Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

آیتِ کریمہ کے چند الفاظ کی وضاحت:

                ظُلْم سے مراد یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یا اس حال میں کہ وہ ظالم ہیں اور حق کے ساتھ کھانا اس وعید سے خارج ہو گیا جیسے کتب فقہ میں مقرر کی گئی شروط کے مطابق والی کا کھانا۔

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عایشان ہے:

وَ  مَنْ  كَانَ  غَنِیًّا  فَلْیَسْتَعْفِفْۚ-وَ  مَنْ  كَانَ  فَقِیْرًا  فَلْیَاْكُلْ  بِالْمَعْرُوْفِؕ-  (پ۴، النساء: ۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے۔

                یعنی ضرورت کے مطابق لے یا قرض لے یا اپنے کام کی اُجرت کے مطابق یا اگر مجبور ہو تواور اس پر آسان ہو تو ادا کرے، ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ ولی اگر غنی ہو تو اس کے مال سے کچھ نہ لے اور اگر فقیر ہو اور وصیت کرنے والا ہو اور بچے کو تصرف سے روکے ہوئے مال کی دیکھ بھال سے اس کے کام میں خلل پڑے تو اس کے مال سے لے سکتا ہے اگرچہ قاضی نے فیصلہ نہ کیا ہو اور اس کی اُجرت اس کے کام اور عرف کے مطابق ہو گی جبکہ قاضی کچھ بھی نہیں لے سکتا۔

                باپ، دادا اور ماں جو کہ وصی ہوں ان کے لئے بھی بقدرِ ضرورت ہے کیونکہ بچے کے مال میں ان کا نفقہ واجب ہے، اگر باپ یا دادا بچے کے مال کی دیکھ بھال نہ کر سکیں تو قاضی اس کے لئے قیمت مقرر کرے یا اسے مقرر کر کے اس کے لئے بچے کے مال میں سے اُجرت مقرر کر دے تا کہ کوئی احسان نہ ہو لیکن اس کے لئے قاضی سے مطالبہ جائز نہیں اگرچہ فقیر ہو۔

                ولی کے لئے یتیم کے مال کواپنے مال سے ملانا جائز نہیں اور مخلوط مال سے مہمان نوازی کرنا بھی جائز نہیں بشرطیکہ اس میں کوئی مصلحت ہو وہ یہ کہ اس میں اضافہ ہو جائے بجائے اس کے کہ وہ تنہا کھاتا اور ضیافت یتیم کے خاص حصے سے زیادہ نہ ہو۔

                پیٹ میں آگ بھرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے پیٹ ایک برتن کی مانند ہیں جو کہ آگ سے بھرے جاتے ہیں ، یہ یا تو حقیقتاً اسی طرح ہو گا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کے لئے ایک ایسی آگ تخلیق فرمائے گا جس کو وہ کھائیں گے، یا پھر مجازی طور پر مسبب بول کرسبب مرادلیاہے، کیونکہ سبب مسبب کی جانب لے جانے والا ہوتاہے، بہرحال  اس سے مراد کسی بھی صورت میں مال کا ضائع کرنا، کیونکہ یتیم کا نقصان خواہ اس کے مال کو کھا کر یا کسی اور ذریعہ سے ضائع کر کے کیا جائے ،کوئی فرق نہیں رکھتا۔

                یہاں اس آیت ِمبارکہ میں خاص طور پر صرف کھانے کا ہی تذکرہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ اس زمانے میں عام طور پر لوگوں کے اموال جانور ہوتے تھے جن کا گوشت کھایا جاتا اور دودھ پیا جاتا تھا یا اس لئے اس سے مقصود دراصل تصرفات ہیں ۔ علامہ ابن دقیق العید علیہ رحمۃاللہ  الوحید کا قول ہے:  ’’ یتیم کا مال کھانا برے خاتمے کی طرف لے جاتا ہے۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                لہٰذاجب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملانے سے رک گئے یہاں تک کہ یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:

وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ-  (پ۲، البقرۃ: ۲۲۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر اپناان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔

