Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہے۔علامہ ابن حجر مکی علیہ رحمۃ اللہ  القوی نے اس کتاب میں گناہوں کی اقسام بالتفصیل بیان فرمائی ہیں اورہر اس قول و فعل کو شامل کرنے کی کوشش فرمائی ہے جو ربُّ العٰلمین کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے۔اس کتاب میں ظاہری و باطنی ہر دو قسم کے گناہوں کا بیان ہے۔ پہلی جلد میں تقریباً 240گناہوں کا تذکرہ ہے جن میں سے 67 باطنی اور173 ظاہری گناہ ہیں ،جن میں سے چند ایک یہ ہیں :  شرکِ اکبر، شرکِ اصغر یعنی ریاکاری، حسد، کینہ، تکبر، خودپسندی، ملاوٹ، منافقت، حرص و طمع، اُمراء کی ان کی امارت کی وجہ سے تعظیم کرنا اور غرباء کی ان کی غربت کی وجہ سے تذلیل کرنا، ناشکری، بدگمانی، معصیت پر اصرار، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے ناامید ہو جانا، والدین کی نا فرما نی ، اور اللّٰہاور اس کے رسول  عَزَّ وَجَلَّ  و  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا وغیرہ۔

            تقریباً ہر مضمون کی ابتداء میں مؤلف موضوع کے مطابق آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ ذکر کرتے ہیں اس کے بعد ایک یا اس سے زائد تنبیہات ذکر کرتے ہیں ، ان تنبیہات میں وہ موضوع سے متعلق علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال اور اختلافات ذکر کرتے ہیں ، اور اس کے علاوہ سب سے آخر میں اپنی حتمی رائے بھی پیش فرماتے ہیں ۔

                 ’’ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش ‘‘ کرنے والے عاشقانِ رسول کے لئے اس کتاب میں کثیر مواد ہے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ کے شعبہ تراجم کے مَدَنی اسلامی بھائیوں نے اس کتاب کے ترجمے کا بارِگراں اپنے سرلیا۔واقفانِ حال سے مخفی نہیں کہ ترجمے کا کام تصنیف وتالیف سے قدرے مشکل ہوتا ہے۔ مستقل تصنیف کرنے والا شرعی احتیاطیں پیشِ نظر رکھتے ہوئے مواد کے انتخاب، ترتیب، حجم وغیرہ میں قدرے آزاد ہوتا ہے جبکہ مترجم کو صاحبِ کتاب کی ترجمانی کرنا ہوتی ہے۔ پھر اس دوران مقصودِ مصنف کو پیشِ نظر رکھنا، مصنف کے لکھے ہوئے عربی الفاظ کے مرادی معانی متعین کرنا، مطالب کی منتقلی کے لئے اردو زبان کے موزوں الفاظ کا انتخاب کرنا، خوّاص کے ذوقِ مطالعہ کو سلامت رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے مضامین کی تعبیر آسان الفاظ میں کرنا اور پھر جامعیت کو بھی پیشِ نظر رکھنا؛ ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے آسانی سے عہدہ برآ ہوا جا سکے۔

                اس کتاب کوآپ تک پہنچانے کے لئے المدینۃ العلمیۃکے مَدَنی اسلامی بھائیوں نے انتھک کوشش کی ہے اس میں جو بھی خوبیاں ہیں یقیناربِّ رحیم اور اس کے محبوب کریم عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّمکی عطاؤں ، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی عنایتوں اورشیخ طریقت وشریعت، امیر اہل سنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ کی شفقتوں کا نتیجہ ہیں اورجوخامیاں ہیں ان میں ہماری کوتاہ فہمی کودخل ہے۔

          ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل اُمورکاخیال رکھاگیاہے:

٭…کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والوں تک وہی کیفیت منتقل کی جائے جو اصل کتاب میں جلوے لٹارہی ہے۔

٭…عربی عنوانات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقل اردوعنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔

٭…اس کے علاوہ   (مفہومِ روایت کومدِ نظر رکھتے ہوئے)  کئی ایک ذیلی عنوانات کااضافہ بھی کیا گیا ہے۔

٭…آیات کا ترجمہ امامِ اہل ِ سنت مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے ترجمۂ قرآن  ’’ کنزالایمان  ‘‘ سے درج کیاگیا ہے۔

٭…احادیث کی تخریج اصل ماخذسے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورباقی حوالہ جات میں جوکتب دستیاب ہوسکیں ان سے تخریج کی گئی ہے۔

٭…دورانِ کمپوزنگ علاماتِ ترقیم کابھی خیا ل رکھا گیا ہے۔

٭…ترجمہ میں حتَّی الامکان آسان اور عام فہم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔

٭…اکثرجگہ مشکل الفاظ کے معانی ومطالب بریکٹ میں لکھ دئیے گئے ہیں ۔

٭…کئی الفاظ پراعراب لگا دئیے گئے ہیں ۔

٭… احادیثِ مبارکہ کا ترجمہ کرتے وقت مختلف مشاہیر اُردو مترجمین کی کاوشوں سے بھی رہنمائی لی گئی ہے۔

٭…بعض جگہ بطورِوضاحت یااحناف کامؤقف بیان کرنے کے لئے حاشیہ لگایاگیاہے۔

٭…کتاب کے آخر میں مأخذ ومراجع کی فہرست دے دی گئی ہے ۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ ہمیں  ’’ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش ‘‘  کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پرعمل اور مدنی قافلوں میں سفرکرنے کی توفیق عطا فرمائے اوردعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکودن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                                                                                                                                                                                                                                                شعبہ تراجِمِ کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ)

٭٭٭٭٭٭

 فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :  ’’ ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو،وہ یہ ہیں:   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا (۲) جادو کرنا (۳) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا (۴) یتیم کا مال کھانا  (۵) سود کھانا  (۶)  جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا اور (۷) سیدھی سادی، پاک دامن، مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ ‘‘   (صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ  تعالٰی ان الذین یأکلون اموال الیتامٰی…الخ،الحدیث: ۲۷۶۶،ص۲۲۲)

تعارفِ مُؤلِّف

نام ونسب :

                آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا نام نامی اسم گرامی احمد بن محمدبن محمد بن علی بن حجر الھیتمی السعدی الانصاری الشافعیعلیہ رحمۃ اللّٰہ الکافی ہے،قبیلہ سعدکی نسبت سے سعدی کہلاتے ہیں،آپرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی کنیت ابوالعباس اورشیخ الاسلام اور شہاب الدین کے لقب سے ملقب ہیں ،اپنے زمانے کے عظیم صوفی،محدِّث اورفَقیہ ہیں ۔

ولادت باسعادت :

                آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت ماہِ رجب المرجب  ۹۰۹؁ ھ مغربی مصرمیں ابوالھیتمنامی محلہ میں ہوئی،اسی نسبت سے آپ کو ہیتمی کہا جاتاہے۔بچپن میں ہی باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا پس آپ کی کفالت کی ذمہ داری امام شمس الدین بن ابی الحمائل رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاورامام شمس الدین الشناوی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے لے لی۔

 



Total Pages: 320

Go To