باپ پایا۔ ‘‘  تو اس نے کہا :  ’’ میں نے تو کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا، لہٰذا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر راکھ بنا لینا اور پھر میری راکھ کو تیز ہوا میں اڑا دینا۔ ‘‘  جب انہوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے جمع کر کے دریافت فرمایا :  ’’ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا تھا؟ ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ تیرے خوف نے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت نے اس کا استقبال کیا۔ ‘‘   (المرجع السابق،الحدیث: ۳۴۷۸،ص۲۸۴، ’’ اعطاہ اللہ  ‘‘  بدلہ ’’ رغشہ اللہ  ‘‘  )

 

رحمت کاایک سبب

                حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ،نبی کریم ،رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان رحمت نشان ہے:  ’’ اسباب رحمت میں ایک سبب نادارمسلمان کوکھاناکھلاناہے۔ (الترغیب والترھیب،ج۲،ص۳۵)

پہلاباب:  باطنی کبیرہ گناہ اور ان کے متعلّقات

                میں نے باطنی گناہوں کواس لئے مقدم کیا ہے کہ یہ ظاہری گناہوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اور ان کا مرتکب گناہگاروں میں سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر ہوتاہے۔ انہیں مقدم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک تو ان کا وقوع عام ہے اور دوسرا ان کا ارتکاب کرنا بھی بہت آسان ہے، بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ انسا ن انہیں برا جانتے ہو ئے چھوڑدے، لہٰذا کبیرہ گناہوں کی اس قسم کو مقدم کرنا مناسب معلوم ہوا اور ان کا خلاصہ تحریر کرنے میں غورو فکر کرنا اچھا لگا۔

                 بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا فرمان ہے :  ’’ دلوں کے کبیرہ گناہ، اعضاء کے گناہوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ سب فسق اورظلم کا باعث بنتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نیکیوں کو بھی کھا جاتے ہیں اور سخت عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ ‘‘

                بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ نے باطنی کبیرہ گناہوں کو ذکر کرنے اوران کی تعداد ساٹھ  (60)  بیان کرنے کے بعد فرمایا :   ’’ ان کبیرہ گناہوں کی مذمت ان کے بڑے فساد، برے نتائج اور ہمیشہ رہنے والے اثرات کی وجہ سے زنا، چوری، قتل، اور شراب نوشی سے بھی زیادہ ہے، ان کے اثرات اس حیثیت سے باقی رہتے ہیں کہ وہ اس شخص کے حال اور اس کے دل کی ہیئت میں پختہ ہو جاتے ہیں ، جبکہ اعضاء سے متعلق گناہوں کے اثرات توبہ واستغفار، گناہوں کو مٹانے والی نیکیوں اور مصائب سے جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہاللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  

اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ (۱۱۴)          (پ ۱۲، ھود:  ۱۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان  : بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔

٭٭٭٭٭٭

 

کبیرہ نمبر1:                                                               شرکِ اکبر

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّاپنے کرم سے ہمیں اس گناہ سے پناہ میں رکھے اور کسی آزمائش کے بغیر عافیت کے ساتھ ہمارا خا تمہ اچھا فرمائے، کیونکہ وہی سب سے بڑا کریم اور سب سے زیادہ رحم والا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مجھے اور آپ کو اپنی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پر اپنے کرم اور فراخ عطاؤں کی موسلا دھار بارش برسائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                گذشتہ صفحات میں گناہِ کبیرہ کی جو تعریفیں بیان کی گئی ہیں ان سب کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ وہ اُن کبیرہ گناہوں کی تعریفیں ہیں جو ایک مسلمان سے ایمان کی حالت میں صادر ہوتے ہیں ، اسی لئے بہت



Total Pages: 320

Go To