                اس سے گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ آیتِ مبارکہ اس گذشتہ آیتِ مبارکہ کی ناسخ ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں کیونکہ اس میں تو ظلم کے طریقہ سے مال کھانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے لہذا یہ اس کی ناسخ کیسے ہو سکتی ہے، بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ ان کااختلاف ممنوع، شدید وعید اور عذاب والا تھا اور برے انجام کی علامت تھا اور ظلم کے طور پر جو مال لیا جائے وہ عذاب کا سبب ہے ورنہ یہ عظیم نیکی ہے،لہذا پہلی آیتِ کریمہ پہلی شق کے بارے میں جبکہ دوسری آیتِ کریمہ دوسری شق کے بارے میں ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں کو اس آیت میں جمع کر دیا ہے:

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗۚ-  (پ۸،الانعام: ۱۵۲)

ترجمۂ کنز الایمان : اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے جب تک وہ اپنی جوانی کوپہنچے۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یتیموں کے حق کی تائید فرماتے ہوئے اپنے اس فرمانِ عالیشان سے متنبہ فرمایا:

وَ  لْیَخْشَ   الَّذِیْنَ  لَوْ  تَرَكُوْا  مِنْ  خَلْفِهِمْ  ذُرِّیَّةً  ضِعٰفًا  خَافُوْا  عَلَیْهِمْ   ۪-  فَلْیَتَّقُوا  اللّٰهَ  وَ  لْیَقُوْلُوْا  قَوْلًا  سَدِیْدًا (۹)   (پ۴، النساء: ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ  سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔

                آیتِ کریمہ میں حکم دیا جا رہا ہے کہ جس کی گود میں یتیم بچہ ہو وہ اس سے بات چیت بھی نرم لہجے میں کرے لہذا اسے اے بیٹے کہہ کر پکارے جس طرح اپنی اولاد کو پکارتا ہے اور اس کے ساتھ نیکی اوراحسان کرے اور اس کے مال کا خیال رکھے جس طرح اس پر واجب ہے کہ اس کے بعد اس کے مال اور اس کی اولاد کاخیال رکھے کیونکہ بدلہ عمل کی جنس سے ہوتا ہے:

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ (۳)   (پ۱، الفاتحہ: ۴)

ترجمۂ کنز الایمان : روز جزاء کا مالک۔

                جیسا کرو گے تمہارے ساتھ ویسا ہی کیا جائے گا اور انسان امین ہے اور غیر کے مال و اولاد میں تصرف کرنے والا ہے اور جب اسے موت آئے گی تومال، اولاد، اہل و عیال اور تمام تعلقات کے بار ے میں جیسا اس نے کیا ہو گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ایسا ہی بدلہ دے گا اگر اچھا کیا تو اچھی جزاء اور اگر برا کیا تو بری جزاء ملے گی،پس عقل مند کو اپنی اولاد اور مال کے بارے میں ڈرنا چاہئے بشرطیکہ اسے اپنے دین پر خوف نہ ہو،اپنی پرورش میں پلنے والے یتیم بچوں پر اسی طرح اپنامال خرچ کرے جس طرح کہ اگر اس کی اولاد یتیم ہوتی تو ان کے والی پر مال خرچ کرنا ضروری ہوتا۔

{1}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  مُعظَّم ہے: اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی بھیجی:   ’’ اے داؤد (علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) ! یتیم کے لئے رحیم باپ کی طرح ہوجااوربیوہ کے لئے شفیق خاوند کی طرح ہو جا۔ ‘‘

                جان لو!  جیسی فصل کاشت کرو گے ایسی ہی کاٹو گے،کیونکہ ہو سکتا ہے تومرجائے اوریتیم بچہ اور بیوہ عورت چھوڑ جائے۔یتیموں کے مالوں کو کھانے اور اس میں ظلم کرنے کے بارے میں کئی احادیثِ مبارکہ ہیں ، جن میں لوگوں کو اس ہلاک کرنے والی فحش حرکت سے ڈرانے کے لئے شدید وعید ذکر کی گئی ہے، ان میں سے چندیہ ہیں :

یتیم کا مال کھانے پر وعیدیں :

{2}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اے ابو ذر!  میں تجھے کمزور دیکھتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں ، 2آدمیوں کا کبھی حاکم نہ بننااوریتیم کے مال کی جانب مائل نہ ہونا۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To