Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

( صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ، باب کراھۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ ، الحدیث:  ۴۷۲۰ ، ص ۱۰۰۵)

{3}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے،نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ 7ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔ ‘‘  صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ منے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ کون سی ہیں ؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو کرنا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ جان کو نا حق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا،جہاد سے پیٹھ پھیرکربھاگنااور پاک دامن سیدھی سادی مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ‘‘     ( صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ  تعالی،ان الذین یاکلونالخ،الحدیث: ۲۷۶۶،ص۲۲۳)

{4}…حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں رسول اکرم، شفیع  مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ کبیرہ گناہ 7ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی مؤمن کونا حق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا،میدانِ جہاد سے بھاگ جانا اور ہجرت کے بعداعرابی بن جانا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب الایمان ، باب فی الکبائر ، الحدیث:  ۳۹۰ ، ج ۱ ، ص ۲۹۴)

{5}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ 4شخص ایسے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  انہیں جنت میں داخل نہ کرے گا اور نہ ہی اس کی نعمتیں چکھائیگا:  (۱)  شراب کا عادی  (۲) سود کھانے والا (۳) ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور  (۴) والدین کا نافرمان۔ ‘‘   ( المستدرک ،کتاب البیوع ، باب ان اربی الربا عرض الرجل المسلم ، الحدیث:  ۲۳۰۷ ، ج ۲ ، ص ۳۳۸)

{6}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو خطوط حضرت سیدنا عمرو بن حزم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو دے کر اہل یمن کی طرف بھیجے ان میں یہ لکھاتھا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑے گناہ یہ ہیں :   (۱) شرک کرنا  (۲) ناحق مؤمن کو قتل کرنا  (۳) جنگ کے دن میدانِ جہاد سے بھاگنا  (۴) والدین کی نافرمانی کرنا  (۵) پاک دامن عورت پر تہمت لگانا (۶) جادو سیکھنا  (۷) سود کھانا اور  (۸) یتیم کا مال کھانا۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ،باب کتب النبی عَلَیْہِ السَّلَام،الحدیث: ۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۱)

{7}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ برورِقیامت کچھ لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے جن کے مونہوں سے آگ بھڑک رہی ہو گی۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ کون لوگ ہوں گے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تم نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں پڑھا:

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠ (۱۰)   (پ۴، النساء: ۱۰)  

ترجمۂ کنز الایمان :  وہ جو یتیموں کا مال نا حق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتاہے کہ بھڑکتے دھڑے  (آتش کدے ) میں جائیں گے۔  (مسند ابی یعلی الموصلی،حدیث: ابی برزۃ الاسلمی،الحدیث: ۷۴۰۳،ج۶،ص۲۷۲)

{8}…حدیثِ معراج میں شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن پر کچھ لوگ مقرر تھے جو ان کے جبڑوں کو چیرتے اور دوسرے آگ کے پتھر لے کر آتے اور ان کے مونہوں میں ڈال دیتے جو ان کی پیٹھوں سے جا نکلتے۔ ‘‘  میں نے دریافت کیا:  ’’ اے جبرئیل !  یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘  تو انہوں نے کہا :  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں ۔ ‘‘      (تفسیر ابن کثیر،سورۃ النسائ،تحت الآیۃ: ۱۰،ج۲،ص۱۹۵،مفہومًا)

{9}…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ میں نے معراج کی رات ایسی قوم دیکھی جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ایسے لوگ مقرر تھے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتے پھر ان کے مونہوں میں آگ کے پتھر ڈالتے جو ان کے پیچھے سے نکل جاتے۔ ‘‘  میں نے پوچھا:  ’’ اے جبرائیل  (عَلَیْہِ السَّلَام) ! یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘  تو انہوں نے بتایا:  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کامال ظلم سے کھاتے تھے۔ ‘‘

 (تفسیرقرطبی،الجزء الخامس،سورۃ النسائ،تحت الآیۃ: ۱۰،ج۳،ص۳۹)

تنبیہ:

                یہ بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کم یا زیادہ مال کھانے میں کوئی فرق نہیں اگرچہ ایک دانہ ہی ہو جیسا کہ کم تولنے اور کم ناپنے کے بیان میں گزر چکا ہے، اس کے اور غصب اور چوری کے درمیان اسی طرح فرق ہے جس طرح میں نے ان دونوں  (یعنی چوری اورغصب)  کے درمیان فرق کیا اور ناپ تول میں کمی کرنا بھی اسی میں داخل ہے کیونکہ یہ بھی یتیم کے مال میں تصرف کرنے پر قدرت دیتا ہے۔

                اگریتیم کا کم مال کھانے کو کبیرہ نہ قرار دیا جائے تو یہ زیادہ کھانے کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ اسے کوئی منع کرنے والا نہیں کیونکہ وہ یتیم کے تمام مال کا والی ہے، لہذا کم لینے پر بھی کبیرہ گناہ ہو نے کا حکم متعین ہو گا بخلاف چوری اور غصب کے اور اسی سے ان کے قول کا بھی رد ہو جاتا ہے جنہوں نے یہ گمان کیاکہ ’’ یتیم کے مال سے تھوڑا سا لینا صغیرہ ہے۔ ‘‘

یتیم کی کفالت اور اس پر شفقت کرنا اور بیواؤں کی پرورش کرنا

{10}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ‘‘  اور اپنی شہادت والی اور در میان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور انہیں کشادہ کیا۔

 ( صحیح البخاری ، کتاب الطلاق ، باب اللعا ن وقول اللہ  تعالی ( والذین یرمون ازواجھمالخ ، الحدیث:  ۵۳۰۴ ، ص ۴۵۸)

{11}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے ،رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنے یا دوسرے کے یتیم بچے کی پرورش کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ‘‘  اورراوی نے اپنی شہادت والی اور در میانی انگلی ملاکراشارہ فرمایا۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الزھد ، باب فضل الاحسان الی الارملۃ الخ ، ، الحدیث:  ۷۴۶۹، ص ۱۱۹۴